Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسرائیل میں انتخابات سے قیادت بدل سکتی ہے، ایران کے خلاف جنگی پالیسی نہیں، تازہ سروے میں نیتن یاہو کا اتحاد اکثریت سے پیچھے

اسرائیل میں انتخابات سے قیادت بدل سکتی ہے، ایران کے خلاف جنگی پالیسی نہیں، تازہ سروے میں نیتن یاہو کا اتحاد اکثریت سے پیچھے

تل ابیب: اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات ملک کی سیاسی قیادت تبدیل کرنے کا امکان تو رکھتے ہیں، لیکن ایران کے خلاف پالیسی، فوجی طاقت کے استعمال اور فلسطینی ریاست کے قیام کے معاملے پر بنیادی تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دیتے،رائٹرز کے تجزیے کے مطابق اسرائیل کی بڑی سیاسی جماعتوں میں ایران کو بنیادی حریف سمجھنے، فوجی کارروائیوں کو ترجیح دینے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کے معاملے پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے،انتخابی نتائج کے باوجود اسرائیل کی علاقائی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا امکان محدود دکھائی دیتا ہے
تازہ انتخابی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کا سیاسی اتحاد حکومت سازی کے لیے درکار 120 رکنی پارلیمان کی 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے،مڈل ایسٹ فورم کے 20 اکتوبر تک کے سروے اوسط میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 54 نشستیں مل سکتی ہیں جبکہ ان کے مخالف صہیونی جماعتوں کے اتحاد کو 52 نشستیں،اور عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا تخمینہ ہے،ان اعداد میں چار نشستوں کی غیر جانب دار یا غیر واضح سیاسی حیثیت کا فرق بھی اہم ہے۔ یہ سروے کی بنیاد پر تخمینے ہیں، حتمی انتخابی نتائج نہیں
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کو تازہ مختلف سروے میں تقریباً 18 سے 21 نشستیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، جبکہ سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشر تقریباً 20 سے 24 نشستوں کے ساتھ نمایاں حیثیت رکھتی ہے،نفتالی بینیٹ کی جماعت ٹوگیدر کو تقریباً 11 سے 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،یہ اعداد مختلف اداروں کے سروے پر مبنی ہیں، اس لیے کسی ایک جماعت کی نشستوں کی تعداد کو یقینی نہیں سمجھا جا سکتا
نیتن یاہو کا لیکوڈ ایک قوم پرست، دائیں بازو کی جماعت ہے جو مضبوط قومی سلامتی، فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت اور اسرائیلی فوجی برتری پر زور دیتی ہے،ان کی ممکنہ حکومت کا انحصار انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں پر بھی ہو سکتا ہے، جن میں اتمہ یہودیت، جسے یہودی طاقت بھی کہا جاتا ہے، اور مذہبی صہیونی جماعت شامل ہیں،اتمہ یہودیت کے سربراہ ایتامار بن گویر فلسطینیوں کے بارے میں سخت گیر مؤقف، سزائے موت کی حمایت اور اسرائیلیوں کے لیے اسلحہ رکھنے کے حق میں توسیع جیسے مطالبات کے لیے جانے جاتے ہیں،مذہبی صہیونی جماعت کے رہنما بیزلیل سموٹریچ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کے حامی ہیں،رائٹرز کے مطابق بن گویر کی جماعت کو کم از کم 8 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے حکومت سازی میں ان کا کردار اہم ہو سکتا ہے
دوسری جانب نیتن یاہو مخالف سیاسی حلقے بھی یکساں نظریاتی جماعتوں پر مشتمل نہیں ہیں،گادی آئزن کوٹ کی یاشر، نفتالی بینیٹ کی ٹوگیدر، یائر گولان کی ڈیموکریٹس اور اویگدور لیبرمین کی یسرائیل بیتینو مختلف سیاسی رجحانات رکھتی ہیں،آئزن کوٹ اور بینیٹ سابق فوجی و سیاسی شخصیات ہیں اور سلامتی کے معاملات میں سخت مؤقف رکھتے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس نسبتاً لبرل، سماجی جمہوری اور سیکولر رجحانات کی نمائندگی کرتی ہے،لیبرمین کی جماعت قوم پرست دائیں بازو سے تعلق رکھتی ہے، لیکن نیتن یاہو کی موجودہ حکومت کی مخالف ہے،اس لیے نیتن یاہو کی مخالفت کو بذاتِ خود بائیں بازو یا فلسطینی ریاست کے حامی ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا
انتخابات کے بعد حکومت سازی میں عرب جماعتوں کا کردار بھی اہم ہو سکتا ہے،تازہ سروے اوسط میں مشترکہ عرب فہرست کو 8 نشستیں اور منصور عباس کی قیادت میں رام جماعت کو 6 نشستیں ملنے کا اندازہ ہے،تاہم ان جماعتوں کی ممکنہ حمایت، حکومت میں شمولیت یا کسی اتحاد کو باہر سے سہارا دینے کا معاملہ سیاسی مذاکرات اور جماعتوں کے اپنے فیصلوں پر منحصر ہو گا،کسی بھی ایک بڑے سیاسی بلاک کے لیے 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنا آسان دکھائی نہیں دیتا
ایران کے معاملے میں رائٹرز کے تجزیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ نیتن یاہو کی کامیابی کی صورت میں جنگی حکمت عملی مزید سخت ہو سکتی ہے، لیکن ان کی شکست بھی ایران کے ساتھ فوری مفاہمت کی ضمانت نہیں ہو گی،اسرائیل کی سلامتی کی سوچ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں اور اس کے بعد غزہ، لبنان اور ایران میں ہونے والی جنگوں کے نتیجے میں مزید سخت ہوئی ہے،اس سوچ کے تین بنیادی ستون ایران کی فوجی اور علاقائی طاقت کو محدود کرنا، اسرائیلی سرحدوں سے باہر حفاظتی علاقے برقرار رکھنا اور مخالفین کو روکنے کے لیے فوجی طاقت استعمال کرنا ہیں
خلیجی عرب حکومتیں نیتن یاہو کی علاقائی پالیسیوں اور توسیع پسندانہ اقدامات سے محتاط ہیں، لیکن ایران کی طاقت محدود رکھنے میں بھی ان کی دلچسپی ہے،دوسری طرف تجزیہ کاروں کے مطابق صرف فوجی دباؤ سے ایران کو مکمل طور پر پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا مشکل ہو سکتا ہے،یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی انتخابات کا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ نیا وزیر اعظم کون ہو گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ نئی حکومت اسی سلامتی کی حکمت عملی کو کس شدت سے جاری رکھے گی اور سفارت کاری کے لیے کتنی گنجائش چھوڑے گی

قومی خبریں سے مزید