Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

آٹھ امریکی ریاستوں کا اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ، چیٹ جی پی ٹی کے حفاظتی اقدامات پر سنگین سوالات

آٹھ امریکی ریاستوں کا اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ، چیٹ جی پی ٹی کے حفاظتی اقدامات پر سنگین سوالات
امریکا کی 8 ریاستوں نے مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کے خلاف مقدمات دائر کیے ہیں، جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی چیٹ جی پی ٹی کے حفاظتی اقدامات کے بارے میں صارفین کو گمراہ کر رہی ہے اور مناسب تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے،ان ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کے مطابق، حفاظتی اقدامات کی مبینہ کمی کے باعث بعض صارفین، جن میں نوعمر افراد بھی شامل ہیں، خودکشی، خود کو نقصان پہنچانے اور تشدد جیسے خطرات سے دوچار ہوئے
پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق، بدھ کے روز دائر کیے گئے مقدمات میں آرکنساس، ایریزونا، آئیووا، آئیڈاہو، کنساس، مونٹانا، نیبراسکا اور ویسٹ ورجینیا شامل ہیں،ان ریاستوں کے اعلیٰ قانونی حکام کا مؤقف ہے کہ اوپن اے آئی کی سرگرمیاں ریاستی قوانین اور ضابطہ کار تقاضوں کی خلاف ورزی کر سکتی ہیں
آرکنساس میں دائر مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ اوپن اے آئی کی قیادت کو اپنی مصنوعات کے ممکنہ خطرات کا علم تھا اور کمپنی کے ملازمین بھی بار بار حفاظتی خدشات ظاہر کرتے رہے،مقدمے کے مطابق، ان تحفظات کے باوجود کمپنی نے اپنی مصنوعات کی تیاری اور اجرا کا عمل تیز رکھا اور مناسب حفاظتی اقدامات اور جانچ کے بغیر زیادہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز متعارف کراتی رہی، جبکہ ترقی اور منافع کو صارفین کی سلامتی پر ترجیح دی گئی
یہ مقدمات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والی ریاستوں کے قانونی حکام مصنوعی ذہانت کی تیزی سے پھیلتی صنعت کے خلاف نگرانی اور جواب دہی کے مطالبات کر رہے ہیں،ان مقدمات میں بنیادی سوال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں صارفین، بالخصوص بچوں اور نوعمر افراد، کو ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیے کس حد تک مؤثر حفاظتی نظام قائم کرنے کی پابند ہیں اور اگر ان کے نظام ناکام ہوں تو ان کی قانونی ذمہ داری کیا بنتی ہے،
یہ الزامات عدالتوں میں زیرِ غور قانونی دعوے ہیں،مقدمات کے حتمی نتائج سے یہ طے ہو سکے گا کہ آیا اوپن اے آئی نے متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کی اور کمپنی پر قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یا نہیں

قومی خبریں سے مزید