اے آئی کی عالمی جنگ میں نیا موڑ، امریکا نے چینی ڈیپ سیک پر سرکاری اداروں میں پابندی لگائی، بیجنگ نے جدید ٹیکنالوجی کی بیرونِ ملک منتقلی محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا
امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی بالادستی کی جنگ اب محض جدید ترین ماڈل بنانے تک محدود نہیں رہی، بلکہ دونوں طاقتیں حساس معلومات، قومی سلامتی، جدید چپس اور اے آئی ٹیکنالوجی کی عالمی رسائی پر کنٹرول کے لیے بھی آمنے سامنے ہیں،21 اکتوبر کو سامنے آنے والی امریکی اور چینی پیش رفت نے واضح کیا ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتیں اس ٹیکنالوجی کو مستقبل کی معاشی اور دفاعی طاقت کا بنیادی ستون سمجھتی ہیں
امریکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے وفاقی سول اداروں کے انفارمیشن ٹیکنالوجی نظاموں سے چینی مصنوعی ذہانت کے ماڈل ڈیپ سیک اور اس سے منسلک خدمات ہٹانے کا حکم دیا ہے،امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے حساس معلومات چین تک پہنچ سکتی ہیں یا امریکی اداروں کے لیے سائبر سکیورٹی کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں،بیجنگ نے اس اقدام کو چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف امتیازی پابندی قرار دیتے ہوئے واشنگٹن سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے
چین نے دوسری جانب 16 اکتوبر کو جدید ٹیکنالوجی کی برآمدات پر کنٹرول سخت کرنے کی تجاویز پیش کی تھیں،ان میں مصنوعی ذہانت کی 23 ٹیکنالوجیز بھی شامل ہیں، جن میں جدید بڑے اے آئی ماڈلز اور خودکار ایجنٹس کی تیاری اور استعمال سے متعلق حساس ٹیکنالوجی شامل ہے،مجوزہ پابندیوں کا مقصد قومی سلامتی اور اہم ٹیکنالوجی پر ملکی کنٹرول برقرار رکھنا بتایا گیا ہے،ان تجاویز پر عوامی مشاورت 15 نومبر تک جاری رہنی ہے، اس لیے انہیں ابھی مکمل طور پر نافذ شدہ پابندیاں قرار نہیں دیا جا سکتا
اس ٹیکنالوجی کی دوڑ میں امریکی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری بھی ایک بڑا محاذ بن چکی ہے،میٹا نے 21 اکتوبر کو بتایا کہ اس کی اے آئی ایجنٹ ایپ میوز کے شمالی امریکا میں صارفین کی تعداد تقریباً ڈیڑھ ماہ میں ایک کروڑ تک پہنچ گئی ہے،کمپنی اپنے اے آئی کاروبار کو وسعت دینے کے لیے سرمایہ کاری بڑھا رہی ہے، جبکہ 2026 میں اس کے سرمایہ جاتی اخراجات کا تخمینہ 135 سے 145 ارب ڈالر کے درمیان ہے،یہ اخراجات اے آئی نظاموں، کمپیوٹنگ صلاحیت اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کی عکاسی کرتے ہیں
امریکا اور چین دونوں جدید اے آئی نظاموں کو معاشی ترقی کے ساتھ دفاعی اور قومی سلامتی کا معاملہ بھی سمجھتے ہیں،واشنگٹن چینی ٹیکنالوجی تک حساس سرکاری نظاموں کی رسائی محدود کر رہا ہے، جبکہ بیجنگ اپنی جدید اے آئی ٹیکنالوجی بیرون ملک منتقل کرنے کے قواعد سخت کرنے کی تیاری کر رہا ہے،اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اے آئی کے خطرات سے متعلق رابطے بھی قائم ہیں، کیونکہ خودکار سائبر حملوں، اہم تنصیبات کی سلامتی اور طاقتور اے آئی نظاموں پر انسانی نگرانی جیسے معاملات دونوں کے لیے مشترکہ چیلنج ہیں
اس بڑھتی ہوئی کشمکش کا اثر صرف امریکی اور چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گا،جدید چپس، ڈیٹا سینٹرز، اے آئی ماڈلز اور سافٹ ویئر تک رسائی کے قواعد عالمی کاروبار، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل معیشت کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے،اصل مقابلہ اب اس بات پر بھی ہے کہ کون سی طاقت نہ صرف زیادہ جدید مصنوعی ذہانت تیار کرتی ہے بلکہ اس کے استعمال، تحفظ اور عالمی پھیلاؤ کے اصول بھی طے کرنے میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرتی ہے





