اگنی ویر منصوبہ: فوج کو جوان بنانے کی اصلاح یا تجربہ کار نفری کم کرنے کا خطرہ، مودی حکومت بھارتی فوج کمزور کرنے کی حکمت عملی پر کام کرہی ہے ؟
دہلی:بھارت میں نریندر مودی حکومت کے فوج میں اگنی پتھ منصوبے پر ایک بار پھر بحث تیز ہو رہی ہے،چار سال کی فوجی ملازمت، ہر بھرتی گروپ کے صرف 25 فیصد جوانوں کو مستقل فوج میں برقرار رکھنے کی پالیسی اور باقی 75 فیصد کی سروس ختم ہونے کے خدشات نے فوج کی جنگی تیاری، تجربہ کار نفری اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں،اسی دوران سرکاری اعداد و شمار میں فوجیوں کی کمی، پرانے دفاعی سازوسامان سے متعلق پارلیمانی خدشات اور چین کی فوجی جدیدکاری پر بھارتی سرحدی فورس کے سربراہ کے تازہ بیان نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے،اور ان مباحث میں اس خدشہ کا اظہار بھی کیا جارہا ہے مودی حکومت مبینہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت بھارتی فوج کو کمزور کررہی ہے
اگنی پتھ منصوبے کا اعلان جون 2022 میں کیا گیا تھا،حکومت نے اس کا مقصد مسلح افواج کی عمر کا اوسط کم کرنا، فوج کو زیادہ جوان اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا اور دفاعی اخراجات میں اصلاحات بتایا تھا،اس منصوبے کے تحت بھرتی ہونے والے جوانوں کو اگنی ویر کہا جاتا ہے،ان کی ملازمت چار سال کے لیے ہوتی ہے اور اس مدت کے اختتام پر ہر بھرتی گروپ کے زیادہ سے زیادہ 25 فیصد اہلکاروں کو مستقل فوج میں شامل ہونے کا موقع دیا جاتا ہے،باقی اہلکاروں کو چار سال کی سروس مکمل کرنے کے بعد فوج چھوڑنا ہوتی ہے،یہ 75 فیصد جوانوں کی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ منصوبے کے بنیادی ڈھانچے سے مکمل الٹ ہے ، منصوبے کے آغاز پر بتایا گیا تھا پچھتر فیصد کو ریگولر فوج کا حصہ بنایا جائے گا جبکہ پچیس فیصد کو چار سال مکمل ہونے پر رضاکارانہ ریٹائرمنٹ دیدی جائے گی
پالیسی کے امتحان کے پہلے مرحلے میں بھارتی بحریہ کے ابتدائی اگنی ویر گروپ کی چار سالہ مدت نومبر 2026 میں مکمل ہونے والی ہے، جبکہ فوج کے ابتدائی بڑے گروپوں کی مدت دسمبر 2026 اور جنوری 2027 کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے، جس میں تیس ہزار سے زائد جوان ریٹائرڈ ہو جائیں گے
دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی فوجی اداروں کے اندر بھی مستقل ملازمت کے لیے اگنی ویروں کا تناسب بڑھانے کی ضرورت پر غور ہو رہا ہے،انڈین ایکسپریس کی جولائی 2026 کی رپورٹ کے مطابق، مسلح افواج چاہتی ہیں کہ چار سال مکمل کرنے والے جوانوں میں سے زیادہ افراد کو برقرار رکھنے کے امکانات دیکھے جائیں، کیونکہ جدید ہتھیاروں اور نئے نظاموں کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے تجربہ کار نفری ضروری ہے،تاہم، اکتوبر میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، حکومت نے ابھی 25 فیصد کی موجودہ حد تبدیل نہیں کی؛ پہلے ابتدائی گروپوں کی رخصتی، مستقل بھرتی کے انتخاب اور سروس چھوڑنے والے جوانوں کی آبادکاری کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا
