Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسرائیلی انتخابات کے اثرات سرحدوں سے باہر بھی محسوس ہوں گے، نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی اور ایران سے جنگ کے امکانات اہم سوالات

اسرائیلی انتخابات کے اثرات سرحدوں سے باہر بھی محسوس ہوں گے، نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی اور ایران سے جنگ کے امکانات اہم سوالات
اسرائیل میں اگلے ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل داؤ پر ہوگا، تاہم اس انتخاب کے نتائج صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرق وسطیٰ اور ایران کے ساتھ تعلقات پر بھی ان کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں،امریکی جریدے کرسچن سائنس مانیٹر کے تجزیے کے مطابق، انتخابات کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا اسرائیلی ووٹرز نیتن یاہو کو مزید اقتدار میں رہنے کا موقع دیں گے یا ملک کی قیادت تبدیل کرنے کا فیصلہ کریں گے
نیتن یاہو مجموعی طور پر تقریباً 20 سال اسرائیل کے وزیراعظم رہ چکے ہیں اور اس وقت ملک کی تاریخ کے سب سے زیادہ دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والے حکومتی اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں،غزہ میں حماس کے سرحد پار حملے کے بعد اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں ان کا کردار مرکزی رہا ہے،اکتوبر 2023 کے حملے میں شہریوں کو قتل اور اغوا کیا گیا جبکہ اسرائیل کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی
ایران کے معاملے پر بھی نیتن یاہو کا مؤقف انتخابی مہم کے اہم پہلوؤں میں شامل ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر وہ ایران کے خلاف جنگ کے اہم محرکات میں شمار ہوتے ہیں،بدھ کے روز ایران میں حکومت کی جبری تبدیلی کے مطالبے کی تجدید نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ آیا اسرائیلی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں
کرسچن سائنس مانیٹر کے تجزیے کے مطابق، انتخابی نتائج کچھ بھی ہوں، مختصر مدت میں اسرائیل کی پالیسیوں میں بنیادی اور وسیع پیمانے پر تبدیلی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں،تاہم، نیتن یاہو کی ممکنہ واپسی یا نئی قیادت کا قیام اسرائیل کی داخلی سیاست کے ساتھ خطے کی سلامتی، غزہ کی صورت حال اور ایران کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید