امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والی عالمی فوجداری عدالت یورپی یونین کے انسانی حقوق ایوارڈ کی حتمی امیدواروں میں شامل
فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو انسانی حقوق کے لیے اپنے اعلیٰ ترین اعزاز سخاروف پرائز کے 3 حتمی امیدواروں میں شامل کر لیا ہے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عدالت کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا ہے اور اس کے کام کو محدود کرنے کی دھمکی دی ہے اس پیش رفت کو عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی انصاف کے اداروں کی آزادی کی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی جیسے سنگین جرائم کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ اس عدالت کا قیام 2002 میں عمل میں آیا تھا اس کا مقصد ایسے سنگین جرائم پر قانونی کارروائی کرنا ہے جن کے ذمہ دار افراد کو قومی سطح پر مؤثر طور پر انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا جا سکے
امریکی انتظامیہ کی جانب سے عدالت پر پابندیوں کی بنیادی وجہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف جاری کیا گیا گرفتاری کا وارنٹ ہے عدالت نے غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے سلسلے میں نیتن یاہو کے خلاف کارروائی کی تھی، جس پر ٹرمپ انتظامیہ نے سخت ردعمل ظاہر کیا امریکہ کا مؤقف ہے کہ عدالت کے اقدامات امریکی خودمختاری اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ عدالت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کا اطلاق طاقتور اور کمزور ممالک کے لیے یکساں ہونا چاہیے
ٹرمپ انتظامیہ نے رواں ماہ عدالت کے خلاف پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اس کے روزمرہ کام کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے ان اقدامات کے نتیجے میں عدالت کے لیے امریکی مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی اور امریکی ڈالر میں لین دین تک رسائی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں پابندیوں پر عمل درآمد کے لیے 6 ماہ کی مہلت بھی دی گئی ہے، جس دوران متعلقہ اداروں اور کمپنیوں کو اپنے معاملات تبدیل کرنا ہوں گے
یورپی یونین نے امریکی اقدامات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عالمی فوجداری عدالت کی آزادی اور کام جاری رکھنے کی حمایت کی ہے یورپی رہنماؤں نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ پابندیاں واپس لے اور اس معاملے کو سفارتی بات چیت کے ذریعے حل کرے یورپی یونین نے عدالت کو ضروری مالی اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے
سخاروف پرائز کے لیے عدالت کے علاوہ تنزانیہ کی حزب اختلاف کی جماعت چادیما کے رہنما تندو لیسو اور ایران میں حکومت مخالف احتجاج میں حصہ لینے والی جڑواں بہنیں ترانے رحیمی اور رومینا رحیمی بھی حتمی امیدواروں میں شامل ہیں
لیسو کو اپریل 2025 میں گرفتار کیا گیا تھا ان پر گزشتہ سال کے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کے ذریعے عوام کو اکسانے کا الزام ہے اور غداری کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر انہیں سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے
ایرانی جڑواں بہنوں ترانے اور رومینا رحیمی، دونوں کی عمریں 21 سال ہیں اطلاعات کے مطابق، حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کے الزام میں ترانے کو سزائے موت جبکہ رومینا کو 36 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے ان کا معاملہ ایران میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی صورت حال کی جانب توجہ دلاتا ہے
سخاروف پرائز 1988 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا نام سابق سوویت مخالف رہنما آندرے سخاروف کے نام پر رکھا گیا یورپی پارلیمنٹ ہر سال یہ اعزاز ایسے افراد یا اداروں کو دیتی ہے جو انسانی حقوق اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں
عالمی فوجداری عدالت کی نامزدگی اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ بین الاقوامی انصاف کے اداروں کو اس وقت طاقتور ممالک کی سیاسی مخالفت اور دباؤ کا سامنا ہے عدالت کے حامیوں کے مطابق، اگر بین الاقوامی قانون کے تحت جرائم کی تحقیقات کرنے والے اداروں کو سیاسی دباؤ کے ذریعے محدود کیا گیا تو جنگی جرائم کے متاثرین کے لیے انصاف حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے
تاہم، امریکہ اور عدالت کے درمیان اختلاف صرف موجودہ اسرائیلی قیادت کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں امریکہ کا مؤقف یہ رہا ہے کہ وہ ایسے بین الاقوامی عدالتی اختیارات کو قبول نہیں کرتا جو اس کے شہریوں یا اتحادیوں کے خلاف اس کی رضامندی کے بغیر استعمال کیے جائیں اس کے برعکس عدالت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سنگین بین الاقوامی جرائم کے لیے جواب دہی کا نظام اسی وقت مؤثر ہو سکتا ہے جب سیاسی طاقت کسی فرد کو قانون سے بالاتر نہ بنا دے
یورپی یونین کی جانب سے عدالت کو انسانی حقوق کے اعزاز کے لیے نامزد کرنا ایک اہم سفارتی اشارہ ہے، لیکن اس سے امریکی پابندیاں خود بخود ختم نہیں ہوں گی اور نہ ہی عدالت کے مالی و انتظامی مسائل فوری طور پر حل ہوں گے اصل امتحان یہ ہوگا کہ یورپی ممالک عدالت کو عملی تعاون فراہم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اور آیا بین الاقوامی انصاف کے ادارے سیاسی اختلافات کے باوجود اپنا کام آزادانہ طور پر جاری رکھ سکتے ہیں






