Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

دنیا کی 96 فیصد سمندری چٹانیں 2075 تک تباہی کے شدید خطرے سے دوچار، عالمی درجہ حرارت میں اضافہ بنیادی وجہ قرار

دنیا کی 96 فیصد سمندری چٹانیں 2075 تک تباہی کے شدید خطرے سے دوچار، عالمی درجہ حرارت میں اضافہ بنیادی وجہ قرار

دنیا کے سمندروں میں موجود مونگے کی تقریباً تمام اہم چٹانیں آنے والی 50 سالہ مدت میں تباہی کے شدید خطرے سے دوچار ہیں قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کی نئی عالمی تحقیق کے مطابق، دنیا کے 96 فیصد کم گہرے پانیوں کے مرجانی ماحولیاتی نظام 2075 تک انتہائی خطرے کی درجہ بندی میں آ سکتے ہیں اس بحران کی سب سے بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی اور سمندروں کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہے
22 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والی اس تحقیق میں دنیا کے 127 گرم اور نیم گرم علاقوں میں موجود مرجانی چٹانوں کے نظام کا جائزہ لیا گیا یہ چٹانیں سمندری حیات کے لیے انتہائی اہم ہیں اور ہزاروں اقسام کی مچھلیوں، سمندری جانداروں اور دیگر انواع کو خوراک، پناہ گاہ اور افزائش نسل کے مواقع فراہم کرتی ہیں تحقیق کے مطابق، اگر موجودہ ماحولیاتی رجحانات برقرار رہے تو ان چٹانوں کے بڑے حصے اپنی موجودہ ساخت اور حیاتیاتی تنوع کھو سکتے ہیں
مرجانی چٹانیں دراصل چھوٹے سمندری جانداروں، جنہیں مرجان کہا جاتا ہے، کے بنائے ہوئے ڈھانچے ہوتے ہیں یہ جاندار طویل عرصے میں کیلشیم کاربونیٹ کے ذریعے سخت چٹانیں بناتے ہیں، جو سمندر کے اندر ایک پیچیدہ قدرتی نظام تشکیل دیتی ہیں ان چٹانوں کے آس پاس مچھلیوں اور دوسرے جانداروں کی بڑی تعداد رہتی ہے، اس لیے ان کی تباہی کا اثر صرف مرجان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے سمندری نظام کو متاثر کرتا ہے
تحقیق کے مطابق، سمندروں کا گرم ہونا مرجان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے جب پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تو مرجان اپنے جسم میں رہنے والی خوراک فراہم کرنے والی خوردبینی کائی کو خارج کرنے لگتے ہیں۔ اس عمل کو کورل بلیچنگ یا مرجان کا سفید پڑ جانا کہا جاتا ہے اگر گرم حالات طویل عرصے تک برقرار رہیں تو مرجان کمزور ہو کر مر سکتے ہیں اور ان کی جگہ کائی، ٹوٹے ہوئے مرجانی ٹکڑے اور دوسرے جاندار لے سکتے ہیں
آئی یو سی این کی تحقیق میں آسٹریلیا کی گریٹ بیریئر ریف، جنوب مشرقی ایشیا کے کورل ٹرائینگل، بحیرۂ کیریبین کے میسوامریکن بیریئر ریف اور بحیرۂ احمر کی مرجانی چٹانوں کو بھی شدید خطرے سے دوچار نظاموں میں شامل کیا گیا ہے یہ علاقے اپنی غیر معمولی سمندری حیاتیاتی تنوع اور قدرتی خوب صورتی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں ان کے متاثر ہونے سے سمندری حیات کے ساتھ سیاحت، ماہی گیری اور ساحلی آبادیوں کے معاشی ذرائع بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں
مرجانی چٹانوں کو نقصان پہنچانے والے عوامل میں حد سے زیادہ ماہی گیری، سمندر میں آلودگی، ساحلی علاقوں میں بے قابو تعمیرات اور شدید سمندری طوفان بھی شامل ہیں تحقیق کے مطابق، طوطا مچھلی سمیت بعض ایسی مچھلیوں کا بے دریغ شکار جو مرجان کے آس پاس کائی کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہیں، تقریباً 63 فیصد مرجانی ماحولیاتی نظاموں کے لیے ایک اضافی خطرہ ہے جب قدرتی توازن متاثر ہوتا ہے تو کائی تیزی سے پھیل سکتی ہے اور مرجان کی نشوونما میں رکاوٹ بن سکتی ہے
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ عالمی وعدوں کے باوجود اس صدی کے اختتام تک دنیا کا درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 2.6 سے 2.7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو سکتا ہے اتنا اضافہ سمندروں میں گرمی کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے اور مرجان کی بحالی کے امکانات محدود کر سکتا ہے
اس کے باوجود سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ تمام مرجانی چٹانیں ابھی ختم نہیں ہوئیں اور مناسب اقدامات سے ان کے تحفظ کے امکانات موجود ہیں تحقیق کے مطابق، اگر صرف گزشتہ 50 سال میں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھا جائے اور مستقبل کے موسمیاتی اندازوں کو شامل نہ کیا جائے تو 24 فیصد مرجانی ماحولیاتی نظام انتہائی خطرے کی درجہ بندی میں آتے ہیں۔ مستقبل کے درجہ حرارت کو شامل کرنے پر یہ شرح 96 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں انسانی سرگرمیاں اور ماحولیاتی پالیسی ان چٹانوں کے مستقبل پر کتنا بڑا اثر ڈال سکتی ہیں
ماہرین کے مطابق، اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوسل فیول کے استعمال سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں کمی، سمندری محفوظ علاقوں میں اضافہ، غیر قانونی اور حد سے زیادہ ماہی گیری کی روک تھام اور متاثرہ مرجانی چٹانوں کی بحالی ضروری ہے ساحلی آبادیوں کو بھی ان اقدامات میں شامل کرنا ہوگا کیونکہ ان کی خوراک، روزگار اور مقامی معیشت کا بڑا حصہ سمندری وسائل پر منحصر ہے
مرجانی چٹانوں کی تباہی محض سمندر کی خوب صورتی کا نقصان نہیں بلکہ عالمی ماحول، خوراک کے تحفظ اور ساحلی آبادیوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو محدود کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں سمندری حیاتیاتی تنوع کے ایک بڑے حصے سے محروم ہو سکتی ہیں تاہم، ماہرین کے مطابق، گرمی میں اضافے کے ہر ممکنہ حصے کو کم کرنا بھی مرجانوں کی بقا اور بحالی کے امکانات بہتر بنا سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید