Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

گلاب دیوی ہسپتال کے وارڈ میں مریض کے لواحقین اور طبی عملے میں دو بدو مقابلہ ، کبھی مریض کے گھر والے نیچے تو کبھی ڈاکٹر اور نرس، بڑھتے تشدد پر بڑھتی تشویش

گلاب دیوی ہسپتال کے وارڈ میں مریض کے لواحقین اور طبی عملے میں دو بدو مقابلہ ، کبھی مریض کے گھر والے نیچے تو کبھی ڈاکٹر اور نرس، بڑھتے تشدد پر بڑھتی تشویش

لاہور کے گلاب دیوی ہسپتال کے امیرالدین وارڈ میں مریض کے لواحقین اور طبی عملے کے درمیان دو بدو تصادم کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد پاکستان میں بڑھتے ہوئے سماجی تشدد کے رجحان پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں،ویڈیو میں عام لباس میں ملبوس ایک خاتون، جس کے گلے میں اسٹیتھوسکوپ نظر آتا ہے، مریض کے ساتھ موجود ایک دوسری خاتون پر حملہ کرتی دکھائی دیتی ہے،اس کے بعد دونوں جانب سے مزید افراد بھی تصادم میں شامل ہو جاتے ہیں اور وارڈ کے اندر ہاتھا پائی اور مار پیٹ شروع ہو جاتی ہے،ویڈیو میں مرد اور خواتین ایک دوسرے پر حملے کرتے دکھائی دیتے ہیں،تاہم، ویڈیو سے تمام افراد کی شناخت اور واقعے کے آغاز کی مکمل تفصیلات واضح نہیں ہوتیں
مریض کے لواحقین کا الزام ہے کہ مریض کی تشویشناک حالت کے پیش نظر اسے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کرنے کا مطالبہ کرنے پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایک کمرے میں بند کر دیا گیا،لواحقین نے پیرامیڈیکل اسٹاف پر رشوت طلب کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے،اطلاعات کے مطابق واقعے کے سلسلے میں پولیس نے دو خواتین کو حراست میں لیا ہے اور تھانہ نصیر آباد میں مقدمہ درج کیا گیا ہے،واقعے میں شامل فریقین کے مؤقف اور الزامات کی آزادانہ تصدیق کے لیے مزید تفصیلات سامنے آنا ضروری ہیں
ہسپتال، جو مریضوں کے علاج اور انسانی جانوں کے تحفظ کی جگہ ہوتے ہیں، وہاں اس نوعیت کا تصادم محض دو فریقوں کے درمیان جھگڑے تک محدود نہیں رہتا،یہ اس وسیع تر سماجی ماحول کی بھی عکاسی کرتا ہے جس میں غصہ، عدم برداشت اور تشدد روزمرہ زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں ہوتے جا رہے ہیں،پاکستان میں معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی غربت، روزگار اور بنیادی سہولتوں سے متعلق مشکلات، انصاف کے نظام پر عدم اعتماد اور سیاسی و سماجی تقسیم ایسے عوامل ہیں جن کے تشدد پر ممکنہ اثرات کا سنجیدہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے
گھریلو تنازعات میں والدین اور اولاد کے درمیان تشدد، عوامی مقامات پر جھگڑے، بینکوں اور دوسرے اداروں میں ہاتھا پائی اور اب ہسپتالوں میں مریضوں کے لواحقین اور طبی عملے کے درمیان تصادم، معاشرے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے مختلف مظاہر ہیں،
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کے واقعات بھی ریاستی طاقت کے استعمال اور جواب دہی سے متعلق سوالات پیدا کرتے ہیں،پنجاب میں پولیس مقابلوں کے ذریعے تقریباً ایک ہزار افراد کی ہلاکتیں جہاں معاشرے میں خوف کا باعث ہیں وہیں مایوسی اور اشتعال پیدا کرنے کا سبب بھی ہیں
گلاب دیوی ہسپتال کا واقعہ اس بنیادی سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ جب معاشرے میں اختلاف یا دباؤ کا جواب مکالمے اور قانون کے بجائے تشدد سے دیا جانے لگے تو اس کے نتائج کتنے سنگین ہو سکتے ہیں،مریض کے لواحقین کو اپنے عزیز کے علاج اور طبی عملے سے جواب طلب کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ طبی عملے کو بھی محفوظ ماحول میں فرائض انجام دینے کا حق ملنا چاہیئے ، ان حقوق کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہوں، قصورواروں کا تعین شواہد کی بنیاد پر کیا جائے اور کسی بھی فریق کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے

قومی خبریں سے مزید