فلپائن میں انسانیت کے خلاف جرائم کے ملزم سینیٹر کی گرفتاری پر انعام کا اعلان
بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوب رونالڈ ڈیلا روزا سابق صدر روڈریگو دوتیرتے کی منشیات کے خلاف خونریز مہم میں مبینہ کردار کے الزام کا سامنا ہے
فلپائن کی حکومت نے جمعہ کو سینیٹر رونالڈ ڈیلا روزا کی گرفتاری میں مدد دینے پر انعام کا اعلان کیا ہے،64 سالہ سینیٹر کو بین الاقوامی فوجداری عدالت نے انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کے مقدمے میں گرفتار کرنے کا حکم دے رکھا ہے،یہ الزامات سابق صدر روڈریگو دوتیرتے کے دورِ حکومت میں منشیات کے خلاف چلائی گئی خونریز مہم سے متعلق ہیں
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، عدالت کا الزام ہے کہ ڈیلا روزا اس مہم میں دوتیرتے کے بالواسطہ شریکِ سازش تھے،سابق صدر کو گزشتہ سال گرفتار کیا گیا تھا اور اب انہیں منشیات کے خلاف جنگ کے دوران مبینہ جرائم کے سلسلے میں مقدمے کا سامنا ہے
ڈیلا روزا آخری مرتبہ مئی میں عوامی سطح پر اس وقت دکھائی دیے تھے جب وہ مختصر وقت کے لیے فلپائن کی سینیٹ میں آئے،تاہم، نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے ان کے وارنٹ گرفتاری کو عام کیے جانے کے بعد وہ روپوش ہو گئے
2016 میں صدر بننے کے بعد دوتیرتے نے منشیات کے خلاف سخت کارروائیوں کا آغاز کیا تھا اور ڈیلا روزا ان کے مقرر کردہ پہلے قومی پولیس سربراہ تھے جنہیں اس مہم پر عمل درآمد کی ذمہ داری دی گئی،پولیس سے ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیلا روزا کو جیلوں کے اعلیٰ انتظامی عہدے پر تعینات کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے 2019 میں سینیٹ کا انتخاب جیت لیا،
دوتیرتے کے دور میں منشیات کے خلاف کارروائیوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں،فلپائن کے قومی حکام کے مطابق، ہلاکتوں کی تعداد 6,000 سے زیادہ تھی، جبکہ دیگر اندازوں میں اس سے زیادہ تعداد بھی بیان کی گئی ہے
ڈیلا روزا کے خلاف الزامات ابھی عدالتی کارروائی کا حصہ ہیں، اور ان پر جرم ثابت ہونا باقی ہے





