نارتھ کیرولانا کے عوام نے ریپبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں کو ڈپریشن میں رکھا ہوا ہے، کہیں سر پہ ہاتھ رکھ دیا تو کہیں ٹانگ گھسیٹ لی
تحقیق و رپورٹ: آفاق فاروقی
امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا جو انتخابی سیاست میں سیاسی تجزیہ نگاروں کو کنفیوژڈ رکھکر ہمیشہ سوئنگ اسٹیٹ کہلاتی ہے، نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک اہم امتحان بنتے جا رہے ہیں،ریاست میں ریپبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کے مقابلے میں سابق ڈیموکریٹک گورنر رائے کوپر کی برتری نے سیاسی منظرنامے کو بدل دیا ہے،12 اکتوبر کو دستیاب انتخابی سروے کے مطابق کوپر کو تقریباً 49 فیصد جبکہ واٹلی کو 40 سے 41 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،یوں ڈیموکریٹک امیدوار تقریباً 9 پوائنٹس کی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں،یہ صورت حال اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ شمالی کیرولائنا نے تقریباً دو دہائیوں سے کسی ڈیموکریٹک امیدوار کو امریکی سینیٹ کے لیے منتخب نہیں کیا،تاہم انتخابی سروے حتمی نتائج نہیں ہوتے اور اصل فیصلہ 3 نومبر کو ووٹوں کی گنتی سے ہوگا
شمالی کیرولائنا امریکہ کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ریاستوں میں شامل ہے،امریکی مردم شماری کے تازہ تخمینے کے مطابق یکم جولائی 2025 کو ریاست کی مجموعی آبادی تقریباً 1 کروڑ 12 لاکھ تھی،2020 کی مردم شماری میں یہ تعداد تقریباً 1 کروڑ 44 لاکھ نہیں بلکہ 1 کروڑ 44 لاکھ سے کم، یعنی 1 کروڑ 44 ہزار کے قریب تھی،گزشتہ پانچ برس میں آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں دوسری ریاستوں سے نقل مکانی، روزگار کے مواقع اور بڑے شہروں کے پھیلاؤ نے اہم کردار ادا کیا ہے
آبادی کی نسلی اور لسانی تقسیم بھی انتخابی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی ہے،مردم شماری کے 2025 کے تخمینوں کے مطابق سفید فام افراد ریاست کی تقریباً 67.8 فیصد آبادی ہیں، تاہم غیر ہسپانوی سفید فام آبادی کا تناسب تقریباً 58.7 فیصد ہے،سیاہ فام آبادی تقریباً 21.3 فیصد، ہسپانوی یا لاطینی نژاد آبادی 12.6 فیصد اور ایشیائی آبادی تقریباً 4.2 فیصد ہے،مقامی امریکی آبادی تقریباً 2 فیصد ہے، جبکہ دیگر نسلی گروہوں اور ایک سے زیادہ نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ریاست کی آبادی کا حصہ ہیں،یہ تناسب ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ نہیں، کیونکہ ہسپانوی یا لاطینی شناخت رکھنے والے افراد نسلی اعتبار سے سفید فام، سیاہ فام یا کسی دوسرے گروہ سے بھی تعلق رکھ سکتے ہیں
مسلمانوں کی آبادی کے بارے میں درست عددی اندازہ لگانا نسبتاً مشکل ہے، کیونکہ امریکی مردم شماری مذہب کی بنیاد پر آبادی کا شمار نہیں کرتی،پیو ریسرچ سینٹر کے 2023-24 کے مذہبی سروے کے مطابق شمالی کیرولائنا میں بالغ آبادی کے ایک فیصد سے بھی کم افراد خود کو مسلمان قرار دیتے ہیں،اس سروے سے مسلمانوں کی قطعی تعداد اخذ نہیں کی جا سکتی، تاہم یہ واضح ہے کہ ریاست کی سیاست میں مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ معیشت، مہنگائی، امیگریشن، صحت کی سہولتیں اور ملازمتوں کے مواقع بھی فیصلہ کن موضوعات ہیں
شمالی کیرولائنا کے انتخابات کو سمجھنے کے لیے امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی نشستوں میں فرق واضح رکھنا ضروری ہے،2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ملک بھر کی سینیٹ کی 100 نشستوں میں سے 35 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں، جن میں شمالی کیرولائنا کی ایک نشست بھی شامل ہے،اس ریاست کی دوسری سینیٹ نشست اس سال انتخابی مقابلے میں شامل نہیں،امریکی ایوانِ نمائندگان کی ریاستی نشستوں کی تعداد 14 ہے، اس لیے سینیٹ اور کانگریس کے دونوں ایوانوں کے نتائج الگ الگ اہمیت رکھتے ہیں
شمالی کیرولائنا کی سینیٹ کی زیرِ انتخاب نشست اس وقت ریپبلکن جماعت کے پاس ہے،موجودہ سینیٹر تھام ٹِلِس نے دوبارہ انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد یہ ایک کھلی نشست بن گئی،ریپبلکن پارٹی نے مائیکل واٹلی کو امیدوار بنایا، جبکہ ڈیموکریٹس کی طرف سے سابق گورنر رائے کوپر میدان میں ہیں،کوپر ریاست میں دو مرتبہ گورنر رہ چکے ہیں اور انہیں ریاستی سیاست میں ایک تجربہ کار امیدوار سمجھا جاتا ہے،ان کے لیے یہ انتخاب محض ایک سینیٹ نشست حاصل کرنے کی کوشش نہیں بلکہ ریاست میں ڈیموکریٹس کی وفاقی سطح پر واپسی کا بڑا موقع بھی ہے
شمالی کیرولائنا نے آخری مرتبہ 2008 میں ڈیموکریٹک امیدوار کیتھی ہیگن کو امریکی سینیٹ کے لیے منتخب کیا تھا،وہ 2014 میں ریپبلکن امیدوار تھام ٹِلِس سے انتخاب ہار گئیں اور 2015 میں ان کی مدت ختم ہوگئی،اس کے بعد ریاست کی دونوں سینیٹ نشستیں ریپبلکن نمائندگی کے زیرِ اثر رہی ہیں،اگر رائے کوپر موجودہ برتری کو ووٹوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو تقریباً 18 برس بعد ریاست سے ایک ڈیموکریٹک سینیٹر منتخب ہوگا،یہ نتیجہ قومی سیاست میں بھی اہم ہوگا، کیونکہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے دونوں جماعتوں کو چند انتہائی مسابقتی ریاستوں میں کامیابی درکار ہے
12 اکتوبر تک دستیاب سروے میں رائے کوپر 48.9 فیصد اور مائیکل واٹلی 40.5 فیصد حمایت کے ساتھ دکھائی دیے
ان اعداد و شمار کی بنیاد پر رائے کوپر کو فی الحال مضبوط امیدوار کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نشست یقینی طور پر ڈیموکریٹس کے پاس چلی جائے گی،انتخابی مہم کے آخری ہفتوں میں اشتہارات، امیدواروں کی مقبولیت، ووٹر ٹرن آؤٹ، غیر وابستہ ووٹرز اور قومی سیاسی حالات نتیجہ بدل سکتے ہیں،ریپبلکن جماعت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر اس کی حمایت میں اضافہ نہ ہوا تو شمالی کیرولائنا جیسی ریاست میں سینیٹ کی نشست کھونے سے قومی سطح پر اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش مزید مشکل ہوسکتی ہے
شمالی کیرولائنا کی سیاست میں سینیٹ کے ساتھ ایوانِ نمائندگان کی نشستیں بھی اہم ہیں،اس وقت ریاست کی 14 وفاقی کانگریسی نشستوں میں سے 10 ریپبلکن اور 4 ڈیموکریٹک ارکان کے پاس ہیں،تاہم 2026 کے انتخابات میں تمام نشستوں کا مقابلہ یکساں نوعیت کا نہیں،کُک پولیٹیکل رپورٹ کی انتخابی درجہ بندی کے مطابق ڈیموکریٹک رکن ڈان ڈیوس کی پہلی کانگریسی نشست ریپبلکن امیدوار کے لیے قابلِ حصول سمجھی جا رہی ہے، جبکہ گیارہویں ضلع کی نشست بھی سخت مقابلے کی زد میں ہے۔ گیارہویں ضلع میں نشست خالی ہے اور اسے غیر یقینی مقابلہ قرار دیا گیا ہے
کُک پولیٹیکل رپورٹ کے جائزے میں ڈیموکریٹس کے لیے سب سے زیادہ خطرہ پہلی نشست پر ہے، جہاں ڈان ڈیوس کو ریپبلکن امیدوار کے مقابلے میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے سخت انتخابی مہم چلانا ہوگی،دوسری طرف گیارہویں ضلع میں ریپبلکن امیدوار کی کامیابی کا امکان موجود ہے، لیکن وہاں مقابلہ کھلا ہوا ہے،ریاست کی باقی بیشتر نشستیں دونوں جماعتوں میں سے کسی ایک کے لیے نسبتاً محفوظ قرار دی گئی ہیں،اس لیے موجودہ نقشے اور انتخابی جائزوں کی بنیاد پر ریپبلکن پارٹی کے 10 یا اس سے زیادہ نشستیں برقرار رکھنے کا امکان ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کے لیے چار نشستیں محفوظ رکھنا بھی ایک اہم ہدف ہوگا،البتہ حتمی نتائج سے پہلے یہ کہنا درست نہیں کہ کسی جماعت کو لازماً کتنی نشستیں ملیں گی، کیونکہ کانگریس کے لیے ریاست بھر میں ایک مشترکہ سروے کے بجائے ہر حلقے کے الگ انتخابی حالات فیصلہ کن ہوتے ہیں
ریاست میں گورنر کا عہدہ اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس ہے،جوش اسٹین نے یکم جنوری 2025 کو گورنر کا منصب سنبھالا،اس سے پہلے رائے کوپر 2017 سے 2025 تک دو مدتوں کے لیے گورنر رہے تھے،ان سے پہلے ریپبلکن پیٹ میک کروری 2013 سے 2017 تک گورنر تھے،اس طرح شمالی کیرولائنا کی سیاست میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کے درمیان مقابلہ صرف وفاقی نشستوں تک محدود نہیں بلکہ ریاستی حکومت میں بھی دونوں جماعتیں اقتدار حاصل کرتی رہی ہیں،2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست جیتی، لیکن اسی انتخاب میں گورنر کا منصب ڈیموکریٹ جوش اسٹین کے حصے میں آیا،یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ شمالی کیرولائنا میں ووٹر صدارتی، ریاستی اور وفاقی انتخابات میں لازماً ایک ہی جماعت کا انتخاب نہیں کرتے
اس انتخاب کا قومی سیاسی پہلو بھی غیر معمولی ہے،ریپبلکن جماعت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کو توقع ہے کہ مہنگائی، عوامی اخراجات، امیگریشن اور وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر عوامی ناراضی انہیں فائدہ پہنچا سکتی ہے،دوسری طرف ریپبلکن امیدوار یہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ ان کی جماعت معیشت، سرحدی تحفظ اور حکومتی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے بہتر انتخاب ہے،شمالی کیرولائنا میں غیر وابستہ ووٹرز کا بڑا کردار دونوں جماعتوں کے لیے اہم ہے، کیونکہ ریاست میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تقسیم تقریباً ایک تہائی ڈیموکریٹس، ایک تہائی ریپبلکنز اور ایک تہائی غیر وابستہ ووٹرز کے درمیان ہے
بالآخر شمالی کیرولائنا کا انتخاب تین بنیادی سوالات کا جواب دے گا،کیا رائے کوپر تقریباً دو دہائیوں بعد ریاست سے ڈیموکریٹک سینیٹر منتخب کرا سکتے ہیں؟ کیا ریپبلکن جماعت ایوانِ نمائندگان کی اپنی 10 نشستوں والی برتری برقرار رکھ سکے گی؟ اور کیا ٹرمپ کے دور میں ریاستی ووٹرز وفاقی سطح پر بھی تبدیلی کے حق میں فیصلہ دیں گے؟ فی الحال سینیٹ کے سروے ڈیموکریٹس کے لیے حوصلہ افزا ہیں، لیکن کانگریس کی نشستوں پر مقابلہ مختلف نوعیت کا ہے،یہی وجہ ہے کہ شمالی کیرولائنا 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں قومی سیاست کی سب سے اہم ریاستوں میں شمار ہو رہی ہے





