روبیو بھارت پہنچ گئے، تجارتی معاہدے، روسی تیل اور پاکستان امریکہ تعلقات پر اہم مذاکرات متوقع
امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو 20 اکتوبر 2026 کو بھارت کے دورے پر روانہ ہوئے، جہاں ان کی بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات اور کاروباری رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات طے ہیں اس دورے کا بنیادی مقصد امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے پر پیش رفت، توانائی کے شعبے میں تعاون اور دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا ہے روبیو ازبکستان کے دورے کے بعد بھارت پہنچ رہے ہیں۔ یہ رواں سال بھارت کا ان کا دوسرا سرکاری دورہ ہے
امریکا اور بھارت کئی ماہ سے ایک تجارتی معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں، لیکن محصولات، درآمدات اور منڈیوں تک رسائی کے معاملات پر اختلافات برقرار ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال اپریل میں محصولات کی پالیسی کے ذریعے متعدد تجارتی شراکت داروں پر دباؤ بڑھایا تھا، جس کے اثرات واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات پر بھی پڑے روبیو نے ازبکستان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک معاہدے کے بہت قریب ہیں، تاہم ان کے دورے کے دوران حتمی معاہدہ طے پانے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں بھارت کی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے بھی رواں ماہ مذاکرات میں پیش رفت کو مشکل قرار دیا تھا
تجارتی مذاکرات میں سب سے اہم مسائل میں سے ایک روس سے بھارت کی تیل کی درآمدات ہیں بھارت اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روسی خام تیل کا بڑا خریدار ہے واشنگٹن چاہتا رہا ہے کہ بھارت روسی تیل پر انحصار کم کرے، کیونکہ امریکا یوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوشش کرتا رہا ہے روبیو نے کہا کہ توانائی کی فراہمی کے متبادل ذرائع اختیار کرنا ہر ملک کے لیے فوری طور پر ممکن نہیں اور کسی ایک مسئلے کی بنیاد پر دوسرے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانا بھی مناسب نہیں
دونوں ممالک کے درمیان فروری میں ایک عبوری تجارتی سمجھوتا طے پایا تھا، جس کا مقصد بھارتی مصنوعات پر امریکی محصولات کم کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا تاہم اس کے چند روز بعد امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے وسیع محصولات کے نظام کو کالعدم قرار دے دیا، جس سے معاہدے کے نفاذ کے بارے میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہوئی اس کے بعد مذاکرات جاری رہے، لیکن محصولات اور تجارتی رعایتوں کی شرائط پر اختلافات ختم نہیں ہو سکے
روبیو کے دورے میں توانائی کے علاوہ سرمایہ کاری، دفاع اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بھی زیر بحث آنے کی توقع ہے وہ ممبئی میں بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے اور بعد ازاں گجرات کے شہر جام نگر جائیں گے، جہاں ارب پتی کاروباری شخصیت مکیش امبانی کے ریلائنس گروپ کی بڑی آئل ریفائنری واقع ہے یہ ریفائنری عالمی سطح پر تیل صاف کرنے کے بڑے مراکز میں شمار ہوتی ہے روبیو کی کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع کو آگے بڑھانا بھی ہے
اس دورے کا ایک اہم پس منظر پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں آنے والی بہتری بھی ہے، جسے بھارت میں تشویش کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ٹرمپ کے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرانے کے دعووں، روسی تیل کے معاملے اور امریکی تجارتی پالیسیوں نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں تناؤ پیدا کیا ہے تاہم امریکا اور بھارت دونوں کے لیے دفاع، تجارت اور خطے کی سلامتی کے شعبوں میں تعاون برقرار رکھنا اہم ہے
روبیو اپنے دورے کے دوران نومبر 2008 میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے متاثرین کی یاد میں پھولوں کی چادر بھی چڑھائیں گے ان حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے اس دورے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات طے نہیں ہے، اس لیے توجہ زیادہ تر تجارتی، توانائی اور کاروباری مذاکرات پر مرکوز رہے گی
مجموعی طور پر یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب امریکا اور بھارت ایک طرف تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور دوسری طرف روسی تیل، محصولات اور علاقائی تعلقات پر اختلافات کا سامنا ہے اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو دونوں ممالک کے کاروبار، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، لیکن حتمی معاہدے کی شرائط اور اس کے نفاذ کے وقت کے بارے میں ابھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا






