Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

زیلنسکی جنگ ختم کرنے کے لیے موجودہ محاذ منجمد کرنے پر آمادہ، روس سے جنگ بندی اور امریکہ سے سکیورٹی ضمانتیں طلب

زیلنسکی جنگ ختم کرنے کے لیے موجودہ محاذ منجمد کرنے پر آمادہ، روس سے جنگ بندی اور امریکہ سے سکیورٹی ضمانتیں طلب

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روس کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ محاذ پر لڑائی روک کر جنگ بندی کی جا سکتی ہے، جس کے بعد مستقل امن کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔ ان کے مطابق اس وقت سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ دونوں جانب سے حملے بند ہوں اور موجودہ محاذ کو عارضی طور پر منجمد کر دیا جائے، تاہم یوکرین کو مستقبل میں روسی حملے اور دوبارہ قبضے کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے قابل اعتماد سکیورٹی ضمانتیں بھی درکار ہوں گی
زیلنسکی نے امریکی ٹی وی پروگرام ’’فاکس اینڈ فرینڈز‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین مذاکرات کے مختلف طریقوں اور موضوعات پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے مستقبل سے متعلق کوئی فیصلہ یوکرین کی شرکت کے بغیر نہیں ہونا چاہیے ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے بعد امریکہ اور یورپی اتحادیوں سے ایسی ضمانتیں طلب کی جائیں گی جن سے یہ یقین ہو سکے کہ روس دوبارہ حملہ نہیں کرے گا اور جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں اور تباہی کا سلسلہ دوبارہ شروع نہیں ہوگا
زیلنسکی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے لیے روس کا دورہ کیا، جبکہ اس سے پہلے وٹکوف کی زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کے ساتھ اوسلو میں بات چیت بھی ہوئی تھی ان رابطوں سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ فریقین جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے کسی مشترکہ راستے پر اتفاق کر سکتے ہیں، تاہم ابھی کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا
موجودہ محاذ کو منجمد کرنے کی تجویز کا مطلب یہ ہے کہ لڑائی روکنے کے وقت دونوں فوجیں جہاں موجود ہوں، فوری طور پر جنگ بندی کی حد اسی صورت حال کے مطابق طے کی جائے اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ یوکرین روس کے زیر قبضہ علاقوں پر روسی خودمختاری تسلیم کر لے گا۔ یہ فرق اہم ہے، کیونکہ یوکرین اپنے مقبوضہ علاقوں کو واپس لینے کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جبکہ روس ان علاقوں پر اپنے دعوے برقرار رکھتا ہے اس لیے جنگ بندی کی لکیر طے کرنا اور ان علاقوں کی حتمی حیثیت کا فیصلہ کرنا دو الگ اور پیچیدہ معاملات ہوں گے
زیلنسکی نے واضح کیا کہ جنگ بندی کو مستقل امن کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا ان کے مطابق اگر روسی فوجیں حملے روک بھی دیں، تب بھی یوکرین کو یہ ضمانت درکار ہوگی کہ مستقبل میں جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی اس مقصد کے لیے امریکہ اور یورپی ممالک کے کردار کو اہم قرار دیا جا رہا ہے سکیورٹی ضمانتوں میں دفاعی تعاون، یوکرین کی فوجی صلاحیت برقرار رکھنے اور ممکنہ نئے حملے کی صورت میں مدد کے طریقہ کار جیسے معاملات زیر بحث آ سکتے ہیں، تاہم ان کی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں
یوکرین کے لیے جنگ بندی کی ایک بڑی ضرورت انسانی بحران میں کمی بھی ہے کئی برس سے جاری جنگ نے شہری آبادی کو بے گھر کیا، بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا اور لاکھوں افراد کو اپنے گھروں سے دور رہنے پر مجبور کیا ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ تقریباً 95 لاکھ افراد اپنے گھر کھو چکے ہیں یا ملک سے باہر ہیں، اور یوکرین کی تعمیر نو کے لیے ضروری ہے کہ وہ محفوظ حالات میں واپس آ سکیں ان کے مطابق امن کا مقصد صرف فائرنگ بند کرنا نہیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہونا چاہیے جس میں لوگ دوبارہ معمول کی زندگی گزار سکیں اور ملک کی تعمیر نو میں حصہ لے سکیں
اس سفارتی عمل میں امریکہ کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ واشنگٹن یوکرین کو فوجی اور انٹیلی جنس مدد فراہم کرتا رہا ہے اور اب جنگ ختم کرانے کے لیے روس سے براہ راست رابطے بھی کر رہا ہے زیلنسکی نے امریکہ کی جانب سے انٹیلی جنس تعاون بحال کیے جانے کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ سیٹلائٹ مواصلاتی خدمات پر عائد پابندیاں بھی ختم ہوں گی یوکرینی فوج میدان جنگ میں اسٹارلنک اور دفاعی نوعیت کے اسٹارشیلڈ نظام پر انحصار کرتی رہی ہے، اس لیے ان خدمات کی دستیابی جنگی رابطوں اور فوجی کارروائیوں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے
دوسری جانب روس کی رضامندی کے بغیر محاذ منجمد کرنے کی تجویز پر عمل درآمد ممکن نہیں ہوگا ماسکو اور کیف کے درمیان بنیادی اختلافات میں مقبوضہ علاقوں کی حیثیت، یوکرین کی مستقبل کی سکیورٹی اور مغربی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات شامل ہیں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کون کرے گا، خلاف ورزی کی صورت میں کیا کارروائی ہوگی اور دونوں جانب کی فوجی نقل و حرکت پر کس طرح نظر رکھی جائے گی، یہ بھی ایسے سوالات ہیں جن کے جواب کسی ممکنہ معاہدے میں دینا ہوں گے
یورپی ممالک کی شمولیت بھی امن کوششوں کے لیے اہم ہو سکتی ہے یوکرین چاہتا ہے کہ اس کی سلامتی اور مستقبل سے متعلق مذاکرات میں یورپی اتحادیوں کو بھی شامل کیا جائے، کیونکہ جنگ کے اثرات پورے یورپ کی سلامتی، دفاعی اخراجات اور توانائی کی پالیسیوں تک پھیلے ہوئے ہیں زیلنسکی نے سہ فریقی مذاکرات، یعنی یوکرین، امریکہ اور روس کے درمیان بات چیت، کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ یورپی ممالک کی شرکت بھی مفید ہوگی
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ فروری 2022 میں روس کے بڑے پیمانے پر حملے کے بعد ایک وسیع بین الاقوامی تنازع بن گئی تھی اس کے بعد دونوں جانب بھاری جانی نقصان، فوجی کارروائیاں، ڈرون اور میزائل حملے اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی جاری رہی اس عرصے میں جنگ بندی اور امن مذاکرات کی مختلف کوششیں ہوئیں، لیکن علاقوں، سکیورٹی اور سیاسی شرائط پر اختلافات کے باعث مستقل معاہدہ ممکن نہیں ہو سکا
زیلنسکی کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین موجودہ محاذ پر جنگ روکنے کو مذاکرات کی ابتدا کے طور پر قبول کرنے پر غور کر رہا ہے، لیکن وہ اسے مقبوضہ علاقوں سے متعلق اپنے مؤقف سے دستبرداری یا غیر مشروط امن معاہدہ قرار نہیں دے رہا اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا روس بھی موجودہ محاذ پر جنگ بندی، بین الاقوامی نگرانی اور یوکرین کے لیے سکیورٹی ضمانتوں پر بات چیت کے لیے تیار ہوگا یا نہیں۔ جب تک دونوں فریق ان بنیادی معاملات پر متفق نہیں ہوتے، جنگ بندی کی تجویز ایک سفارتی امکان تو رہے گی، مگر جنگ کے مستقل خاتمے کی ضمانت نہیں بن سکے گی

قومی خبریں سے مزید