Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مر نہ جاتے تو اور کیا کرتےیونان کے قریب دو کشتیوں کے حادثات، 12 تارکین وطن ہلاک، 22 افراد کو بچا لیا گیا، مزید لاپتہ افراد کی تلاش

مر نہ جاتے تو اور کیا کرتے
یونان کے قریب دو کشتیوں کے حادثات، 12 تارکین وطن ہلاک، 22 افراد کو بچا لیا گیا، مزید لاپتہ افراد کی تلاش

ایتھنز: یونان کے جزائر لیسبوس اور ساموس کے قریب بحیرہ ایجیئن میں تارکین وطن کو لے جانے والی دو تیز رفتار کشتیاں الگ الگ حادثات کا شکار ہو گئیں، جن کے نتیجے میں ایک شیرخوار بچے سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ 22 افراد کو بچا لیا گیا۔ یونانی حکام کے مطابق دونوں واقعات میں انسانی اسمگلنگ کے شبہے میں ایک ترک اور ایک ایرانی شہری کو گرفتار کیا گیا ہے
یونانی کوسٹ گارڈ کے مطابق پہلا حادثہ جزیرے لیسبوس کے قریب پیش آیا، جہاں ترکی کے ساحل سے آنے والی تارکین وطن کی کشتی کا تعاقب کرنے والی یونانی کوسٹ گارڈ کی گشتی کشتی سے تصادم ہوگیا،حکام کا کہنا ہے کہ تیز رفتار کشتی گشتی جہاز کے بائیں حصے سے ٹکرانے کے بعد الٹ گئی،اس حادثے میں چار مرد، ایک خاتون اور ایک شیرخوار بچہ ہلاک ہوئے، جبکہ آٹھ افراد کو بچا لیا گیا،زندہ بچنے والوں میں شامی اور فلسطینی شہری شامل تھے،اس واقعے میں کشتی چلانے کے شبہے میں 37 سالہ ترک شہری کو گرفتار کیا گیا
دوسرا حادثہ جزیرے ساموس کے قریب پیش آیا، جہاں ترکی سے آنے والی ایک تیز رفتار کشتی اچانک رخ بدلنے کے بعد الٹ گئی،اس حادثے میں پانچ مرد اور ایک خاتون ہلاک ہوئے، جبکہ 14 افراد کو بچا لیا گیا،یونانی حکام کے مطابق بچائے جانے والوں میں ایک ایرانی شہری بھی شامل تھا، جس پر انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ہے،حکام نے اس واقعے کے بعد مزید ممکنہ لاپتہ افراد کی تلاش بھی شروع کی، تاہم ابتدائی اطلاعات میں دونوں کشتیوں پر سوار افراد کی مجموعی تعداد اور تمام مسافروں کی شہریت کی مکمل تفصیل سامنے نہیں آئی
دونوں حادثات کے بعد یونانی حکام نے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو ان واقعات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تارکین وطن کو غیر محفوظ کشتیوں میں سمندر پار کرانے والے گروہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں،یونان کے وزیر برائے بحری امور و جزائر ویسیلیس کیکیلیاس نے واقعات پر افسوس اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے انسانی اسمگلروں کے خلاف سخت کارروائی کے عزم کا اعادہ کیا
ترکی کے مغربی ساحل اور یونان کے مشرقی جزیروں کے درمیان بحیرہ ایجیئن کا راستہ مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کے لیے اہم گزرگاہ ہے،بہت سے افراد بہتر مستقبل، روزگار یا جنگ اور غربت سے بچنے کی امید میں انسانی اسمگلروں کو بھاری رقوم ادا کرتے ہیں، مگر انہیں اکثر چھوٹی اور غیر محفوظ کشتیوں میں خطرناک سمندری سفر کرنا پڑتا ہے
یورپی سرحدی ادارے فرونٹیکس کے مطابق 2026 کے پہلے نو ماہ میں مشرقی بحیرہ روم کے راستے یورپی یونین میں داخلے کی تقریباً 31 ہزار 800 کوششیں ریکارڈ کی گئیں،مجموعی طور پر یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں پر غیر قانونی آمد میں کمی کے باوجود مشرقی بحیرہ روم تارکین وطن کی آمد کا ایک اہم راستہ رہا ہے
یونانی حکام کے مطابق دونوں حادثات کی وجوہات اور اسمگلنگ کے شبہے میں گرفتار افراد کے کردار کی تحقیقات جاری ہیں
انسانی المیہ یہ ہے کہ فلسطین اور شام سمیت جنگ، تشدد، بھوک اور غربت سے متاثرہ ملکوں کے شہری جب اپنی جان بچانے کے لیے سمندر کی خطرناک لہروں کا رخ کرتے ہیں تو انہیں اکثر غیر قانونی تارکین وطن قرار دے کر روکنے اور واپس بھیجنے پر ساری توجہ مرکوز کر دی جاتی ہے،فلسطینیوں اور شامیوں سمیت ان خطوں کے لاکھوں انسان پہلے ہی برسوں سے جنگوں اور تباہی کی قیمت ادا کر چکے ہیں،سوال یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری ان لوگوں کو یورپ پہنچنے سے روکنے کے لیے جس عزم اور وسائل کا مظاہرہ کرتی ہے، کیا اتنی ہی سنجیدگی ان جنگوں کے خاتمے، امن کے قیام، غربت کے ازالے اور متاثرہ معاشروں کی تعمیرِ نو کے لیے بھی دکھائی جاتی ہے؟ انسانی اسمگلنگ یقیناً ایک سنگین جرم ہے، لیکن اس کے خلاف کارروائی ان حالات سے آنکھیں بند کرنے کا جواز نہیں بن سکتی جو لوگوں کو اپنی جانیں داؤ پر لگانے پر مجبور کرتے ہیں،اگر لوگ اپنے وطن میں محفوظ نہیں، انہیں روزگار میسر نہیں اور ان کے بچوں کے مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں تو محض سرحدیں سخت کرنے سے بحران ختم نہیں ہوگا،اصل حل یہ ہے کہ جنگوں کو روکنے، انسانی حقوق کے تحفظ، معاشی بحالی اور محفوظ قانونی راستوں کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں،ورنہ دنیا سمندر میں ڈوبنے والوں کی لاشیں گنتی رہے گی، انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہیں گی، مگر وہ بنیادی اسباب برقرار رہیں گے جو ہر سال مزید انسانوں کو موت کے خطرے میں دھکیلتے ہیں

قومی خبریں سے مزید