سنگجانی دھرنے میں عمران خان کے ویڈیو پیغام پر حکومت اور پی ٹی آئی میں کیا معاملات طے ہوئے؟ محسن نقوی کے سینیٹ میں اہم انکشافات
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے احتجاج کو پُرامن انداز میں ختم کرانے کے لیے متعدد کوششیں کیں، لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے نئی شرائط سامنے آنے کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے،ان کے مطابق معاملے میں عمران خان سے فون پر بات کرانے، ان کا ویڈیو پیغام ریکارڈ کروانے اور پیغام کی ریکارڈنگ کے طریقہ کار پر بھی اختلافات پیدا ہوئے
محسن نقوی نے بتایا کہ جب احتجاج کے دوران کشیدگی بڑھ رہی تھی تو حکومت نے مظاہرین کو پُرامن احتجاج کے لیے جگہ دینے اور مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی پیشکش کی،ان کے بقول، مظاہرین کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ ان کی عمران خان سے فون پر بات کروائی جائے، جس کے بعد وہ دھرنا مؤخر کرنے یا اس کی جگہ تبدیل کرنے پر غور کریں گے،وزیر داخلہ کے مطابق حکومت نے رابطے کی اجازت حاصل کرکے عمران خان سے بات کروائی، تاہم اس کے بعد پی ٹی آئی کے بعض افراد نے اعتراض کیا کہ وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ عمران خان سے وزیراعلیٰ کی بات کروائی گئی ہے، اس لیے عمران خان کی اہلیہ سے بھی بات کرائی جائے
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر حکومت کو عمران خان کا ویڈیو پیغام ریکارڈ کرانے کی شرط بھی پیش کی گئی،ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ہر انسانی جان اہم ہے اور معاملے کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے ویڈیو پیغام ریکارڈ کرانے کی کوشش کی جائے،محسن نقوی نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو بلایا گیا اور کہا گیا کہ وہ عمران خان سے ویڈیو پیغام ریکارڈ کروا لیں
محسن نقوی کے مطابق عمران خان نے ابتدا میں کہا تھا کہ وہ اپنی جماعت کے کسی فرد کے ذریعے ویڈیو پیغام ریکارڈ کروائیں گے، کسی باہر کے شخص سے ایسا نہیں کروائیں گے،ان کے بقول، بیرسٹر گوہر کو بلانے کے بعد حکومت تقریباً دو گھنٹے انتظار کرتی رہی،جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ کچھ لکھ رہے ہیں،بعد ازاں ریکارڈنگ کی تیاری ہوئی تو نئی شرط سامنے آئی کہ ویڈیو بیرسٹر گوہر کے موبائل فون پر ریکارڈ کی جائے،وزیر داخلہ کے مطابق حکومت نے یہ شرط بھی مان لی، لیکن اس کے بعد کہا گیا کہ ریکارڈنگ جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا کر ہوگی
وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے اس مرحلے پر وزیراعظم یا صدر مملکت سے مزید مشورہ کیے بغیر از خود ہی اجازت دے دی کہ اگر عمران خان سلاخوں کے پیچھے ویڈیو ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں تو ایسا ہی کر لیا جائے، تاکہ معاملہ کسی نتیجے پر پہنچ سکے،تاہم ان کے بقول، وہاں پہنچنے کے بعد عمران خان نے اسی روز ریکارڈنگ کرانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اگلے دن اپنے وکلا کو بلانے کے بعد ویڈیو پیغام ریکارڈ کروائیں گے،محسن نقوی نے اسے مذاکرات کے دوران سامنے آنے والی ایک اور رکاوٹ قرار دیا
محسن نقوی نے سینیٹ میں یہ بھی کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے اپنی طرف سے رابطے کیے اور آخری روز دوپہر 12 بجے تک بھی فون کرکے پی ٹی آئی کو بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی،انہوں نے اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ بتائیں کہ مذاکرات کے لیے رابطہ حکومت نے کیا تھا یا اپوزیشن نے،وزیر داخلہ کے مطابق حکومت نے اس امید پر کوششیں جاری رکھیں کہ معاملہ پُرامن طور پر حل ہو جائے اور کسی سخت اقدام کی ضرورت پیش نہ آئے، لیکن مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں، کیونکہ ان کے بقول حکومت نے احتجاج کے لیے جگہ دینے، عمران خان سے رابطہ کرانے اور ویڈیو پیغام ریکارڈ کروانے سمیت مختلف راستے اختیار کرنے کی کوشش کی،تاہم محسن نقوی کے بیان میں بیان کردہ واقعات اور مذاکرات کی شرائط حکومت کا مؤقف ہیں، جبکہ ان تمام تفصیلات پر پی ٹی آئی کا مؤقف سامنے آنے سے دونوں فریقوں کے دعوؤں کا تقابل ممکن ہوگا





