Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پی ٹی آئی کا مذاکرات کے لیے حکومت سے اعتماد بحال کرنے کا مطالبہ، عمران خان کی رہائی اور خیبر پختونخوا میں اقدامات واپس لینے پر زور

پی ٹی آئی کا مذاکرات کے لیے حکومت سے اعتماد بحال کرنے کا مطالبہ، عمران خان کی رہائی اور خیبر پختونخوا میں اقدامات واپس لینے پر زور

پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ واقعی سیاسی مذاکرات کے ذریعے اختلافات ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے محض بیانات دینے کے بجائے اعتماد کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے پارٹی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات واپس لینے، صوبائی حکومت کے انتخابی مینڈیٹ کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے بیان میں کہا کہ بامعنی مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے جن سے مخالف سیاسی جماعت کو یقین ہو کہ بات چیت سنجیدگی سے کی جا رہی ہے ان کے مطابق صرف مذاکرات کی خواہش کا اظہار کافی نہیں، بلکہ ایسے فیصلے بھی ضروری ہیں جن سے سیاسی کشیدگی کم ہو اور فریقین کے درمیان اعتماد پیدا ہو سکے
شیخ وقاص اکرم نے ان اقدامات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا جنہیں پی ٹی آئی غیر قانونی قرار دیتی ہے ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی مسلسل حراست، اگر اس کی قانونی بنیاد موجود نہ ہو، تو مذاکرات کے ماحول کو متاثر کرتی ہے پی ٹی آئی نے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور اپنے منتخب نمائندوں کو سیاسی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے مناسب ماحول فراہم کرنے پر بھی زور دیا
پارٹی نے سابق وزیراعظم اور بانی چیئرمین عمران خان کے آئینی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو بھی مذاکرات کی اہم شرائط میں شامل کیا ہے پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو اپنے وکلا اور اہل خانہ سے قانون کے مطابق ملاقاتوں کی سہولت دی جائے، ان کے اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے مقدمات کی منصفانہ اور بروقت سماعت یقینی بنائی جائے اور عدالتی احکامات کے مطابق ان کے ذاتی معالجین کو طبی معائنے اور علاج کی نگرانی کی اجازت دی جائے
پی ٹی آئی نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں اور منتخب نمائندوں و کارکنوں پر دباؤ ڈالنے کے واقعات پر بھی اعتراض کیا۔ شیخ وقاص اکرم نے الزام عائد کیا کہ ان اقدامات کا مقصد سیاسی مخالفین کو خوف زدہ کرنا ہے یہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے، جبکہ ان الزامات پر حکومتی موقف اور متعلقہ واقعات کی قانونی حیثیت الگ سے اہمیت رکھتے ہیں
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی کوششیں اکتوبر کے آغاز میں بھی کی گئی تھیں، تاہم دونوں فریقین کے درمیان اختلافات دور نہیں ہو سکے مذاکرات میں عمران خان تک رسائی، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور صوبائی حکومت کے کردار جیسے معاملات پر اختلافات سامنے آئے تھے پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ عمران خان سے مشاورت کے بغیر اہم سیاسی فیصلوں پر اتفاق ممکن نہیں، جبکہ حکومتی نمائندوں نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار اپوزیشن کو قرار دیا تھا
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات کا معاملہ بھی سیاسی تنازعے کا مرکزی نکتہ بن گیا ہے پی ٹی آئی ان اقدامات کو صوبے کے انتخابی مینڈیٹ میں مداخلت قرار دیتی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ صوبے کے مستقبل، وسائل اور انتظامی معاملات سے متعلق فیصلوں میں منتخب نمائندوں اور مقامی آبادی کی رائے کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ تقریباً 5 کروڑ آبادی والے صوبے کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کسی ایسی انتظامیہ کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے جسے عوام نے منتخب نہ کیا ہو۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کے نمائندے خیبر پختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں حکومت کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے اس لیے مذاکرات میں سیاسی حقوق اور صوبائی خودمختاری کے معاملات کے ساتھ سکیورٹی پالیسی پر اتفاق پیدا کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے
پی ٹی آئی نے حکومتی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے اس بیان کو بھی مسترد کیا جس میں انہوں نے پارٹی کی سیاسی حیثیت اور خیبر پختونخوا میں اس کی حکومتی طاقت کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا کہ دباؤ اور سخت اقدامات کے باوجود پارٹی کی عوامی حمایت برقرار ہے انہوں نے حکمران اتحاد کی جماعتوں کو چیلنج کیا کہ وہ ایک ہی انتخابی پلیٹ فارم پر پی ٹی آئی کا مقابلہ کریں ان کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی صورت میں پی ٹی آئی کامیابی حاصل کر سکتی ہے یہ پارٹی رہنما کا سیاسی دعویٰ ہے، انتخابی نتیجہ نہیں
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس کی عوامی حمایت کا انحصار صرف صوبائی حکومت یا سرکاری عہدوں پر نہیں بلکہ عوام کے ساتھ اس کے سیاسی تعلق پر ہے اسی بنیاد پر پارٹی نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے سیاسی مینڈیٹ، صوبے کے وسائل اور انتظامی فیصلوں میں منتخب نمائندوں کو شامل کیا جائے
موجودہ صورت حال میں مذاکرات کی بحالی کے لیے دونوں فریقین کو اپنے اختلافات پر بات چیت کرنا ہوگی پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ حکومت پہلے اعتماد بحال کرنے والے اقدامات کرے، جبکہ حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور صوبے میں امن و امان کے معاملات پر اتفاق کی ضرورت اجاگر کی جاتی رہی ہے جب تک عمران خان تک رسائی، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں، خیبر پختونخوا میں حکومتی انتظامات اور دہشت گردی کے خلاف پالیسی جیسے معاملات پر پیش رفت نہیں ہوتی، سیاسی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں برقرار رہنے کا امکان ہے
پی ٹی آئی کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پارٹی مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے بجائے حکومت سے عملی اقدامات کی توقع کر رہی ہے تاہم یہ مطالبات حکومت قبول کرتی ہے یا نہیں اور دونوں فریق کسی مشترکہ لائحہ عمل تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں، اس کا انحصار آئندہ سیاسی رابطوں اور فیصلوں پر ہوگا

قومی خبریں سے مزید