Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ُامریکی سپریم کورٹ کا ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں ایک اور فیصلہ، وسط مدتی انتخابات سے پہلے سیاسی اشتہارات کی جنگ میں ری پبلکنز کو فائدہ پہنچنے کا امکان

ُامریکی سپریم کورٹ کا ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں ایک اور فیصلہ، وسط مدتی انتخابات سے پہلے سیاسی اشتہارات کی جنگ میں ری پبلکنز کو فائدہ پہنچنے کا امکان
واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے حق میں ایک بار پھر مداخلت کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن اشتہارات کے نرخوں سے متعلق تنازعہ میں نچلی عدالت کے حکم کو روک دیا ہے،اس مقدمے کا تعلق نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے ہے، جن کے ذریعے کانگریس کے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اکثریت کا فیصلہ ہوگا
اخبار یو ایس اے ٹوڈے کی 14 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، ڈیموکریٹس وفاقی حکومت کی نئی پالیسی کو عدالت میں چیلنج کر رہے ہیں،اس پالیسی کے تحت سیاسی جماعتوں کو بھی ان کم نرخوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے جو نشریاتی ادارے قانونی طور پر انتخابی امیدواروں کو پیش کرنے کے پابند ہیں
امریکی قوانین کے تحت ریڈیو اور ٹیلی ویژن اسٹیشنوں کو انتخابی مہم کے مخصوص ادوار میں امیدواروں کو اشتہارات کے لیے کم ترین دستیاب نرخ فراہم کرنا ہوتے ہیں،نئی پالیسی کے تحت سیاسی جماعتوں کو بھی اسی نوعیت کے نرخوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے،ڈیموکریٹس کا اعتراض اس پالیسی اور اسے نافذ کرنے کے طریقۂ کار پر ہے
نچلی عدالت نے اس سے قبل وفاقی کمیونی کیشنز کمیشن پر الزام لگایا تھا کہ وہ پالیسی میں تبدیلی کے خلاف عدالتی جائزے کو انتخابات سے پہلے مشکل بنانے کے لیے دانستہ تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے،تاہم سپریم کورٹ نے 14 اکتوبر کو نچلی عدالت کو یہ حکم نافذ کرنے سے روک دیا جس کے تحت کمیشن کو ڈیموکریٹس کے اعتراضات کا جواب دینا تھا،اس طرح سپریم کورٹ نے اپنے پہلے عبوری حکم کو مزید برقرار رکھا
یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق، اس فیصلے سے ری پبلکن پارٹی کو انتخابی مہم میں فائدہ پہنچنے کا امکان ہے، کیونکہ ری پبلکن سیاسی کمیٹیوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی متعلقہ کمیٹیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم جمع کی ہے،کم نرخوں پر اشتہارات تک رسائی سے ری پبلکنز کو ان انتخابی حلقوں میں اپنے پیغام کی تشہیر میں مدد مل سکتی ہے جہاں ڈیموکریٹ امیدواروں نے اپنے مخالف ری پبلکن امیدواروں سے زیادہ رقم جمع کر رکھی ہے
ری پبلکنز ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس دونوں ایوانوں میں طاقت کا توازن تبدیل کرنے کے لیے انتخابی مہم چلا رہے ہیں،ایسے میں سیاسی اشتہارات کی لاگت اور ان تک رسائی انتخابی مقابلے کا اہم حصہ بن گئی ہے
سپریم کورٹ کا یہ حکم انتخابی اشتہارات کی پالیسی کے قانونی تنازعہ کو حتمی طور پر ختم نہیں کرتا، بلکہ نچلی عدالت کی کارروائی پر عارضی پابندی برقرار رکھتا ہے،اس لیے یہ فیصلہ پالیسی کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلہ نہیں، تاہم نومبر کے انتخابات سے پہلے اس کے عملی اثرات اہم ہو سکتے ہیں
عدالت کی جانب سے جاری کردہ غیر دستخط شدہ فیصلے کی مکمل تفصیلات اور ججوں کے انفرادی مؤقف کے بارے میں فراہم کردہ خبر کے اقتباس میں مزید معلومات شامل نہیں ہیں،اس لیے فیصلے کی قانونی وجوہات یا عدالت کے اندر اختلافات کے بارے میں کوئی اضافی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا

قومی خبریں سے مزید