Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

البرٹا کے عوام نے کینیڈا سے علیحدگی کی راہ مسترد کر دی، 76 فیصد ووٹروں کی ملک کے ساتھ رہنے کی حمایت

البرٹا کے عوام نے کینیڈا سے علیحدگی کی راہ مسترد کر دی، 76 فیصد ووٹروں کی ملک کے ساتھ رہنے کی حمایت

کینیڈا کے صوبے البرٹا میں 19 اکتوبر 2026 کو ہونے والے تاریخی ریفرنڈم میں عوام کی واضح اکثریت نے کینیڈا کا حصہ رہنے کی حمایت کی اور علیحدگی کے عمل کو آگے بڑھانے کی تجویز مسترد کر دی ابتدائی نتائج کے مطابق تقریباً 76 فیصد ووٹروں نے کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ تقریباً 23 فیصد نے علیحدگی کے لیے آئندہ قانونی عمل شروع کرنے کی حمایت کی یہ ریفرنڈم براہ راست آزادی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس میں پوچھا گیا تھا کہ آیا البرٹا کو مستقبل میں کینیڈا سے علیحدگی پر حتمی اور پابند ریفرنڈم کرانے کا قانونی عمل شروع کرنا چاہیے یا نہیں
وزیراعظم مارک کارنی نے نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ البرٹا کے عوام نے اتحاد کا انتخاب کیا ہے اور وہ مل کر ملک کی تعمیر اور ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے کینیڈا کو اپنی تجارت میں تنوع پیدا کرنے، بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں اپنی حیثیت مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے
البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے علیحدگی کی حمایت نہیں کی تھی، تاہم انہوں نے ریفرنڈم کرانے کی اجازت دی تاکہ صوبے کے عوام اپنی رائے کا اظہار کر سکیں البرٹا میں وفاقی حکومت کی پالیسیوں، توانائی کے شعبے پر وفاقی اختیارات اور صوبائی معاملات میں مداخلت کے حوالے سے طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کے خلاف تجارتی محصولات اور کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے سے متعلق بیانات نے بھی قومی اتحاد کے معاملے کو مزید اہم بنا دیا تھا
اس ریفرنڈم میں علیحدگی کے سوال کے علاوہ 9 دیگر سوالات بھی شامل تھے ان میں امیگریشن پر صوبائی اختیارات بڑھانے، بعض سرکاری سہولتوں تک رسائی کے لیے امیگریشن کی حیثیت سے متعلق شرائط، غیر مستقل امیگریشن حیثیت رکھنے والے افراد کے لیے سماجی سہولتوں کے حصول سے پہلے 12 ماہ صوبے میں رہائش، صحت اور تعلیم کی بعض سہولتوں کے لیے فیس، صوبائی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے شہریت کا ثبوت، ججوں کی تقرری میں صوبائی اختیار، وفاقی سینیٹ کے خاتمے اور وفاقی و صوبائی قوانین کے درمیان اختیارات کی تقسیم جیسے معاملات شامل تھے ان سوالات کے نتائج بھی الگ الگ شمار کیے جا رہے تھے
انتخابی حکام کے مطابق ابتدائی ووٹنگ اور ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے والوں کی مجموعی شرح 43.1 فیصد رہی ابتدائی ووٹنگ کے دوران 837,791 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ ڈاک کے ذریعے 519,082 بیلٹ موصول ہوئے بعض پولنگ اسٹیشن دیر سے کھلنے کے باعث ووٹنگ کے اوقات میں توسیع کرنا پڑی، جس سے نتائج کے اعلان میں تاخیر ہوئی انتخابی حکام نے واضح کیا کہ غیر حتمی نتائج کی جانچ پڑتال کے بعد سرکاری نتائج کا اعلان 29 اکتوبر 2026 کو کیا جائے گا
علیحدگی کی تحریک کے رہنماؤں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اگر عوام علیحدگی کے عمل کو آگے بڑھانے کی مخالفت بھی کرتے ہیں تو وہ اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے اس لیے ریفرنڈم کے نتائج نے کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں واضح عوامی حمایت تو ظاہر کر دی ہے، تاہم وفاقی حکومت اور البرٹا کے درمیان اختیارات، امیگریشن اور توانائی کی پالیسیوں پر اختلافات ختم ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی

قومی خبریں سے مزید