البرٹا کی علیحدگی کا معاملہ ختم، ڈینیئل اسمتھ کا کینیڈا سے الگ ہونے کے نئے ریفرنڈم سے انکار
البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے کہا ہے کہ جب تک وہ صوبے کی سربراہ ہیں، کینیڈا سے علیحدگی کے معاملے پر دوبارہ ریفرنڈم نہیں ہوگا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 19 اکتوبر کو ہونے والے ریفرنڈم میں البرٹا کے تقریباً 75 فیصد ووٹروں نے کینیڈا سے علیحدگی کے عمل کو آگے بڑھانے کی مخالفت کی
ڈینیئل اسمتھ نے کیلگری میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ البرٹا میں علیحدگی کی بحث کو اب ختم شدہ معاملہ سمجھتی ہیں ان کے مطابق صوبے کے عوام نے ریفرنڈم میں اپنی رائے دے دی ہے اور اب حکومت کی توجہ البرٹا کے مفادات کے تحفظ اور وفاقی حکومت کے ساتھ اختلافات حل کرنے پر ہوگی
ریفرنڈم میں تقریباً تین چوتھائی ووٹروں نے اس تجویز کی مخالفت کی کہ کینیڈا سے علیحدگی کے ممکنہ عمل کو آگے بڑھایا جائے یہ ووٹنگ براہ راست آزادی کے حق یا مخالفت میں حتمی فیصلہ نہیں تھی بلکہ اس کا تعلق علیحدگی کی جانب اگلا قدم اٹھانے سے تھا۔ نتائج نے واضح کیا کہ صوبے میں علیحدگی کی حمایت کرنے والی آوازوں کے باوجود ووٹروں کی بڑی اکثریت نے کینیڈا کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی
پریمیئر نے اس سے قبل کہا تھا کہ انہوں نے خود بھی کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا ان کے مطابق ریفرنڈم کا مقصد صوبے میں بڑھتی ہوئی اور تقسیم پیدا کرنے والی بحث کو ختم کرنا تھا تاہم، علیحدگی کی تحریک کے حامیوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات جاری رکھیں گے، اس لیے سیاسی اختلافات مکمل طور پر ختم ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی
اسمتھ نے یہ بھی واضح کیا کہ مستقبل میں اوٹاوا کے ساتھ کسی اختلاف کو حل کرنے کے لیے علیحدگی کے ریفرنڈم کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا ان کے مطابق البرٹا اپنے حقوق اور مفادات کے لیے سیاسی راستے اختیار کرے گا اور ضرورت پڑنے پر عدالتوں سے بھی رجوع کیا جائے گا اس موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ اپنے اختلافات برقرار رکھتے ہوئے انہیں کینیڈا کے آئینی اور قانونی نظام کے اندر حل کرنا چاہتی ہے
البرٹا اور وفاقی حکومت کے درمیان توانائی، تیل اور گیس کی صنعت، ماحولیاتی قوانین اور صوبائی اختیارات سمیت کئی معاملات پر اختلافات موجود رہے ہیں اسمتھ کی حکومت کا مؤقف ہے کہ وفاقی پالیسیوں نے البرٹا کی معیشت اور توانائی کے شعبے پر غیر ضروری پابندیاں عائد کیں دوسری جانب وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں صوبے کے مطالبات پر پیش رفت کے دعوے بھی کیے گئے ہیں، لیکن تمام اختلافات ابھی حل نہیں ہوئے
ریفرنڈم کے نتائج وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت کے لیے بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں، کیونکہ علیحدگی کی بحث نے کینیڈا کی قومی یکجہتی اور وفاقی نظام کے مستقبل سے متعلق سوالات اٹھائے تھے دوسری جانب کاروباری حلقوں نے علیحدگی کے امکان سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال پر تشویش ظاہر کی تھی ووٹروں کے فیصلے سے سرمایہ کاروں کو کسی حد تک اطمینان ملنے کی توقع ہے، تاہم البرٹا اور اوٹاوا کے درمیان پالیسی اختلافات ختم ہونے کے لیے مزید مذاکرات درکار ہوں گے
اس طرح ریفرنڈم نے البرٹا کی علیحدگی کی تحریک کو واضح سیاسی دھچکا پہنچایا ہے، لیکن صوبائی خودمختاری، توانائی کی پالیسی اور وفاقی اختیارات پر بحث جاری رہنے کا امکان ہے ڈینیئل اسمتھ کی حکومت اب علیحدگی کے بجائے کینیڈا کے اندر رہتے ہوئے البرٹا کے لیے مزید اختیارات اور اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کرے گی





