گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا میں آٹے کی صورت حال بہتر، پھر سوال اٹھتا ہے کہ عوام کو پہلے ریلیف کیوں نہیں ملا؟
پشاور:خیبر پختونخوا میں آٹے کی قلت اور قیمتوں پر پنجاب کے ساتھ جاری تنازعہ کے درمیان گورنر راج کے بعد صورت حال بہتر ہونے کے دعوے نے وفاقی اور صوبائی سیاست پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں،پاکستان تحریک انصاف کی سابق صوبائی حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی کہ پنجاب کی جانب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندیوں نے خیبر پختونخوا میں قیمتیں بڑھانے اور فراہمی متاثر کرنے میں کردار ادا کیا،اب اگر وفاق کے مقرر کردہ انتظامی نظام میں آٹے کی فراہمی بہتر ہو رہی ہے تو عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اس مسئلے کو پہلے کیوں حل نہیں کیا جا سکا
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے 15 اکتوبر کو کہا تھا کہ صوبے کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور آٹے کی قلت دور کرنے کے لیے بھی اقدامات کی ضرورت ہے،اس سے پہلے صوبائی حکومت کے معاون خصوصی برائے خوراک نے پنجاب کی جانب سے گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندیوں کو آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ قرار دیا تھا،یوں آٹے کا معاملہ محض رسد اور طلب کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشمکش کا حصہ بھی بن گیا تھا
اگر گورنر راج کے بعد واقعی آٹے کی دستیابی بہتر ہوئی ہے تو اس تبدیلی کی وجوہات سامنے لانا ضروری ہے،کیا پنجاب سے گندم کی ترسیل میں رکاوٹیں دور ہوئیں؟ کیا وفاق نے کوئی نئی انتظامی ہدایت جاری کی؟ کیا سرکاری گندم کی فراہمی یا تقسیم کا طریقہ بدلا؟
پاکستانی سیاست کا ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ وفاق اور صوبوں کی لڑائی میں اکثر عام شہری کی بنیادی ضروریات پس منظر میں چلی جاتی ہیں،سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو ناکام ثابت کرنے میں مصروف رہتی ہیں، لیکن آٹے کی قیمت بڑھنے پر سب سے زیادہ نقصان اس گھرانے کو ہوتا ہے جس کی آمدنی پہلے ہی محدود ہو،غریب خاندان کے لیے آٹا کسی سیاسی جماعت کی کامیابی یا ناکامی کا نعرہ نہیں بلکہ روزانہ کی روٹی کا سوال ہے
اگر حکومتیں انتظامی اختیار استعمال کرکے کسی مسئلے کو حل کر سکتی ہیں تو پھر یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ عوام کو اس ریلیف کے لیے سیاسی بحران اور حکومتی محاذ آرائی کا انتظار کیوں کرنا پڑا،خیبر پختونخوا کے شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آٹے کی فراہمی میں پہلے رکاوٹیں کیا تھیں، ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور آئندہ ایسی صورت حال سے بچنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے
حکومت کی تبدیلی یا گورنر راج کسی انتظامی اقدام کی کامیابی کا حتمی ثبوت نہیں،اصل امتحان یہ ہے کہ آٹا مسلسل دستیاب رہے، قیمتیں عام آدمی کی پہنچ میں ہوں اور کسی بھی سیاسی اختلاف کی سزا شہریوں کو نہ بھگتنا پڑے،اگر موجودہ انتظامیہ اس معاملے میں بہتری لانے میں کامیاب ہوتی ہے تو اسے شفاف اعداد و شمار کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے،اور اگر پہلے کی رکاوٹیں سیاسی یا انتظامی فیصلوں کا نتیجہ تھیں تو ان کی ذمہ داری بھی متعین ہونی چاہیے
آخرکار سوال کسی ایک جماعت کی جیت یا ہار کا نہیں، عوام کی روٹی کا ہے،اگر آٹے کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے آج اقدامات ممکن ہیں تو کل یہ اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ پاکستانی سیاست کو اس بنیادی اصول کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اقتدار کی کشمکش میں عوام کی بھوک کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، ادھر کچھ ذمہ دار سنجیدہ حلقے یہ دعویٰ بھی کررہے ہیں جلد ہی یہ بھی دعویٰ کیا جانے والا ہے صوبہ کے پی کے میں دھشتگردی میں بھی کمی آئ ہے اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئ ہے






