ٹرمپ کا کینیڈا کی بعض اشیا پر 50 فیصد ٹیرف ختم کرنے کا اعلان، متعدد دوسری مصنوعات پر نئی ڈیوٹی عائد
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد کی جانے والی بعض اشیا پر عائد 50 فیصد ٹیرف ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں بعض کاروباری شعبوں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے تاہم، اس فیصلے کو کینیڈا پر مجموعی ٹیرف پالیسی میں مکمل نرمی قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ واشنگٹن نے کچھ مصنوعات کو فہرست سے نکالنے کے ساتھ دوسری اشیا کو بھی ٹیرف کے دائرے میں شامل کیا ہے
وائٹ ہاؤس کے مطابق نئی تبدیلیاں 30 اکتوبر سے نافذ ہوں گی اس فیصلے میں پلائی وُڈ کی بعض اقسام، کاغذی مصنوعات، مخصوص صنعتی مشینری، ریفریجریشن کا سامان اور پیکنگ کے لیے استعمال ہونے والے ڈبوں اور کریٹس سمیت بعض مصنوعات کو 50 فیصد ٹیرف سے مستثنیٰ کیا گیا ہے تازہ اور خشک سمندری گھاس کی بعض اقسام بھی اس فہرست میں شامل ہیں
امریکی حکام نے اس کے ساتھ بعض نئی مصنوعات کو بھی ٹیرف کی فہرست میں شامل کیا ہے ان میں کوکو پاؤڈر، قالین، شیمپو، ایئر کنڈیشنر، بعض والوز اور فضلے سے متعلق مصنوعات شامل ہیں اس طرح بعض کینیڈین برآمد کنندگان کو ریلیف ملے گا، جبکہ دوسری مصنوعات بنانے اور امریکا بھیجنے والے کاروباروں پر 50 فیصد ڈیوٹی کا دباؤ برقرار رہے گا یا بڑھ سکتا ہے
اس فیصلے کے پیچھے امریکی ریاست مین کے کاروباری مفادات بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں ریاست کی ری پبلکن سینیٹر سوزن کولنز نے کہا تھا کہ انہوں نے امریکی حکومت سے کینیڈین مصنوعات پر ٹیرف میں چھوٹ دینے کی درخواست کی، کیونکہ وہاں کے کسان اور کاروباری ادارے کینیڈا سے آنے والی مخصوص مشینری، پیکنگ کے سامان اور دیگر اشیا پر انحصار کرتے ہیں مین میں بلیو بیری، آلو، سیب اور سمندری گھاس کی پیداوار سے وابستہ کاروبار ان تبدیلیوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں سینیٹر کولنز کو دوبارہ انتخاب میں سخت مقابلے کا سامنا ہے بعض سیاسی تجزیہ کاروں نے ٹیرف میں اس رعایت کو انتخابی سیاست سے جوڑا ہے، کیونکہ کینیڈا سے تجارت پر انحصار کرنے والے امریکی کاروباروں کو اضافی محصولات کے باعث اخراجات میں اضافے کا سامنا رہا ہے تاہم، یہ تجزیہ کاروں کی رائے ہے، حکومت کی جانب سے فیصلے کی واحد وجہ کے طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی
کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی تنازع اس سال اگست میں اس وقت مزید بڑھ گیا تھا جب تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا کی تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر مالیت کی مصنوعات پر 50 فیصد تک اضافی ٹیرف نافذ کیے امریکی حکومت نے اس اقدام کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ کینیڈا کی بعض تجارتی پالیسیوں سے امریکی کاروباروں کو نقصان پہنچ رہا ہے کینیڈا نے جواب میں امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کیے، جس سے دونوں ملکوں کے کاروباری تعلقات مزید متاثر ہوئے
کینیڈا کے تجارتی امور کے وزیر ڈومینک لی بلان کے دفتر نے کہا ہے کہ حکومت امریکی ٹیرف میں تازہ تبدیلیوں کا جائزہ لے گی۔ اوٹاوا کا کہنا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے لیے زیادہ فائدہ مند تجارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے نیک نیتی سے بات چیت کے لیے تیار ہے تاہم، ابھی تک اس اعلان کو دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تجارتی معاہدے پر اتفاق نہیں سمجھا جا سکتا
ان ٹیرف کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ امریکی درآمد کنندگان محصولات ادا کرتے ہیں، اگرچہ اضافی لاگت کا کچھ حصہ زیادہ قیمتوں کی صورت میں صارفین تک پہنچ سکتا ہے اسی لیے کینیڈین مصنوعات پر سخت محصولات امریکی کاروباری اداروں اور خریداروں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں، خصوصاً ان شعبوں میں جہاں فوری طور پر متبادل سپلائر تلاش کرنا مشکل ہو
تازہ فیصلے سے بعض کینیڈین صنعتوں کو 30 اکتوبر سے ریلیف مل سکتا ہے، لیکن مجموعی تجارتی تنازع ختم نہیں ہوا کینیڈا کے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ آئندہ مذاکرات میں مزید مصنوعات کو ٹیرف سے چھوٹ ملتی ہے یا نہیں اور دونوں حکومتیں کس حد تک مستقل تجارتی سمجھوتے پر پہنچتی ہیں فی الحال ٹرمپ کا اعلان مخصوص اشیا تک محدود ہے، جبکہ متعدد دوسری کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف برقرار رہیں گے





