Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مکہ دفاعی معاہدے کی وضاحت، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا اتحاد صرف دفاع تک محدود

مکہ دفاعی معاہدے کی وضاحت، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا اتحاد صرف دفاع تک محدود

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی مکمل دستاویز سامنے آنے کے بعد اس کے مقاصد اور حدود کے بارے میں اہم وضاحت ہوئی ہے معاہدے کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر بیرونی مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، تاہم اس میں دوسرے ممالک کے خلاف جارحانہ کارروائی شروع کرنے کی کوئی واضح شق شامل نہیں ہے
معاہدے کے 16 آرٹیکلز پر مشتمل متن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اتحاد کا بنیادی مقصد مشترکہ دفاع، فوجی تعاون اور رکن ممالک کی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے اس کی دوسری شق کے مطابق اگر کسی رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے باقی رکن ممالک کے خلاف بھی حملہ تصور کیا جائے گا اس صورت میں اقوام متحدہ کے منشور کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا جا سکتا ہے
معاہدے میں مشترکہ دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور تینوں ممالک کی افواج کے درمیان بہتر رابطے اور ہم آہنگی کے لیے تعاون بھی شامل ہے ان اقدامات سے دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے
ترکیہ کے وزیر خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ جارحانہ اتحاد نہیں ہے اور ترکیہ کسی دوسرے ملک میں فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا اس وضاحت سے ان خدشات میں کمی آ سکتی ہے کہ آیا اس اتحاد کے تحت ترکیہ یا پاکستان کو سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری تنازع میں براہ راست فوجی کارروائی کرنا پڑے گی
یمن کی جنگ کے تناظر میں یہ وضاحت خاص اہمیت رکھتی ہے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع نے خطے میں طویل عرصے سے کشیدگی پیدا کر رکھی ہے دفاعی معاہدے کی موجودہ تشریح کے مطابق کسی رکن ملک کے دفاع میں مدد اور کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی دو الگ معاملات ہیں اس لیے یمن کے تنازع کا حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کی اہمیت برقرار ہے
اسی دوران پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر نے ایران کا دورہ کرکے جنگ کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کی ہے I’m ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے 7 نکاتی تجویز قبول کرنے پر زور دیا گیا ہے ایران کے اہم مطالبات میں تمام محاذوں پر جنگ بندی، امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، پابندیوں میں نرمی اور ایرانی اثاثوں کی رہائی شامل ہیں
خطے میں امن کی کوششوں کے باوجود امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات سامنے آتے رہے ہیں ایران پر کسی نئی فوجی کارروائی کے نتیجے میں تنازع مزید پھیلنے کا خدشہ موجود ہے، جس کے اثرات خلیج، یمن اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک تک پہنچ سکتے ہیں
مکہ دفاعی معاہدے کی وضاحت پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ اسے ایک طرف سعودی عرب کے دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے اور دوسری طرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری جاری رکھنی ہے معاہدے کی دفاعی نوعیت واضح ہونے کے بعد اب اہم سوال یہ ہے کہ رکن ممالک مشترکہ سلامتی کے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے یمن اور ایران سے متعلق تنازعات میں مذاکرات اور سیاسی حل کو کس حد تک آگے بڑھا سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید