کارنی کا ٹرمپ انتظامیہ کو دوٹوک پیغام، امریکا سے تجارتی معاہدے کے لیے نئی حکومت کا انتظار بھی کر سکتے ہیں
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کے معاملے پر واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں اور اگر ضروری ہوا تو وہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد آنے والی نئی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کا انتظار بھی کر سکتی ہے کارنی نے کہا کہ اگر امریکا سنجیدگی سے مذاکرات کے لیے تیار ہو تو معاہدے پر آج ہی دستخط ہو سکتے ہیں، لیکن کینیڈا کے لیے معاہدے کی تاریخ سے زیادہ اس کی شرائط اہم ہیں
کارنی نے یہ بات 23 اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم معاہدہ ایسا ہونا چاہیے جو کینیڈین کارکنوں، خاندانوں اور کاروباری اداروں کے مفادات کا تحفظ کرے انہوں نے واضح کیا کہ اگر مناسب معاہدے کے لیے کئی ماہ انتظار کرنا پڑا یا امریکا میں دوسری انتظامیہ آنے تک معاملہ مؤخر کرنا پڑا تو کینیڈا ایسا کرنے کے لیے بھی تیار ہے
کارنی کے مطابق، اگر امریکی فریق مذاکرات میں سنجیدگی دکھائے تو معاہدہ اسی دوپہر طے پا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ کینیڈا کو معاہدے کے وقت کی کوئی جلدی نہیں، کیونکہ اصل مقصد ایسا تجارتی سمجھوتا حاصل کرنا ہے جو دونوں ملکوں کے لیے فائدہ مند ہو اور کینیڈا کے معاشی مفادات کو نقصان نہ پہنچائے
امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات رواں سال اگست میں اس وقت تعطل کا شکار ہوئے جب کارنی حکومت نے واشنگٹن کی جانب سے آخری مرحلے میں پیش کی گئی بعض شرائط کو غیر منصفانہ اور معاشی طور پر نقصان دہ قرار دیا اس سے پہلے مذاکرات کا مقصد امریکی ٹیرف میں کمی اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو زیادہ مستحکم بنانا تھا مذاکرات ختم ہونے کے بعد تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور دونوں جانب سے مختلف مصنوعات پر محصولات عائد کیے گئے
امریکی صدر ٹرمپ نے کینیڈین مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کیے ہیں، جن میں بعض صنعتی مصنوعات پر 50 فیصد تک محصولات شامل ہیں ان اقدامات سے کینیڈا کی اسٹیل، ایلومینیم اور دیگر برآمدی صنعتیں متاثر ہوئی ہیں کینیڈا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ امریکی منڈی تک رسائی برقرار رکھنے کی خواہش مند ہے، لیکن ایسا معاہدہ قبول نہیں کرے گی جس سے ملکی صنعتوں، ملازمتوں اور خودمختاری پر منفی اثرات پڑیں
کارنی نے یہ بھی واضح کیا کہ کینیڈا امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ملک کی معاشی ترقی کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانا بھی ضروری ہے ان کا ترکی کا دورہ اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت کینیڈا اپنی معیشت کا امریکا پر حد سے زیادہ انحصار کم کرنا چاہتا ہے حکومت یورپ اور دیگر خطوں کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات مضبوط بنانے پر بھی توجہ دے رہی ہے
امریکا کینیڈا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان طویل عرصے تک تجارتی تنازع جاری رہنے سے کاروباری اداروں، کارکنوں اور صارفین کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے تاہم، کارنی حکومت کا مؤقف ہے کہ صرف اسی وجہ سے ایسا معاہدہ قبول نہیں کیا جا سکتا جو کینیڈا کے لیے غیر منصفانہ ہو
کارنی نے کینیڈا کی قومی خودمختاری کے معاملے پر بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کبھی امریکا کی 51ویں ریاست نہیں بنے گا اور اپنے راستے پر آگے بڑھے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ متعدد مواقع پر کینیڈا کو امریکا میں ضم کرنے کی بات کر چکے ہیں
تجارتی معاہدے کے معاملے پر کارنی کا تازہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اوٹاوا فوری سمجھوتے کے بجائے طویل مدتی معاشی استحکام کو ترجیح دے رہا ہے اگر موجودہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو معاملہ اگلی انتظامیہ تک جا سکتا ہے، تاہم اس وقت کسی نئے معاہدے کی تاریخ یا حتمی شرائط طے نہیں ہوئی ہیں





