Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکی سینیٹر کی انٹرن بھرتی کا اعلان تنازعہ بن گیا، ری پبلکنز کا نسلی اور جنسی امتیاز کا الزام

امریکی سینیٹر کی انٹرن بھرتی کا اعلان تنازعہ بن گیا، ری پبلکنز کا نسلی اور جنسی امتیاز کا الزام

امریکی ریاست میساچوسٹس سے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈ مارکی کی جانب سے اپنے دفتر میں انٹرنز کی بھرتی کے اعلان نے ری پبلکن حلقوں میں تنازعہ کھڑا کر دیا ہے،سینیٹر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اعلان کیا کہ وہ موسمِ بہار 2027 کے تعلیمی دورانیے کے لیے بوسٹن کے اپنے دفتر میں باصلاحیت اور پُرعزم انٹرنز بھرتی کر رہے ہیں، جن میں اقلیتی برادریوں، ہم جنس پرستوں اور دیگر صنفی اقلیتوں، محنت کش طبقے، سابق فوجیوں اور دیگر کم نمائندگی رکھنے والے گروہوں سے تعلق رکھنے والے، میساچوسٹس سے وابستہ امیدواروں کو درخواست دینے کی ترغیب دی گئی ہے
ری پبلکن جماعت کے حلقوں نے اس اعلان پر اعتراض کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا سفید فام مرد بھی ان عہدوں کے لیے درخواست دے سکتے ہیں،ٹیکساس سے ری پبلکن رکنِ کانگریس برینڈن گِل نے سینیٹر مارکی کی پوسٹ کے جواب میں یہی سوال اٹھایا،قدامت پسند سیاسی کارکن کرس روفو نے الزام لگایا کہ ایک امریکی سینیٹر کھلے عام شہری حقوق کے قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر کی اہلیہ اور پوڈکاسٹر کیٹی ملر نے بھرتی کے اعلان کو ’’واضح طور پر غیر قانونی‘‘ قرار دیا
یہ تنازعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ وفاقی اداروں میں تنوع، مساوات اور شمولیت سے متعلق پالیسیوں کے خلاف اقدامات کر رہی ہے،دوسری جانب ڈیموکریٹ حلقوں میں ایسے پروگراموں کے حامیوں کا مؤقف رہا ہے کہ تاریخی طور پر کم نمائندگی رکھنے والے طبقات کو مواقع کی فراہمی سے بھرتیوں میں شمولیت بڑھائی جا سکتی ہے
تاہم، کسی مخصوص طبقے کے امیدواروں کو درخواست دینے کی ترغیب دینا اور دوسرے امیدواروں کو ان کی نسل یا جنس کی بنیاد پر ملازمت سے خارج کرنا قانونی طور پر دو مختلف معاملات ہیں،صرف سینیٹر کی پوسٹ کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ بھرتی غیر قانونی ہے،اس کا فیصلہ اصل بھرتی کے معیار، تمام امیدواروں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک اور متعلقہ قوانین کے اطلاق کی بنیاد پر ہوگا
امریکی سیاسی مباحثے میں یہ واقعہ اس وسیع تر اختلاف کی ایک مثال بن گیا ہے کہ سرکاری اداروں اور سیاسی دفاتر میں مختلف نسلی، سماجی اور صنفی گروہوں کی نمائندگی بڑھانے کی کوششیں کہاں تک جائز ہیں اور کس مقام پر وہ دوسرے امیدواروں کے ساتھ امتیازی سلوک بن سکتی ہیں

قومی خبریں سے مزید