پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تصادم کا خطرہ بڑھ گیا، فوجی رابطے بحال رکھنے پر زور
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات اور سفارتی رابطوں کی کمی نے جنوبی ایشیا میں جوہری تصادم کے خطرات بڑھا دیے ہیں دونوں ملک جوہری ہتھیار رکھتے ہیں، اس لیے کسی فوجی سرگرمی کو غلط سمجھنے، غیر ضروری ردعمل دینے یا حالات کا درست اندازہ لگانے میں ناکامی کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں
پاکستان کی قومی کمانڈ اتھارٹی کے مشیر اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی نے اسلام آباد میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی جوہری سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق بھارت کی جانب سے خطے میں اسٹریٹجک توازن تبدیل کرنے کی کوششیں کشیدگی میں اضافے کا خطرہ پیدا کر رہی ہیں
خالد قدوائی نے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت نے جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے وارہیڈز ایک آبدوز پر تعینات کیے ہیں اور انہیں سمندر میں دفاعی گشت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے انہوں نے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات سے پہلے پاکستان کو اطلاع نہ دینے کے معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی
پاکستانی جوہری پروگرام سے وابستہ عہدیدار کے مطابق، ان سرگرمیوں سے بھارت کی پہلے جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کی پالیسی کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں پاکستان کا مؤقف ہے کہ خطے میں جوہری صلاحیتوں کا عدم توازن بڑھانے کی کوششیں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو مزید خطرناک بنا سکتی ہیں تاہم، یہ پاکستان کا مؤقف ہے اور بھارت کی جوہری پالیسی اور سرگرمیوں کا جائزہ متعلقہ شواہد اور دونوں ملکوں کے اعلانات کی روشنی میں لیا جانا ضروری ہے
جنوبی ایشیا میں جوہری خطرات اس لیے بھی زیادہ اہم ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان طویل عرصے سے کشمیر سمیت متعدد معاملات پر اختلافات موجود ہیں دونوں ملکوں کے درمیان ماضی میں جنگیں اور فوجی تصادم ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ سال بھی دونوں افواج کے درمیان لڑائی نے خطے میں بڑے پیمانے پر کشیدگی پیدا کی تھی۔ ایسے ماحول میں معمولی واقعہ بھی غلط اندازے یا غلط فہمی کے باعث وسیع فوجی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے
جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں خطرہ صرف ان کے استعمال کا نہیں بلکہ مخالف ملک کی فوجی سرگرمیوں کو غلط سمجھنے کا بھی ہے اگر کسی ملک کو یہ خدشہ ہو کہ دوسرا ملک حملے کی تیاری کر رہا ہے تو وہ جلد بازی میں جوابی اقدامات کر سکتا ہے اسی لیے میزائل تجربات کی پیشگی اطلاع، فوجی سرگرمیوں میں شفافیت اور ہنگامی رابطوں کا برقرار رہنا جوہری خطرات کم کرنے کے اہم ذرائع سمجھے جاتے ہیں
پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ اگر بھارت اپنی جوہری تعیناتیوں کے ذریعے اسٹریٹجک توازن تبدیل کرتا ہے تو پاکستان بھی اپنی تعیناتیوں کے طریقوں کا جائزہ لے سکتا ہے انہوں نے پاکستان کی مکمل دائرہ کار کی دفاعی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک اپنی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے
تاہم، دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی اور سفارتی رابطوں کی محدودیت ایک اضافی مسئلہ ہے جب اعلیٰ سطح پر مذاکرات نہ ہوں تو فوجی سرگرمیوں کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کے مواقع بھی کم ہو جاتے ہیں اس صورت حال میں فوجی حکام کے درمیان رابطے، خصوصاً دونوں ملکوں کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی ہاٹ لائن، اہم کردار ادا کر سکتی ہے
اس تنازع کا حل صرف فوجی طاقت بڑھانے میں نہیں بلکہ خطرات کو کم کرنے کے طریقے اختیار کرنے میں بھی ہے بھارت اور پاکستان کو میزائل تجربات کے بارے میں بروقت اطلاع دینے، فوجی رابطے برقرار رکھنے اور جوہری معاملات پر غلط فہمیوں سے بچنے کے لیے قابل اعتماد نظام کو مضبوط بنانا چاہیے
جنوبی ایشیا کے عوام کے لیے امن کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ جوہری تصادم کی صورت میں نقصان صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ شہری آبادی، صحت، معیشت، ماحول اور آنے والی نسلیں بھی اس کے اثرات بھگت سکتی ہیں اس لیے دونوں ملکوں کے لیے ضروری ہے کہ جوہری معاملات کو سیاسی بیانات اور قومی جذبات سے بالاتر ہو کر سنبھالیں اور کسی ممکنہ تباہ کن تصادم سے بچنے کے لیے رابطے اور کشیدگی میں کمی کے راستے کھلے رکھیں





