Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

یورپ کے نوجوانوں میں بڑھتا غصہ، مہنگے کرائے، بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کے خلاف لاکھوں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے

یورپ کے نوجوانوں میں بڑھتا غصہ، مہنگے کرائے، بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کے خلاف لاکھوں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے

یورپ کے مختلف ممالک میں نوجوانوں کی جانب سے سیاسی قیادت کے خلاف احتجاجی تحریک زور پکڑ رہی ہے اٹلی کے دارالحکومت روم میں اسکولوں پر طلبہ کا قبضہ، اسپین کے شہر میڈرڈ میں رہائشی اخراجات کے خلاف خیمہ بستیاں اور فرانس میں سڑکوں پر مظاہرے اس بڑھتے ہوئے غصے کی نمایاں مثالیں ہیں نوجوانوں کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں ان کے مسائل کو نظر انداز کر رہی ہیں اور انہیں اپنے مستقبل کے فیصلوں میں مناسب نمائندگی نہیں مل رہی
حالیہ ہفتوں کے دوران فرانس، اٹلی، اسپین اور دیگر یورپی ممالک میں ہائی اسکولوں اور جامعات کے لاکھوں طلبہ احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوئے بعض مقامات پر مظاہروں کے دوران تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے، جس کے بعد حکومتوں نے صورت حال پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کیے فرانس میں بعض علاقوں میں جزوی کرفیو نافذ کیا گیا، جبکہ اٹلی میں فوج تعینات کی گئی۔ تاہم مظاہرین کا مؤقف ہے کہ حکومتیں ان کے بنیادی مطالبات سننے کے بجائے احتجاج روکنے پر توجہ دے رہی ہیں۔
روم کے کیوور ہائی اسکول کے 18 سالہ طالب علم دامیانو فوسا نے کہا کہ نوجوان اپنے مستقبل کی خاطر جدوجہد کر رہے ہیں اور اب اپنے فیصلوں میں خود کردار ادا کرنا چاہتے ہیں ان کے مطابق نوجوانوں کی سیاسی نمائندگی نہیں ہو رہی۔ انہوں نے اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی کی دائیں بازو کی حکومت اور اس سے پہلے کی وسطی بائیں بازو کی حکومتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تعلیمی اخراجات میں کمی اور نوجوانوں کی ضروریات کو نظر انداز کرنے سے مسائل بڑھتے گئے ہیں
طلبہ کے اہم مطالبات میں بڑھتے ہوئے کرایوں پر قابو پانا، تعلیم کے لیے زیادہ سرکاری رقم مختص کرنا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنا شامل ہیں ان کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں میں رہائش اس قدر مہنگی ہو چکی ہے کہ محنت اور تعلیم کے باوجود نوجوانوں کے لیے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا مشکل ہوتا جا رہا ہے
پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں نفسیات کے 19 سالہ طالب علم لوئس مارکیز نے سیاسی قیادت کے ردعمل کو حقیقت سے دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمران نوجوانوں کے روزمرہ مسائل کو سمجھنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں
ماہرین عمرانیات کے مطابق یہ احتجاج محض تعلیم یا رہائش کے مسائل تک محدود نہیں بلکہ نوجوانوں میں سیاسی نظام سے بڑھتی ہوئی مایوسی کی بھی عکاسی کرتا ہے بین الاقوامی انجمن برائے عمرانیات کے صدر جیفری پلیئرز کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو صرف یہ محسوس نہیں ہوتا کہ سیاست میں ان کی جگہ نہیں، بلکہ انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ کوئی ان کی بات سننے کے لیے تیار نہیں
روم کی لوئس یونیورسٹی کے پروفیسر روزاریو فورلینزا نے اس صورت حال کو یورپ میں نسلوں کے درمیان بڑھتی ہوئی بغاوت قرار دیا۔ ان کے مطابق اس کے پیچھے سماجی اور معاشی بحران ہے، جس کا سیاسی قیادت مؤثر حل پیش نہیں کر پا رہی ان کا کہنا ہے کہ آبادی میں نوجوانوں کا تناسب کم ہونے کے باعث سماجی، معاشی، ثقافتی اور انتخابی معاملات میں ان کا اثر بھی محدود ہوتا جا رہا ہے
فرانس اور اٹلی میں نوجوانوں کا غصہ خاص طور پر نمایاں ہے، جہاں مزید مظاہروں کی تیاریاں جاری ہیں فرانس کے شہر بورڈو میں احتجاج کرنے والے 20 سالہ طالب علم ایڈی نے کہا کہ لوگ سارا دن محنت کرنے کے باوجود اپنے گھر کے لیے ضروری اشیا بھی پوری طرح نہیں خرید سکتے ان کے مطابق نوجوانوں کو اب یہ یقین نہیں رہا کہ صرف ووٹ ڈالنے سے ان کے مسائل حل ہو جائیں گے بعض مظاہرین کا خیال ہے کہ سخت احتجاج سیاسی رہنماؤں کو ان کے مسائل کی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، اگرچہ تشدد اور توڑ پھوڑ کے طریقوں پر اختلافات بھی موجود ہیں
یورپ میں نوجوانوں کی احتجاجی تحریکیں اب ایک دوسرے سے بھی اثر لے رہی ہیں بنگلہ دیش، بھارت اور نیپال سمیت دیگر ممالک میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریکوں کو بھی دیکھا جا رہا ہے
اٹلی میں بعض طلبہ نے فرانس کے احتجاجی طریقوں سے متاثر ہو کر اسی طرز پر مظاہرے کرنے کی اپیل کی مختلف احتجاجی اجتماعات میں قزاقوں کا مشہور جھنڈا، جولی راجر، بھی مشترکہ علامت کے طور پر دکھائی دے رہا ہے
اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں 22 سالہ مارکوس ناوارو ستمبر سے سیکڑوں دوسرے افراد کے ساتھ مرکزی علاقے پوئرتا ڈیل سول میں خیمہ زن ہیں ان کا احتجاج مہنگے کرایوں اور لوگوں کو گھروں سے بے دخل کیے جانے کے خلاف ہے ان کے مطابق یورپ کے دوسرے علاقوں سے نوجوان مظاہرین ان سے ملنے آتے ہیں تاکہ احتجاج منظم کرنے اور اپنی آواز مؤثر انداز میں اٹھانے کے طریقے سیکھ سکیں۔ 26 سالہ ماہر بشریات ایلا ہیریرو نے بھی کہا کہ دوسرے نوجوانوں کا ان کی تحریک سے متاثر ہونا حوصلہ افزا ہے
یورپ میں دفاعی اخراجات میں اضافے کے خلاف بھی نوجوان آواز اٹھا رہے ہیں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد یورپی ممالک نے دفاع پر زیادہ رقم خرچ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، لیکن طلبہ کا کہنا ہے کہ تعلیم اور عوامی سہولتوں کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے
یونان کے شہر ایتھنز کے علاقے ایکسارخیا میں زیر تعلیم 17 سالہ طالب علم نیکوس ماورودیس نے کہا کہ اس کے اسکول میں چھت اور دیواروں سے پلستر گر رہا ہے، اس لیے دفاع پر خرچ ہونے والی رقم کا کچھ حصہ تعلیمی اداروں کی مرمت پر لگایا جانا چاہیے اس کے مطابق طلبہ کے لیے غیر محفوظ کلاس رومز میں تعلیم حاصل کرنا قابل قبول نہیں
روم کے مورگانی ہائی اسکول میں طلبہ نے میزیں دروازوں کے سامنے رکھ کر داخلے بند کیے ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں کی خستہ حالت حکومتی غفلت کا ثبوت ہے بعض طلبہ نے یہ شکایت بھی کی کہ سیاست دان اور ذرائع ابلاغ احتجاج کے دوران ہونے والی لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کو زیادہ نمایاں کرتے ہیں، جس سے ان کے بنیادی مطالبات پس منظر میں چلے جاتے ہیں
اطالوی یونیورسٹی طلبہ یونین کی رابطہ کار 24 سالہ سبرینا بریزولا کے مطابق نوجوانوں کے غصے کو منظم انداز میں آگے بڑھانے اور اسے واضح مطالبات میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن نوجوانوں کے بنیادی مسائل ایک جیسے ہیں
یورپ میں جاری یہ تحریک حکومتوں کے لیے ایک اہم سوال اٹھا رہی ہے کہ نوجوانوں کو تعلیم، رہائش، روزگار اور سیاسی نمائندگی کے حوالے سے درپیش مسائل کس طرح حل کیے جائیں احتجاج میں تشدد کے واقعات پر اختلاف اپنی جگہ، لیکن نوجوانوں کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ان کی آواز سنی جائے اور ان کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں انہیں بھی مؤثر کردار دیا جائے

قومی خبریں سے مزید