Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ممدانی کی مقبولیت کا سہارا، ہوکل کی انتخابی مہم میں مہنگائی اور ٹیکس مرکزی مہم کا حصہ بن گئے، بروس بلک مین بھی نیویارک کے گلی کوچوں میں ساتھ ساتھ مہم چلاتے نظر آئے

ممدانی کی مقبولیت کا سہارا، ہوکل کی انتخابی مہم میں مہنگائی اور ٹیکس مرکزی مہم کا حصہ بن گئے، بروس بلک مین بھی نیویارک کے گلی کوچوں میں ساتھ ساتھ مہم چلاتے نظر آئے

نیویارک میں گورنر کیتھی ہوکل اور ان کے ریپبلکن حریف بروس بلیک مین نے جمعہ کو نیویارک سٹی کے مختلف علاقوں میں انتخابی مہم چلائی،ہوکل نے میئر زوہران ممدانی کے ساتھ بروکلین کے میک کیرن پارک میں انتخابی سرگرمی میں حصہ لیا، جہاں حامیوں کی بڑی تعداد نے دونوں رہنماؤں کا استقبال کیا،مہم میں مہنگائی، ٹیکسوں کے بوجھ، بچوں کی نگہداشت کے اخراجات اور عوامی تحفظ کو نمایاں اہمیت دی گئی
ممدانی کے ساتھ انتخابی مہم چلانے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ہوکل نے کہا کہ جو لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ وہ ممدانی کے ساتھ مہم کیوں چلا رہی ہیں، انہیں یہ جاننا چاہیے کہ ممدانی ریاست بھر میں بروس بلیک مین سے زیادہ مقبول ہیں،ان کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیموکریٹس انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں ممدانی کی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ووٹروں، بالخصوص نوجوانوں، کو انتخابی عمل میں شریک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
ہوکل نے کہا کہ نیویارک کے شہری مہینے کے اختتام پر بل دیکھتے ہیں تو انہیں اخراجات کے دباؤ اور بڑھتی ہوئی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے،ان کے مطابق ان کی انتظامیہ بچوں کی نگہداشت کے اخراجات کم کرنے کے لیے مختلف پروگراموں میں سرمایہ کاری کر رہی ہے،ممدانی نے بھی بلیک مین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسیاں محنت کش خاندانوں کی زندگی مزید مہنگی اور مشکل بنا دیں گی
دوسری جانب بلیک مین نے مین ہیٹن کے چائنا ٹاؤن میں کاروباری افراد سے ملاقاتیں کیں اور دعویٰ کیا کہ نیویارک کے شہری بلند ٹیکسوں اور بھیڑ کے باعث عائد ہونے والے اضافی اخراجات سے پریشان ہیں،انہوں نے کہا کہ لوگ ٹیکسوں کے بوجھ اور کنجیشن پرائسنگ سے نجات چاہتے ہیں،بلیک مین نے مکانوں اور توانائی کے بڑھتے اخراجات کا ذمہ دار بھی ہوکل کی پالیسیوں کو قرار دیا اور کہا کہ کاروباری اداروں کے بجلی اور یوٹیلیٹی بل غیر معمولی حد تک بڑھ چکے ہیں
بلیک مین نے ممدانی پر عوامی تحفظ کو ترجیح نہ دینے کا الزام بھی عائد کیا،ان کا دعویٰ تھا کہ ہوکل نے نیویارک سٹی کو 5 ارب ڈالر فراہم کیے، لیکن اس کے باوجود نئے پولیس اہلکاروں کی بھرتی کے لیے اضافی اخراجات نہیں کیے جا رہے،دوسری طرف ہوکل اور ممدانی بچوں کی نگہداشت، رہائشی اخراجات اور محنت کش خاندانوں کو مالی ریلیف دینے کے اقدامات کو اپنی انتخابی مہم کا اہم حصہ بنا رہے ہیں
انتخابی مہم کے اس مرحلے پر ڈیموکریٹس کے لیے نوجوان ووٹروں کو بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں تک لانا اہم ہو گیا ہے،اے اے آر پی اور گوتھم پولنگ اینڈ اینالیٹکس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق اس سال عام انتخابات میں 50 سال سے زیادہ عمر کے ووٹروں کی تعداد نوجوان ووٹروں سے تقریباً 13 لاکھ زیادہ ہو سکتی ہے،اس صورت حال میں ممدانی کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانے کی ہوکل کی حکمت عملی خاص اہمیت رکھتی ہے، تاہم ریپبلکن امیدوار بھی مہنگائی، ٹیکسوں اور جرائم کے معاملات پر ووٹروں کی ناراضگی کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
نیویارک میں ارلی ووٹنگ کا آغاز 24 اکتوبر سے ہو رہا ہے، جبکہ عام انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے،گورنر کی نشست کے لیے مقابلے کے آخری مرحلے میں دونوں امیدواروں کی توجہ اب اس بات پر ہے کہ کون مہنگائی سے پریشان ووٹروں کو اپنی پالیسیوں پر زیادہ اعتماد دلا سکتا ہے اور اپنے حامیوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے متحرک کر سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید