فرانس میں عوامی بغاوت کی نئی لہر، مہنگائی اور تعلیمی بحران کے خلاف احتجاج پورے یورپ میں پھیلنے لگا
فرانس میں طلبہ کی جانب سے شروع ہونے والا احتجاج اب مہنگائی، تعلیم کے لیے ناکافی وسائل، رہائش کے بڑھتے اخراجات اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف وسیع عوامی تحریک کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے ستمبر 2026 میں چند سرکاری اسکولوں کے طلبہ نے تعلیمی سہولتوں میں کمی اور وسائل کی قلت کے خلاف آواز اٹھائی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس احتجاج میں والدین، اساتذہ اور معاشرے کے دوسرے طبقات بھی شامل ہوگئے مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات بھی پیش آئے، تاہم احتجاج میں شریک بڑی تعداد کے مطالبات کا تعلق معاشی مشکلات اور بنیادی سہولتوں سے ہے
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کو ایسے وقت میں عوامی بے چینی کا سامنا ہے جب ملک کا سرکاری قرض مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 119 فیصد تک پہنچ چکا ہے حکومت کے لیے تعلیم، صحت اور سماجی سہولتوں پر اخراجات بڑھانا مشکل قرار دیا جارہا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ دولت مند طبقے پر وراثتی ٹیکس میں نسبتاً محدود اضافہ کرکے تعلیم میں بڑی سرمایہ کاری کے لیے وسائل پیدا کیے جاسکتے ہیں ماہرین معاشیات کے مطابق مسئلہ صرف قومی خزانے میں رقم کی کمی نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ دستیاب دولت کس طرح تقسیم کی جاتی ہے
فرانس میں احتجاج کے سیاسی اثرات بھی نمایاں ہیں دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین مہنگائی، امن و امان اور امیگریشن کے مسائل کو اپنی سیاسی مہم میں نمایاں کرتی رہی ہیں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ معاشی مشکلات سے پیدا ہونے والی عوامی ناراضی سے دائیں بازو کی سیاست کو فائدہ پہنچ سکتا ہے تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ احتجاج آئندہ صدارتی انتخاب کے نتائج پر کس حد تک اثر انداز ہوگا
یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی مہنگائی اور رہائش کے اخراجات کے خلاف احتجاج سامنے آیا ہے اسپین میں 87 سالہ ماری کارمین اباسکل کو تقریباً 70 سال سے جس گھر میں رہائش حاصل تھی، وہاں سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا اطلاعات کے مطابق ان کے کرائے میں 230 فیصد اضافہ کیا گیا تھا، جسے وہ برداشت نہیں کرسکیں بے دخلی کے تقریباً 2 ہفتے بعد ان کی موت ہوگئی، جس کے بعد رہائش کے بحران اور کرایہ داروں کے تحفظ پر بحث مزید شدت اختیار کرگئی اسپین میں 29 نومبر کو قبل از وقت انتخابات کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جبکہ کرایہ داروں کو ریلیف دینے کے حکومتی اقدامات سیاسی اختلافات کی نذر ہوئے ہیں
پرتگال، بیلجیئم اور اٹلی میں بھی زندگی کے بڑھتے اخراجات پر عوامی تشویش سامنے آئی ہے البانیہ میں ماحولیاتی تحفظ کے معاملے سے شروع ہونے والے مظاہروں نے یونیورسٹیوں کی خراب سہولتوں، مہنگی تعلیم اور بدعنوانی جیسے مسائل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اس طرح مختلف ممالک میں احتجاج کے اسباب الگ ہونے کے باوجود معاشی عدم تحفظ اور حکمران طبقے پر عدم اعتماد مشترکہ موضوعات بن رہے ہیں
فرانس کی موجودہ صورت حال کا موازنہ 1968 کے طلبہ احتجاج سے بھی کیا جارہا ہے، جب یونیورسٹیوں کے طلبہ کی تحریک کو بعد میں مزدوروں کی حمایت حاصل ہوئی اور صدر چارلس ڈیگال کی حکومت شدید دباؤ میں آگئی تھی اس وقت کے واقعات نے فرانسیسی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے تاہم تاریخ کے اس واقعے کو موجودہ حالات پر مکمل طور پر منطبق نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ آج کے معاشی اور سیاسی حالات مختلف ہیں
پاکستان کے تناظر میں بھی فرانس کے احتجاج سے اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں پشاور کے ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے 34 طلبہ اور ایک استاد کی ہلاکت جیسے واقعات کے بعد تعلیمی اداروں کی حالت، سرکاری اخراجات اور ذمہ داروں کے احتساب پر ملک گیر بحث کی ضرورت محسوس کی گئی ہے لیکن پاکستان میں ایسے سانحات کے بعد اکثر توجہ وقتی طور پر مرکوز رہتی ہے اور بنیادی مسائل کے مستقل حل کے لیے دباؤ برقرار نہیں رہتا
مجموعی طور پر فرانس اور یورپ کے دوسرے ممالک میں احتجاج اس حقیقت کو نمایاں کررہے ہیں کہ مہنگائی، تعلیم، صحت اور رہائش کے مسائل محض معاشی اعداد و شمار تک محدود نہیں رہتے بلکہ سیاسی عدم اطمینان کو بھی جنم دیتے ہیں حکومتوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ عوام کی بنیادی ضروریات، معاشی تحفظ اور سماجی انصاف سے متعلق مطالبات کا قابل عمل جواب دیں