اس معاملے پر ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل کے انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ فوج کی اعلیٰ کمان اگنی پتھ منصوبے کے بارے میں تحفظات رکھتی تھی، لیکن حاضر سروس افسران کے لیے سویلین حکومت کے سامنے کھل کر اختلاف کرنا مشکل تھا،ان کے بیان کے مطابق، اس وقت کے آرمی چیف نے کمانڈروں کو بتایا تھا کہ وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے، اس لیے اسے قبول کرنا ہوگا،
انٹرویو میں فوجی سازوسامان، خریداری، رسد اور کیٹرنگ کے شعبوں میں مبینہ بدعنوانی اور بنیادی ضروریات کی کمی کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں ، ہیلمٹ اور رائفلوں سمیت پرانے سازوسامان کا ذکر کرتے ہوئے افسر نے فوج کی جدیدکاری پر سوال اٹھائے،لیکن دفاعی سازوسامان کی حالت اور خریداری میں تاخیر کے بارے میں پارلیمانی ریکارڈ میں پہلے سے بعض اہم مسائل درج ہیں،پارلیمانی تحقیق کا جائزہ لینے والے ادارے پی آر ایس کے مطابق، دفاعی کمیٹی کی رپورٹ میں بھارتی فوج کے سازوسامان کا صرف 15 فیصد جدید ترین نسل کا بتایا گیا، جبکہ 45 فیصد پرانے نظاموں پر مشتمل تھا،یہ اعداد فوج کے مجموعی سازوسامان سے متعلق ہیں، ہر رائفل یا ہیلمٹ کی عمر کا الگ حساب نہیں
فوجیوں کی مجموعی تعداد بھی ایک اہم مسئلہ ہے،انڈین ایکسپریس نے نومبر 2025 میں رپورٹ کیا تھا کہ بھارتی فوج میں تقریباً 1 لاکھ 80 ہزار اہلکاروں کی کمی تھی،کووڈ کے دوران 2020 اور 2021 میں فوجی بھرتی رکی رہی، جبکہ اس عرصے میں ہر سال تقریباً 60 ہزار سے 65 ہزار فوجی ریٹائر ہوتے رہے،اخبار کے مطابق، اگنی پتھ منصوبے کے تحت بھرتی ہونے والے ابتدائی گروپوں کی سروس ختم ہونے سے نفری کی کمی کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے، اسی لیے فوج سالانہ اگنی ویر بھرتیوں کی تعداد بڑھانے پر غور کر رہی تھی،یہ اعداد پرانے ہیں اور انہیں اکتوبر 2026 کی تازہ ترین نفری کا حتمی شمار نہیں سمجھنا چاہیے، لیکن یہ واضح کرتے ہیں کہ بھرتی اور ریٹائرمنٹ کا توازن فوج کے لیے پہلے ہی ایک چیلنج رہا ہے
اگنی پتھ منصوبے کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چار سال بعد سروس چھوڑنے والے نوجوان تربیت، نظم و ضبط اور تکنیکی مہارت کے ساتھ شہری زندگی میں واپس آئیں گے،حکومت نے ان کے لیے نیم فوجی اداروں اور آسام رائفلز میں بھرتی کے مواقع بھی متعارف کرائے ہیں،اگست 2026 میں پارلیمان کو بتایا گیا تھا کہ مرکزی مسلح پولیس فورسز اور آسام رائفلز میں کانسٹیبل اور رائفل مین کی آسامیوں کا 50 فیصد سابق اگنی ویروں کے لیے مختص ہے،تاہم مخصوص آسامیوں کے لیے اہلیت، بھرتی کے مراحل اور دستیابی اپنی جگہ اہم ہیں،اس کو ہر ریٹائر ہونے والے نوجوان کے لیے فوری ملازمت کی ضمانت نہیں کہا جا سکتا
اسی بحث کے دوران بھارت تبت سرحدی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل شترو جیت سنگھ کپور کا 22 اکتوبر کو دیا گیا بیان بھی توجہ طلب ہے،انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش میں بھارتی اور چینی فورسز کے درمیان مختلف مقامات پر آمنے سامنے کی صورت حال جاری ہے،کپور نے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی جدیدکاری اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صرف روایتی جنگی طریقوں سے چین کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا،ان کے مطابق، ڈرون اور ڈرون شکن نظام جدید جنگ میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکے ہیں، اسی لیے سرحدی فورس اپنی جدیدکاری پر سرمایہ کاری کر رہی ہے
کپور کا بیان اس لیے اہم ہے کہ یہ محض کسی سیاسی مخالف کا الزام نہیں، بلکہ سرحد پر تعینات فورس کے سربراہ کی جانب سے جدید جنگی ٹیکنالوجی کی اہمیت کا اعتراف ہے،البتہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ بھارتی فوج چین کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں،ان کے بیان کا واضح نکتہ یہ تھا کہ چین نے اپنی فوج کو جدید بنانے میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے اور بھارت کو ڈرون، ڈرون شکن نظام، خصوصی تربیت اور جدید دفاعی ڈھانچے پر توجہ بڑھانا ہوگی
اگنی ویر نظام پر اصل سوال یہ ہے کہ کیا چار سال کی سروس کے بعد 75 فیصد تربیت یافتہ جوانوں کو فوج سے باہر بھیجنے کے باوجود مستقل فوج میں مطلوبہ تجربہ، یونٹوں کا باہمی اعتماد اور جنگی مہارت برقرار رکھی جا سکتی ہے؟ ناقدین کے نزدیک مختصر مدت کی سروس سے تجربہ کار نفری کا تسلسل متاثر ہونے اور نوجوانوں کی ملازمت کے مستقبل میں غیر یقینی پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ حکومت کا مؤقف اس کے برعکس ہے کہ اس نظام سے فوج کی عمر کم ہوگی، نئی ٹیکنالوجی اپنانے کی صلاحیت بڑھے گی اور مستقل ملازمت کے اخراجات قابو میں رہیں گے،اس پالیسی کا حقیقی نتیجہ ابتدائی گروپوں کی رخصتی، دوبارہ بھرتی، تربیت اور جنگی تیاری کے اعداد سامنے آنے کے بعد زیادہ واضح ہوگا
جب فوج کو چین جیسے حریف کی جدیدکاری کا مقابلہ کرنا ہے اور پہلے ہی نفری کی کمی اور سازوسامان کی جدیدکاری کے مسائل موجود ہیں، تو کیا چار سالہ سروس اور صرف 25 فیصد جوانوں کو مستقل رکھنے کا نظام فوج کی طویل مدتی ضروریات سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے؟ اس سوال کا جواب محض سیاسی بیانات سے نہیں، بلکہ فوج کی عملی کارکردگی، مستقل نفری، تربیت کے معیار، سازوسامان اور اگنی ویروں کی شہری زندگی میں آبادکاری کے نتائج سے ملے گا، بھارتی فوجیوں کے ایک گروپ نے ایک وڈیو کے ذریعے اگنی ویر جوانوں کی پچھتر فیصد تعداد کو چار سال بعد ریٹائرڈ کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے احتجاجی لہجے میں کہا ہے ، اتنی بڑی تعداد میں ہر چار سال بعد جوانوں کو بیروزگار کرکے نہ صرف فوج کو کمزور کیا جائے گا بلکہ اس امر کا خدشہ بھی ہے کہ فوجی تربیت یافتہ جوان بے روزگاری سے تنگ آکر کسی دھشتگرد گروہ کے ہتھے بھی چڑھ سکتے ہیں ، انکا کہنا تھا چار سال بعد ریٹائرڈ ہونے والے جوانوں کو گیارہ لاکھ روپے دیکر کہا جارہا ہے وہ اس رقم سے اپنا کاروبار کریں جبکہ آج کے دور میں گیارہ لاکھ سے اول تو کاروبار ممکن نہیں پھر اگر یہ رقم کاروبار پر لگا بھی دی جائے تو وہ اپنے خاندان اور خود کی فوری کفالت کیسے کریں گے





