کینیڈا میں PR کارڈ کے مواقع مزید محدود کرنے کا مطالبہ، کنزرویٹو پارٹی نے امیگریشن میں کمی کے لیے 6 شرائط پیش کر دیں
کینیڈا میں امیگریشن پالیسی ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گئی ہے وفاقی کنزرویٹو پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مستقل رہائش یعنی پی آر (PR) دینے والوں کی سالانہ تعداد مزید کم کی جائے، عارضی ویزوں پر آنے والوں کی ملک سے روانگی کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے اور امیگریشن نظام میں بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں
کنزرویٹو پارٹی کی امیگریشن امور کی ناقد مشیل ریمپل گارنر نے 22 اکتوبر کو اوٹاوا میں پریس کانفرنس کے دوران پارٹی کے مطالبات پیش کیے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو صرف نئے آنے والوں کی تعداد مقرر کرنے کے بجائے اس بات پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ نئے آنے والے کینیڈا کے معاشرے، روزگار اور نظام میں کس طرح بہتر طور پر شامل ہو سکیں ان کے مطابق امیگریشن پالیسی پر عوام کا اعتماد بحال کرنا اور اس معاملے پر بڑھتی ہوئی سماجی کشیدگی کم کرنا ضروری ہے
پارٹی نے اپنے مؤقف میں 6 بنیادی مطالبات شامل کیے ہیں ان میں مستقل رہائش کے لیے سالانہ داخلوں کی تعداد کم کرنا، امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت بڑھانا، عارضی ویزوں کی مدت ختم ہونے کے بعد لوگوں کی روانگی کی تصدیق کرنا، تجارتی معاہدوں کے تحت افرادی قوت کی نقل و حرکت سے متعلق وعدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھنا اور یورپ کی کھلی سرحدوں جیسی پالیسی سے گریز کرنا شامل ہے
کنزرویٹو پارٹی کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں ایسے افراد کے خلاف تیزی سے کارروائی ہونی چاہیے جن کے پاس ملک میں رہنے کا قانونی حق نہیں رہا پارٹی جعلی پناہ کی درخواستوں، جعلی دستاویزات، اسٹڈی پرمٹ کے غلط استعمال اور ملازمت کی پیشکشوں کی خرید و فروخت روکنے کے لیے بھی سخت اقدامات چاہتی ہے اس کے علاوہ پارٹی نے درخواست گزاروں کی شناخت، سکیورٹی اور مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال مزید مؤثر بنانے پر زور دیا ہے
عارضی رہائشیوں کی روانگی کا ریکارڈ رکھنے کا مطالبہ بھی اس پالیسی کا اہم حصہ ہے کینیڈا کے آڈیٹر جنرل کی مارچ 2026 کی رپورٹ کے مطابق، 2024 میں تقریباً 39,500 ایسے بین الاقوامی طلبہ کے اسٹڈی پرمٹ ختم ہوئے جن سے توقع تھی کہ وہ ملک چھوڑ دیں گے، لیکن حکام صرف تقریباً 16,000 افراد کی روانگی کی تصدیق کر سکے کنزرویٹو پارٹی چاہتی ہے کہ ہر ختم ہونے والے پرمٹ کے بعد متعلقہ شخص کی روانگی یا قانونی حیثیت میں تبدیلی کا قابل اعتماد ریکارڈ رکھا جائے
اس مطالبے کے پس منظر میں عارضی رہائشیوں کی درست تعداد معلوم کرنے کا مسئلہ بھی شامل ہے حکومت کو اس بات کا سامنا ہے کہ کتنے افراد اپنے ویزوں کی مدت ختم ہونے کے بعد کینیڈا چھوڑ دیتے ہیں، کتنے قانونی طور پر اپنی حیثیت تبدیل کرتے ہیں اور کتنے افراد کے بارے میں مکمل معلومات دستیاب نہیں ہوتیں۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ویزا ختم ہونے والے تمام افراد غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم ہیں، کیونکہ بعض افراد اپنی رہائش کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے اہل بھی ہو سکتے ہیں
کینیڈا کی موجودہ امیگریشن پالیسی کے تحت 2026 سے 2028 تک ہر سال 380,000 مستقل رہائشیوں کو قبول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا اس کے ساتھ حکومت نے عارضی رہائشیوں کی تعداد کم کرنے کے لیے بین الاقوامی طلبہ اور عارضی غیر ملکی کارکنوں کی آمد پر بھی پابندیاں سخت کی ہیں گزشتہ منصوبے میں 2 خصوصی پروگرام بھی شامل تھے جن کے ذریعے 130,000 سے زیادہ عارضی رہائشیوں کو مستقل رہائش دینے کی گنجائش رکھی گئی تھی، جو مجموعی سالانہ ہدف سے الگ تھی
وزیر اعظم مارک کارنی نے اس ہفتے کہا تھا کہ حکومت امیگریشن کی تعداد کو پائیدار سطح پر لانے کے اپنے ہدف سے پیچھے نہیں ہٹے گی حکومت کا مؤقف ہے کہ امیگریشن کے نظام کو اس انداز میں چلانا ضروری ہے کہ ملک کی آبادی میں اضافہ، رہائش، روزگار اور عوامی خدمات کی ضروریات کے ساتھ مطابقت رکھے
کینیڈا میں امیگریشن کے معاملے پر اختلاف صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں ایک طرف مستقل رہائشیوں کی تعداد کم کرنے کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی نے گھروں کی دستیابی، ملازمتوں اور صحت کی سہولتوں پر دباؤ بڑھایا ہے دوسری طرف کاروباری اداروں اور بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا کو معیشت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہنرمند کارکنوں اور نئے آنے والوں کی بھی ضرورت ہے ان کے نزدیک امیگریشن میں تبدیلی کرتے وقت افرادی قوت کی کمی اور طویل مدتی معاشی ترقی کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے
حکومت کو آنے والے ہفتوں میں 2027 سے 2029 کے لیے نیا امیگریشن منصوبہ پیش کرنا ہے اسی منصوبے میں مستقل رہائشیوں کی آئندہ تعداد اور مختلف زمروں کے لیے داخلوں کی ترجیحات واضح ہوں گی۔ کنزرویٹو پارٹی نے ابھی تک مستقل رہائشیوں کی تعداد کے لیے کوئی متبادل حتمی عدد پیش نہیں کیا، بلکہ موجودہ ہدف سے مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے
اس وقت کنزرویٹو پارٹی کے مطالبات اپوزیشن کی تجاویز ہیں، حکومت کی نافذ شدہ پالیسی نہیں لہٰذا مستقل رہائش کے موجودہ اہداف یا درخواستوں کے قواعد میں تبدیلی کا فیصلہ نئے سرکاری منصوبے کے اعلان کے بعد ہی واضح ہوگا کینیڈا میں مستقل رہائش کے منتظر افراد، بین الاقوامی طلبہ اور عارضی ورک پرمٹ رکھنے والوں کے لیے آنے والا امیگریشن منصوبہ اہم ہوگا، کیونکہ اس سے مستقبل میں دستیاب مواقع اور مختلف درخواست گزاروں کے لیے ترجیحات کا تعین ہو سکتا ہے





