ناسا کاؤنٹی اور پاکستان میں مماثلت کانگریس مین ٹام سوازی نے پاک فوج کو دھو کر رکھ دیا،حلقے کے پاکستانیوں سے خطاب جہاں یہودیوں اور انڈین کے مقابلے میں اول تو ووٹ نہیں جو ہے وہ ڈالا نہیں جاتا
رپورٹ آفاق فاروقی
نامور ڈیموکریٹ کانگریس مین ٹام سوازی نے کہا ہے پاکستان کا اس وقت وہی حال ہے جو ناسا کاؤنٹی کا میری چیف ایگزیٹو کی پہلی مدت میں دیکھنے کو ملا تھا کہ کاؤنٹی کی پولیس انتہای مظبوط منظم اور ترقی یافتہ تھی جبکہ باقی سرکاری ادارے زبوں حالی کا شکار تھے، پاکستان میں بھی فوج منظم اور مظبوط ہے اور سول ادارے اور حکومت بدحال و زبوں حالی کا شکار ہیں ، ناسا کاؤنٹی میں کانگریشنل ڈسٹرکٹ تین سے مڈ ٹرم انتخابات میں کانگریس کے لیے ایک بار پھر ڈیموکریٹک امیدوار ٹام سوازی نے لانگ آئ لینڈ میں امریکن پاکستانی تنظیم AP Pak کی جانب سے منقعد کیے گئے Meet and greet ( انتخابی جلسے ) سے خطاب اور بعد ازاں سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے پاکستانی فوج کو مظبوط رہنا چاہیئے کہ وہ ایک ایٹمی فوج ہے اگر پاک فوج کمزور ہوگی تو خطرہ ہے پاکستان کا ایٹم بم دھشگردوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے ، تاہم پاکستان کے سول اداروں اور حکومت کو بھی مظبوط منظم ہونا چاہیے ،ٹام سوازی سے پاکستان میں بحالی جمہوریت کے پسمنظر میں کسی ممکنہ امریکی کردار کے بارے میں پوچھ گیا ا تو انہوں نے کہا جہاں تک پاکستان میں سرمایہ کاری اور امریکی و پاکستانی فوج کے تعلقات کا معاملہ ہے، میری نظر میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان قریبی تعلقات ہیں جو تقریباً 60 سال پرانے ہیں، بلکہ تقسیمِ ہند سے بھی پہلے کے ہیں، کانگریس مین ٹام سوازی نے کہا ہے
جب میں ناساؤ کاؤنٹی کا کاؤنٹی ایگزیکٹو بنا تو میرے آنے سے پہلے اسے امریکہ کی سب سے بدانتظامی کا شکار کاؤنٹی قرار دیا گیا تھا
جب میں وہاں گیا اورعمارتوں میں داخل ہوا تو چھتوں سے رنگ اکھڑ رہا تھا،ہوا کی نکاسی کے نظام کو دیکھا تو تمام وینٹیلیشن کے راستوں پر گرد و غبار جمع تھا،جو عمارت معذور افراد کے لیے تھی، وہاں ان کی سہولت کے لیے ایک ریمپ تک موجود نہیں تھا
تمام آلات اور مشینری ٹوٹی پھوٹی حالت میں تھے، جن میں ٹرک، گاڑیاں اور گھاس کاٹنے والی مشینیں بھی شامل تھیں، پارکوں کی حالت خراب تھی اور ہر طرف بدانتظامی نظر آتی تھی
لیکن جب آپ پولیس ڈیپارٹمنٹ جاتے تو وہاں صورتحال بالکل مختلف تھی،ان کے پاس نئے کمپیوٹر موجود تھے،اگرچہ عمارتیں پرانی تھیں، لیکن وہ انتہائی صاف ستھری تھیں،فرش چمک رہے تھے، نئی گاڑیاں اور جدید آلات موجود تھے
وہ ادارہ انتہائی منظم انداز میں کام کر رہا تھا، تقریباً ایک نیم فوجی تنظیم کی طرح
لیکن حکومت کا سول شعبہ مکمل طور پر تباہ حال تھا اور اسے کئی دہائیوں سے نظرانداز کیا جا رہا تھا
پاکستان میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے
وہاں فوج کے پاس بہترین تربیت موجود ہے،میں فوج کی عزت کرتا ہوں،وہ بہت اچھا کام کرتے ہیں، ان کی تربیت شاندار ہے، ان کے پاس جدید ہتھیار اور آلات موجود ہیں اور وہ انتہائی مؤثر انداز میں کام کرتے ہیں
لیکن اگر آپ حکومت کے سول شعبے کو دیکھیں تو وہاں بھی بہت ذہین لوگ موجود ہیں،پی ایچ ڈی ڈاکٹرز ہیں اور انتہائی قابل افراد ہیں، لیکن ان کے پاس ضروری وسائل اور آلات موجود نہیں ہیں
ان کے دفاتر اتنے اچھے نہیں ہیں اور ان کا اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ رابطہ بھی اتنا مضبوط نہیں ہے،انہیں وہ توجہ نہیں دی گئی جس کے وہ مستحق ہیں
یہ سوچنا بے وقوفی ہوگی کہ فوج اچانک ختم ہو جائے گی، فوج ایک طویل عرصے تک وہاں موجود رہے گی
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان میں فوج مستحکم رہے، کیونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے
امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا ہو اور ایٹمی ہتھیار انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ جائیں،یہ تشویش بھارت اور پاکستان دونوں کے حوالے سے موجود رہتی ہے
میں نے پاکستانی حکام سے یہی کہا ہے کہ ہم فوج کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہمیں حکومت کے سول شعبے کو مضبوط بنانا ہوگا
ہمیں سول اداروں کو اختیارات دینے ہوں گے تاکہ وہ معاشی ترقی، زراعت، صنعت، سیاحت اور تعلیم جیسے شعبوں کو آگے بڑھا سکیں
انہوں نے کہا ہے میں نے پاکستان میں ایک آزاد ثالثی بورڈ قائم کرنے کا مشورہ دیا ہے، جس کے ذریعے ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے میں بہت مدد ملے گی، ٹام سوازی نے کہا ہے ایران جنگ کے حوالے سے میرا ماننا ہے کہ صدر کو امریکی کانگریس کے پاس آنا چاہیے اور کانگریس سے بات کرنی چاہیے،مجھے لگتا ہے کہ اس جنگ کو بہت غلط طریقے سے ہینڈل کیا گیا ہے،اس کا کوئی واضح حتمی مقصد یا حکمتِ عملی نہیں ہے،میرا خیال ہے کہ صدر کو کانگریس میں آنا چاہیے تاکہ وہ ہمارے ساتھ مل کر کام کریں، اور ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ اس جنگ سے کیسے باہر نکلا جائے
کانگریس میں نے کہا ہے جس طرح دنیا میں بہت سے لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کو پسند نہیں کرتے، لیکن میں نہیں چاہتا کہ لوگ اس وجہ سے امریکہ سے نفرت کریں
میں پاکستان کی تمام پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتا،میں نے اصلاحات کے لیے تجاویز بھی دی ہیں، لیکن میں پاکستان کی سیاست میں مداخلت نہیں کروں گا، بالکل اسی طرح جیسے ہم نہیں چاہتے کہ وہ ہماری سیاست میں مداخلت کریں
میں نے بہت سے لوگوں سے سیاسی قیدیوں کو جیل بھیجنے کے معاملے پر بات کی ہے
کچھ اعلیٰ سطح کے لوگوں نے مجھے بتایا کہ پاکستان میں ہر کسی کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے،دونوں طرف سے یہ سلسلہ چلتا آیا ہے، انہوں قہقہ لگاتے ہوئے کہا
ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں وزیراعظم بننے کے لیے پہلے جیل جانا پڑتا ہے
لیکن میں اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتا
اس وقت ہر سال تقریباً دس لاکھ قانونی تارکینِ وطن امریکہ آتے ہیں
ان میں سے تقریباً سات لاکھ افراد خاندانی ملاپ کے پروگرام کے تحت آتے ہیں
ریپبلکنز اسے خاندانی ملاپ کے بجائے “چین مائیگریشن” کہتے ہیں اور اسے منفی نظر سے دیکھتے ہیں
تقریباً پچاس ہزار افراد ڈائیورسٹی لاٹری کے ذریعے امریکہ آتے ہیں، جبکہ ایک لاکھ کے قریب افراد ورک ویزوں پر آتے ہیں
دوسری طرف امیگریشن درخواستوں کا بیک لاگ لاکھوں اور کروڑوں میں ہے،صرف خاندانی امیگریشن کے مقدمات میں ہی تقریباً دو کروڑ افراد انتظار کر رہے ہیں
جے ڈی وینس، اسٹیو بینن اور اسٹیفن ملر میری مخالفت اس لیے کرتے ہیں کیونکہ میں امیگریشن کے معاملے پر دونوں جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے سے کوئی حل نکالنا چاہتا ہوں
میرا مؤقف یہ ہے کہ ہمیں اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا چاہیے اور سیاسی پناہ کے نظام کو بہتر کرنا چاہیے
لیکن ساتھ ہی ان لوگوں کے لیے بھی قانونی راستہ فراہم کرنا چاہیے جو امریکہ میں دس، بیس، تیس یا چالیس سال سے رہ رہے ہیں، جنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا، جو ٹیکس ادا کرتے ہیں اور محنت مزدوری کرکے اپنا روزگار کماتے ہیں
میں یہ نہیں کہتا کہ انہیں امریکی شہریت دے دی جائے، بلکہ صرف کام کرنے کی قانونی اجازت دے دی جائے
تاکہ انہیں ہر وقت یہ خوف نہ رہے کہ ان کے والد یا والدہ کو ان کے بچوں سے الگ کر دیا جائے گا
کسی شخص کو اس کے اہلِ خانہ سے جدا کرنا غیر انسانی اور امریکی اقدار کے خلاف ہے
اور میں اسی ناانصافی کے خلاف جدوجہد کر رہا ہوں
ٹام سوازی نے کہا انکے حلقے میں یہودی، انڈین سمیت متعدد کمیونٹیز رہائش پزیر ہیں اور وہ سب کے سیاسی سماجی مذہبی جذبات کی قدر کرتے ہیں اور انکی کوشش ہے وہ سب کو ساتھ لیکر چلیں ، انہوں نے کہا ہے انہوں نے ابراہم ایکارڈ کی حمایت کی، کیونکہ وہ مسئلہ فلسطین کے حل کے ساتھ عرب دنیا میں امن خوشحالی اور ترقی دیکھنے کے خواہاں ہیں ، ٹام سوازی نے امریکی سیاسی سماجی حالات کے تناظر میں امریکن پاکستانیوں کو انُ عام امریکوں کے مقابلے میں خوش نصیب قرار دیا جنہیں مہنگائ کے ساتھ تعلیم صحت کی انشورنس سمیت زندگی کی ہر بنیادی ضرورت نے بے بس کردیا ہے، کانگریس مین ٹام سوازی نے اس موقع پر اسلام فوبیا سے امیگریشن تک امریکہ کو درپیش تمام سیاسی سماجی معاشی مسائل پر کھل کر گفتگو کی، تقریب کا آغاز اے پی پیک کے حالیہ دنوں میں انتقال کرجانے والے ڈائرکٹر طارق خان کی فاتحہ خوانی سے ہوا ، کانگرشنل ڈسٹرکٹ تین کے ڈیموکریٹک امید وار ٹام سوازی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر اعجاز کے گھر انتخابی جلسے کا اہتمام کیا گیا تھا ، جس میں پاکستانی کمیونٹی کے چند درجن مخصوص اور روایتی سیاسی سماجی تقریبات کے چہروں نے ہی شرکت کی
اے پی پیک جو امریکی سیاست میں امریکن پاکستانیوں کی دلچسپی بڑھانے کے ساتھ پاک امریکہ تعلقات میں کردار ادا کرنے کی دعویدار ہے ، گزشتہ کئی سالوں سے مقامی سیاست میں انتخابی امیدواروں کے فنڈ ریزنگ اور تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر اعجاز کے گھر مدعو کرکے کمیونٹی کے مخصوص افراد سے متعارف کرانے کی شہرت رکھتی ہے، تنظیم کا نمائشی صدر ہر سال تنظیم کا بورڈ آف ڈائرکٹر منتخب کرتا ہے تاہم تنظیم کا سیاسی سماجی چہرہ ڈاکٹر اعجاز کو قرار دیا جاتا ہے ، اے پی پیک کے موجودہ نمائشی صدر ڈاکٹر پرویز اقبال ہیں جن پر تنظیم کے اپنے حلقے مبینہ طور پر نااہلی اور تنظیم کے معاملات سے دوری اور عدم دلچسپی اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں ، ان ذرائع کا دعویٰ ہے پرویز اقبال نے اپنے عہد صدارت امسال کوئ بڑا ایونٹ منعقد نہ کرکے پورا سال ضائع کردیا جبکہ وہ تنظیم کے معاملات میں تصویر بنوانے کی حد تک ہی سرگرم رہے،کمیونٹی کو اے پی پیک کو ایک ہی چہرے ڈاکٹر اعجاز احمد اور انکے گھر تک محدود رکھے جانے پر شدید اعتراضات ہیں اور کانگریس مین ٹام سوازی کے انتخابی جلسے میں بھی کمیونٹی کی ایک بڑی اکثریت نے اسی اعتراض کے باعث شرکت نہیں کی
یویارک کے تیسرے کانگریسی حلقے میں ڈیموکریٹ رکن کانگریس ٹام سوازی اور ری پبلکن امیدوار مائیک لی پیٹری کے درمیان 3 نومبر 2026 کو ہونے والے انتخاب میں مختلف نسلی اور مذہبی برادریوں کے ووٹ اہمیت اختیار کر سکتے ہیں،اس حلقے میں یہودی، بھارتی نژاد، پاکستانی اور مسلمان امریکیوں کی موجودگی انتخابی سیاست کے جائزے میں اہم عوامل ہیں
حلقے میں مجموعی طور پر تقریباً 566,875 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،نیویارک اسٹیٹ کے انتخابی ریکارڈ کے مطابق یہ تعداد 20 فروری 2025 کی ہے،2024 کے کانگریسی انتخاب میں ٹام سوازی کو تقریباً 363,124 ووٹ ملے تھے؟حلقے کی موجودہ آبادی کے تخمینے کے مطابق یہاں تقریباً 770,000 افراد رہتے ہیں
یہودی ووٹروں کے حوالے سے یہودی ڈیموکریٹس کی کونسل نے فروری 2024 میں بتایا تھا کہ اس نے ٹام سوازی کی حمایت میں حلقے کے 79,000 یہودی ووٹروں تک رسائی حاصل کی تھی،تنظیم نے ان ووٹروں کو حلقے کے انتخابی ووٹروں کا تقریباً 11 فیصد قرار دیا تھا،یہ تنظیم کی جانب سے رابطے میں لائے گئے ووٹروں کی تعداد ہے، مذہب کی بنیاد پر سرکاری انتخابی رجسٹریشن کا الگ شمار نہیں
بھارتی نژاد آبادی کے بارے میں 2020 سے 2024 کے امریکی مردم شماری کے تخمینوں کے مطابق حلقے میں تقریباً 53,192 بھارتی نژاد افراد رہتے ہیں،ان میں بچے اور ووٹ دینے کے قانونی اہل نہ ہونے والے افراد بھی شامل ہیں،عمر، امریکی شہریت اور ووٹر رجسٹریشن کی بنیاد پر ان میں سے ممکنہ ووٹروں کی تعداد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، محتاط اندازے کے مطابق حلقے میں 25,000 بھارتی نژاد رجسٹرڈ ووٹرز بتائے جاتے ہیں
پاکستانی نژاد آبادی کے بارے میں مذکورہ حلقے میں 2020 سے 2024 کے مردم شماری کے اعداد پر مبنی ایک تخمینے میں حلقے کے اندر تقریباً 8,919 پاکستانی نژاد افراد کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ ناسا کاؤنٹی میں سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستانی آبادی 15,000 سے کچھ زیادہ ہے ، مذکورہ حلقے میں پاکستانی نژاد رجسٹرڈ ووٹروں کی زیادہ سے زیادہ تعداد ساڑھے تین سے چار ہزار ہوسکتی ہے ،2020 کے امریکی مذہبی سروے کے مطابق ناساؤ کاؤنٹی میں تقریباً 48,336 مسلمان تھے،2023 کے پی آر آر آئی تخمینے میں یہ آبادی کاؤنٹی کی تقریباً 2 فیصد بتائی گئی ہے، جبکہ ٹام سوازی کے تیسرے کانگریسی حلقے میں مسلمانوں کی الگ تعداد کا قابلِ اعتماد کوئ نمبر موجود نہیں
ٹام سوازی پاکستانی امریکی برادری سے اپنے تعلق کو نمایاں کرتے رہے ہیں،وہ کانگریس میں پاکستان کاکس کے سربراہ ہیں اور جون 2026 میں عیدالاضحی کے موقع پر انہوں نے کانگریس کے ریکارڈ میں پاکستانی اور مسلمان امریکیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے بیان درج کرایا تھا،یہ ان کے پاکستانی اور مسلمان امریکی حلقوں سے تعلق کا ایک دستاویزی ثبوت ہے،انُہیں بھارتی نژاد اور یہودی ووٹروں میں بھی بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہے
انتخابی پیش گوئیوں میں ٹام سوازی کو فی الحال برتری حاصل ہے،کال دی میپ کے 13 اکتوبر 2026 کے تخمینے کے مطابق سوازی کے جیتنے کا امکان 96.7 فیصد، یعنی تقریباً 97 فیصد، جبکہ ری پبلکن امیدوار مائیک لی پیٹری کے جیتنے کا امکان 3.3 فیصد، یعنی تقریباً 3 فیصد، بتایا گیا ہے،یہ پیش گوئی ہے، انتخابی نتیجہ یا عوامی رائے شماری نہیں
انتخابی مالیات کے دستیاب اعداد کے مطابق ٹام سوازی کی مہم نے 30 جون 2026 تک تقریباً 5.5 ملین ڈالر جمع کیے تھے اور ان کے پاس 5.7 ملین ڈالر نقد موجود تھے،مائیک لی پیٹری کی مہم نے 9 جولائی 2026 تک تقریباً 1.7 ملین ڈالر جمع کیے تھے اور ان کے پاس تقریباً 710,000 ڈالر موجود تھے






