حوثیوں کے اگلے اہداف سعودی ریفائنریز اور تیل کی پائپ لائنیں ہوئیں تو عالمی معیشت ہل جائے گی، امریکہ کے لیے جنگ سے دور رہنا مشکل ہو سکتا ہے
رپورٹ: آفاق فاروقی
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر مسلسل حملوں نے یمن کی جنگ کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے،اگر حوثی باغی ایئرپورٹس کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب کی تیل صاف کرنے والی ریفائنریوں، خام تیل کے ذخیرہ مراکز، برآمدی ٹرمینلز اور مشرق سے مغرب تک تیل پہنچانے والی پائپ لائن پر حملے تیز کر دیتے ہیں تو اس کے اثرات سعودی عرب تک محدود نہیں رہیں گے،عالمی تیل منڈی، ایندھن کی قیمتوں، بحری تجارت، ہوابازی، ٹرانسپورٹ اور مہنگائی کا سامنا کرنے والی عالمی معیشت پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
یہ خدشہ محض ایک فرضی منظرنامہ نہیں؟رواں سال جولائی میں حوثیوں کے حملے کے بعد سعودی آرامکو نے جیزان کی روزانہ 400,000 بیرل تیل صاف کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ریفائنری بند کر دی تھی،اس واقعے نے ظاہر کیا کہ سعودی توانائی تنصیبات پر حملے صرف تیل کی پیداوار ہی نہیں بلکہ پٹرول، ڈیزل اور دیگر تیار شدہ ایندھن کی فراہمی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں،ستمبر میں سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک تیل پہنچانے والی پائپ لائن پر حملے کی اطلاعات نے بھی توانائی کی سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھا دیے تھے
رائٹرز کے مطابق باب المندب آبنائے کی مکمل بندش کی صورت میں بحیرہ احمر کے راستے ایشیائی منڈیوں کو بھیجے جانے والے سعودی خام تیل کے روزانہ 3 ملین بیرل سے زیادہ کو متبادل راستوں کی طرف منتقل کرنا پڑ سکتا ہے،اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جہازوں کو افریقہ کے جنوبی سرے سے گزر کر طویل سفر کرنا پڑے گا، جس سے ترسیل میں تاخیر، مال برداری اور انشورنس کے اخراجات میں اضافہ اور ایشیا کی ریفائنریوں کو خام تیل کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے،رائٹرز سے گفتگو کرنے والے توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ اگر تیل کی یہ ترسیل بری طرح متاثر ہوئی تو خام تیل کے ساتھ تیار شدہ ایندھن کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں اور طویل بحران عالمی معیشت کو کساد بازاری کی طرف دھکیل سکتا ہے
اصل خطرہ ایک ریفائنری کا بند ہونا نہیں بلکہ توانائی کی پوری ترسیلی زنجیر کا متاثر ہونا ہے،اگر سعودی عرب کی پیداوار، ذخیرہ کرنے، پائپ لائنوں اور بحری برآمدات کو ایک ہی وقت میں نقصان پہنچتا ہے تو عالمی منڈی کو متبادل رسد تلاش کرنے کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے،اس کے باوجود تیل کی قیمتوں میں اضافے کی کوئی حتمی سطح بتانا ممکن نہیں، کیونکہ اس کا انحصار حملوں کے حجم، نقصان کی مدت، متبادل سپلائی اور عالمی ذخائر کے استعمال پر ہوگا،سعودی عرب کی مشرق سے مغرب جانے والی پائپ لائن اہم متبادل راستہ فراہم کرتی ہے، لیکن اگر وہ خود حملوں کی زد میں آ جائے تو بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے
اس صورتحال میں حوثیوں کی حکمت عملی صرف سعودی تنصیبات کو نقصان پہنچانے تک محدود نہیں رہتی،یمن کے ساحل اور باب المندب آبنائے کے قریب ان کی فوجی پیش قدمی انہیں عالمی جہاز رانی پر دباؤ ڈالنے کا موقع بھی دیتی ہے،یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے اور ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تجارتی راستوں کے لیے انتہائی اہم ہے،اگر اس راستے سے جہازوں کی آمدورفت محدود ہوتی ہے تو اس کے اثرات تیل کے علاوہ کنٹینر تجارت، صنعتی خام مال اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل تک پہنچ سکتے ہیں
امریکی ادارے سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے تجزیے میں بھی سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملوں اور باب المندب کے قریب حوثیوں کی پیش قدمی کو عالمی توانائی سلامتی کے لیے بڑھتے ہوئے خطرے کے طور پر دیکھا گیا ہے،تاہم یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ ہر حملہ لازماً عالمی تیل کی سپلائی میں بڑی کمی پیدا کرے گا،اصل فیصلہ کن عوامل یہ ہوں گے کہ تنصیبات کو کتنا نقصان پہنچتا ہے، انہیں کتنی جلد بحال کیا جا سکتا ہے اور جہاز رانی کے متبادل راستے کتنے مؤثر ثابت ہوتے ہیں
امریکہ کے لیے سب سے پیچیدہ سوال یہ ہے کہ سعودی عرب پر مسلسل حملوں کے باوجود وہ براہ راست فوجی کارروائی سے کب تک دور رہ سکتا ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائیوں میں امریکی شمولیت کے امکان پر کہا ہے کہ واشنگٹن اس پر غور کر رہا ہے،لیکن غور کرنے کا بیان جنگ میں شامل ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں ہے
واشنگٹن پوسٹ کی 11 اکتوبر کی رپورٹ میں چیتھم ہاؤس کے محقق فریا المسلمی نے رائے دی کہ ٹرمپ بالآخر مداخلت کر سکتے ہیں، کیونکہ حوثیوں کے حملوں کو ایران کے ساتھ وسیع تر جنگ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے،ان کے مطابق اگر امریکی صدر ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کے بعد سعودی عرب پر بڑے حملوں کا مؤثر جواب نہ دیں تو ان کی سیاسی ساکھ پر بھی سوال اٹھ سکتے ہیں،اسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کے محقق یوئل گوزانسکی نے بھی تیل کی برآمدات کو لاحق خطرات اور سعودی عرب کے امریکی اسلحے کے بڑے معاہدوں کو واشنگٹن پر دباؤ بڑھانے والے عوامل قرار دیا
اس کے برعکس امریکی فوجی شمولیت کے راستے میں اہم رکاوٹیں بھی موجود ہیں،امریکی انتظامیہ پہلے ہی ایران کے ساتھ وسیع فوجی تصادم میں مصروف ہے،حوثیوں کے خلاف نئی کارروائی امریکی وسائل پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے اور اس جنگ کو طول دے سکتی ہے جس کے اثرات پہلے ہی تیل اور جہاز رانی کی منڈیوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں،امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے 2 اکتوبر کی رپورٹ میں بتایا تھا کہ سعودی عرب اور یمن کی حکومت کی افواج حوثیوں کو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں سے پیچھے دھکیلنے کے لیے بڑے حملے کی تیاری کر رہی تھیں، لیکن امریکہ نے اس مرحلے پر براہ راست فضائی حملوں میں شامل ہونے کی سعودی درخواست قبول نہیں کی تھی،امریکی حکام نے اس امکان کو رد نہیں کیا تھا کہ حالات بگڑنے پر پالیسی تبدیل ہو سکتی ہے
اس لیے موجودہ صورتحال میں امریکہ کی شمولیت کو یقینی قرار دینا درست نہیں،زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اگر حوثی امریکی مفادات، سعودی توانائی کی ترسیل اور عالمی جہاز رانی کو مسلسل نقصان پہنچاتے ہیں تو واشنگٹن پر دفاعی مدد، انٹیلی جنس تعاون، فضائی کارروائیوں یا بحری تحفظ میں اضافہ کرنے کا دباؤ بڑھے گا،براہ راست جنگ میں داخل ہونے کا فیصلہ اس بات پر بھی منحصر ہوگا کہ سعودی عرب کے نقصان کی شدت کیا ہے، ایران کا کردار کتنا واضح ہوتا ہے اور امریکی انتظامیہ اپنے وسیع تر جنگی مقاصد کو کس طرح دیکھتی ہے
ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی رابطوں کا سوال بھی اسی بحران میں اہمیت اختیار کر گیا ہے،ایسوسی ایٹڈ پریس کی 11 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کے راستے کھلے ہیں،لیکن رابطوں کا کھلنا کسی معاہدے یا حوثیوں کی جانب سے حملے روکنے کی ضمانت نہیں،تہران کا حوثیوں پر اثر و رسوخ ایک اہم سفارتی پہلو ہے، تاہم حوثیوں کے اپنے سیاسی اور فوجی مفادات بھی ہیں،اس لیے یہ فرض نہیں کیا جا سکتا کہ ایران کسی ایک فیصلے کے ذریعے تمام حملے فوراً بند کرا سکتا ہے
سعودی عرب اور ایران کے درمیان بات چیت اگر نتیجہ خیز ہوتی ہے تو اس میں کم از کم تین معاملات اہم ہوں گے،سعودی شہری اور توانائی تنصیبات پر حملے روکنا، باب المندب اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو محفوظ بنانا، اور یمن میں جنگ کے پھیلاؤ کو محدود کرنا،لیکن اگر سعودی عرب یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ سفارت کاری حملوں کو روکنے میں ناکام ہو رہی ہے تو وہ اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر سکتا ہے،ایسی صورت میں ایران پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ حوثیوں کی مدد اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے درمیان توازن قائم کرے
اس بحران کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ایک علاقائی تنازعہ عالمی توانائی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے،اگر حملے ایئرپورٹس سے آگے بڑھ کر ریفائنریوں، پائپ لائنوں اور برآمدی راستوں کو بیک وقت متاثر کرتے ہیں تو تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ عالمی مہنگائی بھی دوبارہ بڑھ سکتی ہے،اگر سپلائی میں خلل طویل ہو تو مرکزی بینکوں کے لیے شرح سود کم کرنا مشکل ہوگا، کاروباری لاگت بڑھے گی اور پہلے سے دباؤ میں موجود معیشتوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
فی الحال بنیادی سوال یہ نہیں کہ امریکہ لازماً جنگ میں شامل ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا سعودی عرب اور ایران سفارتی راستے سے حملوں کا دائرہ محدود کر سکتے ہیں، اس سے پہلے کہ توانائی کی تنصیبات اور عالمی جہاز رانی کو پہنچنے والا نقصان ایسا بحران پیدا کر دے جسے روکنے کے لیے بڑی طاقتوں کو براہ راست فوجی کارروائی پر غور کرنا پڑے،اگر یہ موقع ضائع ہوا تو جنگ کا دائرہ صرف یمن اور سعودی عرب تک محدود رہنے کی ضمانت نہیں ہوگی، اور اس کی معاشی قیمت دنیا بھر کے صارفین اور کاروباری اداروں کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے





