ہٹلر کے تاریخی پہاڑی ٹھکانے میں خوفناک آگ، 200 فائر فائٹرز کی کارروائی، ایک مشتبہ شخص حراست میں
جرمنی میں نازی ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر کے سابق پہاڑی ٹھکانے ’’ایگلز نیسٹ‘‘ میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو عارضی طور پر حراست میں لے لیا۔ واقعے کے بعد تقریباً 200 فائر فائٹرز اور ہنگامی امدادی کارکن آگ بجھانے کے لیے پہنچ گئے حکام کے مطابق آگ سے کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں
یہ تاریخی عمارت جرمنی کی جنوبی ریاست باویریا میں اوبرزبرگ پہاڑی علاقے میں واقع ہے جرمن زبان میں اسے ’’کیلسٹائن ہاؤس‘‘ کہا جاتا ہے، جبکہ انگریزی میں یہ ’’ایگلز نیسٹ‘‘ یعنی عقاب کا گھونسلا کے نام سے مشہور ہے یہ عمارت سطح سمندر سے تقریباً 1,834 میٹر کی بلندی پر واقع ہے، جس کی وجہ سے آگ بجھانے والے عملے کو جائے وقوعہ تک پہنچنے اور کارروائی کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا
پولیس کے مطابق جمعہ کی رات عمارت میں دھوئیں کا الارم بجنے کے بعد ہنگامی اداروں کو اطلاع دی گئی جب فائر فائٹرز موقع پر پہنچے تو انہیں دور سے ہی شعلے بلند ہوتے دکھائی دیے جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ عمارت آگ کی لپیٹ میں آ چکی تھی دشوار گزار پہاڑی راستے اور بلندی کے باعث امدادی کارروائی معمول کے مقابلے میں زیادہ مشکل ثابت ہوئی حکام کے مطابق عمارت اور اس کے قریبی علاقے میں داخل ہونے کے لیے خصوصی حفاظتی آلات اور سانس لینے کے آلات کی ضرورت پیش آئی
جرمن پولیس نے بتایا کہ واقعے کے سلسلے میں ایک مشتبہ شخص کو عارضی طور پر حراست میں لیا گیا ہے، تاہم ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ اس شخص کا آگ لگنے سے کوئی تعلق ہے جرمن ذرائع ابلاغ میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی ہو سکتی ہے، لیکن پولیس نے تاحال اس بارے میں کوئی حتمی نتیجہ جاری نہیں کیا۔ واقعے کے پیچھے ممکنہ محرکات بھی واضح نہیں ہو سکے
یہ عمارت 1937 اور 1938 کے درمیان تعمیر کی گئی تھی اور اسے نازی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں اور ان کے مہمانوں کے لیے ایک پہاڑی مہمان خانے کے طور پر تیار کیا گیا تھا ایڈولف ہٹلر بھی یہاں آیا کرتا تھا، تاہم عام تصور کے برعکس وہ اس عمارت میں نسبتاً کم وقت گزارتا تھا اس کا قریبی موسم گرما کا ٹھکانہ ’’برگ ہوف‘‘ ایک الگ عمارت تھی، جسے ایگلز نیسٹ کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے
ہٹلر کی قیادت میں نازی حکومت نے دوسری عالمی جنگ کے دوران یورپ میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت، نسلی ظلم اور تباہی برپا کی ہولوکاسٹ کے دوران 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کیا گیا، جبکہ روما برادری، معذور افراد، سیاسی مخالفین اور دیگر گروہوں کو بھی شدید ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا اسی وجہ سے ہٹلر سے وابستہ تاریخی عمارتیں آج بھی جرمنی کی تاریخ کے ایک سیاہ دور کی یاد دلاتی ہیں
دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد ایگلز نیسٹ کی عمارت محفوظ رہی 1952 سے یہاں ایک ریستوران اور سیاحوں کے لیے تاریخی نمائش قائم ہے، جہاں آنے والوں کو اس مقام اور نازی دور سے متعلق معلومات فراہم کی جاتی ہیں یہ جگہ اپنی بلند پہاڑی مقام اور قدرتی مناظر کی وجہ سے بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے
حالیہ آتش زدگی کے بعد عمارت کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں پولیس کی تحقیقات میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آگ حادثاتی طور پر لگی یا اس کے پیچھے کسی شخص کا ہاتھ تھا۔ حکام کی جانب سے مشتبہ شخص کے کردار اور آگ لگنے کی اصل وجہ کی تصدیق ہونے کے بعد ہی واقعے کی مکمل تصویر سامنے آ سکے گی





