Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

صحافیوں کے تحفظ کے قوانین کاغذوں تک محدود، 65 فیصد صحافیوں کو دھمکیوں اور مداخلت کا سامنا

صحافیوں کے تحفظ کے قوانین کاغذوں تک محدود، 65 فیصد صحافیوں کو دھمکیوں اور مداخلت کا سامنا

پاکستان میں صحافیوں کو دھمکیوں، دباؤ اور حملوں سے تحفظ دینے کے لیے بنائے گئے قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث صحافیوں کی سلامتی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے ایک نئی رپورٹ کے مطابق شکایات درج کرانے کے مؤثر طریقۂ کار، مناسب وسائل اور تحفظ کے لیے قائم کمیشنوں کو ضروری اختیارات نہ ملنے کی صورت میں یہ قوانین عملی تحفظ فراہم کرنے کے بجائے کاغذوں تک محدود رہنے کا خدشہ رکھتے ہیں
یہ رپورٹ میڈیا کی نگرانی کرنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک نے انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ کی معاونت سے تیار کی ہے اس کا عنوان ہے ’’کاغذی تحفظ سے عملی تحفظ تک‘‘۔ رپورٹ میں وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے تحت قائم صحافیوں کے تحفظ کے کمیشنوں کی کارکردگی، اختیارات، وسائل اور شکایات پر کارروائی کے نظام کا جائزہ لیا گیا ہے تحقیق کے لیے متعلقہ فریقوں سے مشاورت، انٹرویوز اور سندھ میں تقریباً 40 صحافیوں پر مشتمل آن لائن سروے کیا گیا، جس میں دیہی علاقوں میں کام کرنے والے صحافی بھی شامل تھے
رپورٹ کے مطابق 2022 میں پارلیمان نے صحافیوں اور میڈیا کے خلاف جرائم پر سزا سے بچ نکلنے کے رجحان کو روکنے اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے 2 خصوصی قوانین منظور کیے تھے۔ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت نے ان قوانین پر عمل درآمد کے لیے الگ الگ کمیشن قائم کیے، لیکن قانون سازی کے باوجود صحافیوں کو عملی تحفظ فراہم کرنے میں اہم رکاوٹیں برقرار ہیں
سندھ میں کیے گئے سروے کے مطابق 70 فیصد صحافیوں کو معلوم تھا کہ صوبے میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون موجود ہے، لیکن 65 فیصد کو یہ معلوم نہیں تھا کہ متعلقہ کمیشن کا دفتر کہاں ہے، اس سے معلومات کیسے حاصل کی جا سکتی ہیں، ویب سائٹ کہاں موجود ہے یا شکایت درج کرانے کا طریقہ کیا ہے اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانون سے آگاہی اور اس کے تحت دستیاب مدد تک رسائی کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے
سروے میں شامل 65 فیصد صحافیوں نے بتایا کہ انہیں 2021 کے بعد اپنے پیشہ ورانہ کام کے سلسلے میں دھمکیوں یا مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اعداد و شمار سروے میں شریک صحافیوں کے تجربات پر مبنی ہیں اور انہیں سندھ کے تمام صحافیوں کی مجموعی صورت حال کا حتمی تخمینہ نہیں سمجھنا چاہیے تاہم، یہ نتائج صحافیوں کو درپیش حفاظتی مسائل اور شکایات کے نظام تک رسائی کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہیں
رپورٹ میں وفاقی کمیشن کو درپیش عملے، بجٹ اور انتظامی مشکلات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ کمیشن کے چیئرمین کمال الدین ٹیپو نے تحقیق کے دوران ان مسائل کا ذکر کیا رپورٹ کے مطابق وفاقی کمیشن اب کام کر رہا ہے، لیکن صحافیوں کو بروقت تحفظ فراہم کرنے اور شکایات پر مسلسل پیش رفت یقینی بنانے کے لیے مناسب عملہ، مالی وسائل اور مؤثر انتظامی نظام ضروری ہیں
سندھ میں صورت حال کچھ مختلف ہے وہاں قائم کمیشن کے پاس دفتر موجود ہے، اجلاس ہوتے ہیں، شکایات وصول کی جاتی ہیں اور پولیس و صحافتی تنظیموں کے ساتھ رابطہ بھی کیا جاتا ہے اس کے باوجود صحافتی یونینوں کے نمائندوں اور کمیشن کے غیر سرکاری ارکان نے شکایات پر کارروائی میں تاخیر، کراچی سے باہر رابطوں کی کمی اور پولیس کے جواب کا انتظار کرنے پر انحصار جیسے مسائل کی نشاندہی کی ہے
سندھ کمیشن کے چیئرمین اعجاز احمد میمن نے اس تاثر سے اختلاف کیا کہ صحافی ادارے پر اعتماد نہیں کرتے ان کے مطابق کمیشن کے رابطوں، مقدمات پر کام اور مختلف علاقوں تک رسائی کے منصوبوں میں بہتری آئی ہے اس طرح رپورٹ میں ادارے کو درپیش مشکلات کے ساتھ کمیشن کی جانب سے بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور اس کے مؤقف کو بھی شامل کیا گیا ہے
صحافیوں کی سلامتی کے معاملے میں میڈیا اداروں اور مالکان کی ذمہ داریوں پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں سروے میں شامل 51 فیصد صحافیوں نے بتایا کہ ان کے اداروں نے انہیں حفاظتی طریقۂ کار، ہنگامی رابطوں، انشورنس، قانونی معاونت یا شکایت درج کرانے کے طریقوں سے آگاہ نہیں کیا تھا رپورٹ کے مطابق اگر کسی صحافی کو دھمکی ملے یا اس پر حملے کا خطرہ ہو تو اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ فوری مدد کے لیے کس سے رابطہ کرنا ہے اور اس کے ادارے کی جانب سے کیا معاونت دستیاب ہے
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سندھ کمیشن کے چیئرمین کے مطابق 44 میڈیا اداروں نے کمیشن کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کے جواب نہیں دیے اس صورت حال کو میڈیا اداروں کے تعاون اور جواب دہی کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ شکایات درج کرانے کے لیے آسان اور خفیہ طریقے فراہم کیے جائیں، خطرے کی فوری جانچ ہو، ہر معاملے کے لیے ذمہ دار افسر مقرر کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر پولیس سے فوری رابطے کا واضح طریقۂ کار موجود ہو
اس کے علاوہ حکومتوں، تحفظ کے کمیشنوں، پولیس، میڈیا مالکان اور صحافتی تنظیموں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے، کمیشنوں کے اخراجات اور کارروائیوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے اور متاثرہ صحافیوں کے مقدمات پر ہونے والی پیش رفت سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے رپورٹ کے مطابق قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہو تو انہیں احتیاط سے تیار کیا جائے تاکہ موجودہ قانونی رکاوٹیں دور ہوں اور صحافیوں کو حقیقی تحفظ حاصل ہو سکے
پاکستان میں صحافیوں کا تحفظ صرف کسی قانون یا کمیشن کے قیام سے یقینی نہیں بنایا جا سکتا اس کے لیے ضروری ہے کہ دھمکی ملنے پر شکایت آسانی سے درج ہو، خطرے سے دوچار صحافی کو بروقت مدد ملے، پولیس کارروائی میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اسی طرح میڈیا اداروں کو بھی اپنے کارکنوں کے تحفظ، قانونی معاونت اور ہنگامی حالات میں مدد فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی
رپورٹ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے پاکستان میں قانونی ڈھانچہ موجود ہونے کے باوجود اس وقت اصل ضرورت ان قوانین کو عملی طور پر مؤثر بنانا ہے اگر شکایات کے نظام، کمیشنوں کے اختیارات، مالی وسائل اور اداروں کی جواب دہی کو بہتر نہ بنایا گیا تو صحافیوں کو درپیش خطرات کے مقابلے میں موجودہ قوانین کا فائدہ محدود رہ سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید