نیویارک مسلم پولیس آفیسرز سوسائٹی کا سالانہ گالا، 600 سے 700 افراد کی شرکت، پولیس کمشنر جیسیکا ٹش بھی شریک
فلاشنگ، نیویارک: نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی مسلم آفیسرز سوسائٹی کے سالانہ گالا ڈنر میں پولیس افسران، ان کے اہل خانہ اور مسلم کمیونٹی کی نمایاں شخصیات سمیت تقریباً 600 سے 700 افراد نے شرکت کی،تقریب میں نیویارک پولیس کمشنر جیسیکا ٹش بھی موجود تھیں، جنہوں نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پولیس قیادت، دورانِ فرائض قربانیاں دینے والے اہلکاروں کے خاندانوں اور نوجوانوں کی تعلیمی کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا،انہوں نے کہا کہ نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی طاقت اس شہر کے غیر معمولی تنوع سے حاصل ہوتی ہے اور مختلف پس منظر اور روایات سے تعلق رکھنے والے اہلکار نیویارک کے شہریوں کی حفاظت کے مشترکہ عزم کے تحت متحد ہیں
کمشنر جیسیکا ٹش نے تقریب میں شریک پولیس حکام اور قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے چیف آف پیٹرول فل ریویرا، چیف آف ڈیٹیکٹوز جو کینی، ڈپٹی چیف وکٹوریہ اور اسسٹنٹ چیف وکٹوریہ بیری سمیت پی بی اے کے صدر پیٹ ہینڈری کا خصوصی ذکر کیا،انہوں نے کہا کہ ان تمام افراد نے محکمے کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں اور وہ ان کی قیادت اور خدمات پر بے حد شکر گزار ہیں
انہوں نے دورانِ فرائض قربانیاں دینے والے اہلکاروں کے خاندانوں کا بھی شکریہ ادا کیا، جو اس تقریب میں موجود تھے،ان میں ڈیٹیکٹو دیدارالاسلام کا خاندان بھی شامل تھا،کمشنر نے کہا کہ ان خاندانوں نے پولیس محکمے اور شہر کے لیے اتنا کچھ دیا ہے جس کا بدلہ کبھی پوری طرح ادا نہیں کیا جا سکتا،ان کے بقول، یہ خاندان ہمیشہ نیویارک پولیس فیملی کا حصہ رہیں گے اور محکمہ ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا
پولیس کمشنر نیویارک جیسیکا ٹش نے کہا کہ اس شام کا ایک اہم مقصد اگلی نسل میں سرمایہ کاری بھی ہے،گزشتہ 18 برس سے مسلم آفیسرز سوسائٹی نوجوانوں کی کامیابیوں کو سراہتی آ رہی ہے اور اس کے ساتھ نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مسلمان اہلکاروں کے قابلِ فخر کردار کا جشن بھی مناتی ہے،انہوں نے کہا کہ یہ کام پولیس محکمے کے اس بنیادی اصول کی عکاسی کرتا ہے کہ نیویارک پولیس اپنی طاقت اس شہر کے غیر معمولی تنوع سے حاصل کرتی ہے جس کی وہ خدمت کرتی ہے
کمشنر نے اسکالرشپ حاصل کرنے والے نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اپنی کامیابیوں اور مستقبل میں ان کے سامنے آنے والے مواقع پر فخر محسوس کریں گے،انہوں نے مسلم آفیسرز سوسائٹی کے تمام ارکان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ وہ پولیس اہلکاروں کی حمایت کرتے ہیں، محکمے کو مضبوط بناتے ہیں اور پولیس کے عظیم پیشے کا وقار بڑھاتے ہیں
اپنے خطاب کے اختتام پر جیسیکا ٹش نے شرکا سے کہا کہ وہ شام سے لطف اندوز ہوں اور محفوظ رہیں، اور انہوں نے سب کا شکریہ ادا کیا، پولیس کمشنر نے ایک گھنٹہ سے زائد تقریب کے شرکا کے درمیان گزارہ اور اس موقع پر صحافیوں سے بھی غیر رسمی بات کی
تقریب میں پاکستانی، بنگلہ دیشی، یمنی اور دیگر مسلم کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے،منتظمین اور شرکا تقریب کے اندازوں کے مطابق شرکا میں پاکستانیوں کا تناسب تقریباً 70 فیصد سے زائد تھا ، جبکہ بنگلہ دیشی کمیونٹی کا حصہ 10 سے 15 فیصد ،باقی شرکا یمنی اور مصری پولیس افسران اور انکے اہل خانہ دیگر چند مسلم پس منظر رکھنے والے افراد شامل تھے،”پولیس افسران کے اہل خانہ کی شرکت نے اس اجتماع کو محض ایک رسمی تقریب کے بجائے کمیونٹی کے وسیع تر اجتماع کی شکل دی
نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی مسلم آفیسرز سوسائٹی جس کے موجود صدر نیویارک پولیس میں حالیہ دنوں ڈپٹی انسپکٹر کے عہدے پر ترقی پانے والے پاکستانی آفیسر وحید اختر ہیں ، مذکورہ مسلم پولیس تنظیم کو انگریزی میں NYPD Muslim Officer Society کہا جاتا ہے، جو مسلمان امریکی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی نمائندگی کرنے والی ایک تنظیم ہے،تنظیم کے مطابق اس کا مقصد مسلمان افسران کے درمیان رابطہ مضبوط کرنا، ان کی پیشہ ورانہ معاونت کرنا اور پولیس و مختلف کمیونٹیز کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا ہے،
نیویارک پولیس میں مسلمان اہلکاروں کی تعداد کے بارے میں مختلف ادوار میں مختلف اعداد و شمار سامنے آتے رہے ہیں،بعض رپورٹس میں یہ تعداد 3,000 سے زیادہ بتائی گئی ہے، تاہم اس تعداد کی تازہ سرکاری تصدیق دستیاب نہیں،مسلم آفیسرز سوسائٹی میں مختلف ملکوں اور نسلی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افسران شامل ہیں،منتظمین کے مطابق اس کے ارکان کا تعلق تقریباً 25 سے 30 مسلم ممالک یا قومی پس منظر رکھنے والی کمیونٹیز سے ہے
تنظیم میں شامل پاکستانی نژاد پولیس اہلکار جہاں اس تنظیم کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیے جاتے ہیں وہیں یہ آفیسرز نیویارک پولیس میں نمایاں کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں، پاکستان کے سفارت خانے کی مارچ 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق نیویارک پولیس میں پاکستانی نژاد افسران کی تعداد 600 سے زیادہ تھی، جبکہ تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق اب یہ تعداد سات سو سے زائد بتائ جاتی ہے اور پورے امریکہ میں پاکستانی نژاد پولیس اہلکاروں کی تعداد تقریباً 1,000 ظاہر کی گئی ہے، اس کے برعکس بنگلہ دیشی نژاد اہلکاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،ایسوسی ایٹڈ پریس کی اگست 2025 کی رپورٹ کے مطابق نیویارک پولیس کے تقریباً 33,000 وردی پوش اہلکاروں میں 1,000 سے زیادہ بنگلہ دیشی نژاد افسران شامل بتائے گئے تھے، جو پاکستانی نژاد پولیس اہلکاروں سے زیادہ ہیں
جبکہ پاکستانی نژاد اہلکاروں کی نمائندگی کے لیے مسلم آفیسرز سوسائٹی کے علاوہ پاکستانی پولیس آفیسرز کی دو تنظیمیں بھی سرگرم ہیں، ان میں پاکستانی امریکن لا انفورسمنٹ سوسائٹی، یعنی PALS، شامل ہے، بنگلہ دیشی نژاد پولیس اہلکاروں نے بھی اپنی الگ تنظیم قائم کر رکھی ہے،یہ تنظیمیں اپنی اپنی کمیونٹیز کے اہلکاروں کے باہمی رابطے، پیشہ ورانہ ترقی اور عوامی خدمات کو فروغ دینے کے لیے کام کرتی ہیں، یہاں یہ امر دلچسپی سے ہرگز خالی نہیں بنگلہ دیشی پولیس آفیسرز کی تنظیم ان بنیادی تنظیموں میں شامل ہے جس نے مئیر زوہران ممدانی کو مئیر شپ کے پرائمری انتخابات کے بالکل ابتدائ ان دنوں میں انڈوس کیا تھا جب کسی کو بھی یقین نہیں تھا ممدانی پرائمری جیت سکتے ہیں
سالانہ گالا ڈنر میں کمیونٹی کی نمایاں شخصیات اور مدعو مہمانوں نے بھی شرکت کی،منتظمین کے مطابق تقریب میں ایک میز کی قیمت 1,000 ڈالر مقرر کی گئی تھی،اس طرح کے اجتماعات پولیس اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو ایک جگہ جمع کرنے کے ساتھ ساتھ مسلم کمیونٹیز اور پولیس قیادت کے درمیان براہ راست رابطے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں





