ٹرمپ انتظامیہ میں خواتین کا بڑھتا ہوا اخراج، اعلیٰ عہدوں سے ایک کے بعد ایک رخصتی
واشنگٹن:صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں اعلیٰ حکومتی عہدوں سے سبکدوش ہونے والی نمایاں شخصیات میں خواتین کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ رہی ہے،بعض عہدیداروں نے خود عہدہ چھوڑا، جبکہ بعض کو برطرف کیا گیا یا استعفے پر مجبور کیا گیا
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی وائٹ ہاؤس سے متعلق رپورٹ کے مطابق، یونان میں امریکی سفیر کمبرلی گلفائل کی رخصتی اس سلسلے کی تازہ مثال ہے،ان کی علیحدگی کا اعلان وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری کی پہلی بریفنگ کے دوران براہِ راست ٹیلی ویژن پر کیا گیا، جس نے اس معاملے کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا
رپورٹ کے مطابق، رواں سال موسمِ بہار میں صرف 3 ماہ کے دوران ٹرمپ کابینہ کی اعلیٰ سطح کی 8 خواتین عہدیداروں میں سے 4 اپنے عہدوں سے الگ ہو گئیں،ان میں اٹارنی جنرل پام بونڈی، وزیرِ محنت لوری شاویز ڈی ریمر، وزیرِ داخلی سلامتی کرسٹی نوئم اور قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ شامل تھیں
کمبرلی گلفائل کی رخصتی اور ان چار اعلیٰ عہدیداروں کی علیحدگی نے ٹرمپ انتظامیہ میں خواتین کی نمائندگی اور ان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں،تاہم، یہ طے کرنے کے لیے کہ ان رخصتیوں کے پیچھے کوئی مشترکہ پالیسی یا منظم طرزِ عمل کارفرما ہے، ہر معاملے کے اسباب، متعلقہ عہدیداروں کے بیانات اور وائٹ ہاؤس کے مؤقف کا الگ الگ جائزہ ضروری ہے





