Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کراچی کے جناح اسپتال میں کینسر کے 25 فیصد مریض اخراجات برداشت نہ کر سکے، علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور

کراچی کے جناح اسپتال میں کینسر کے 25 فیصد مریض اخراجات برداشت نہ کر سکے، علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور

کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں کینسر کے تقریباً 25 فیصد مریض مالی مشکلات کے باعث اپنا علاج مکمل نہیں کر پاتے۔ ماہرین کے مطابق جدید ادویات، مہنگے انجیکشن اور علاج کے اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث بہت سے مریضوں کے لیے بیماری سے لڑنا مشکل ہو گیا ہے سرکاری اسپتال میں آپریشن اور شعاعوں کے ذریعے علاج مفت فراہم کیا جاتا ہے، لیکن کینسر کی بعض جدید اقسام کے لیے درکار مہنگی ادویات کی قیمتیں مریضوں اور ان کے خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہیں
یہ انکشاف جناح اسپتال کے زیر اہتمام چھاتی کے سرطان سے متعلق 2 روزہ طبی کانفرنس بریسٹ کون 2026 کے اختتامی اجلاس میں کیا گیا ماہرین نے بتایا کہ خیراتی اداروں، مخیر حضرات اور زکوٰۃ کی مدد سے بعض مریضوں کے علاج کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں، لیکن یہ امداد مستقل بنیادوں پر دستیاب نہیں ہوتی ادویات کی فراہمی میں تعطل اور مالی وسائل کی کمی کے باعث مریضوں کا علاج درمیان میں رک جاتا ہے، جس سے ان کے صحت یاب ہونے کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں
جناح اسپتال کے شعبہ سرطان کے سربراہ ڈاکٹر غلام حیدر نے کہا کہ کینسر کے مکمل علاج پر تقریباً 30 لاکھ سے 40 لاکھ روپے تک خرچ آ سکتا ہے اس میں آپریشن، شعاعوں کے ذریعے علاج، ادویات اور انجیکشن شامل ہیں کیموتھراپی کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے علاج کے لیے اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں
انہوں نے اس صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کینسر کے مریضوں کی مدد کے لیے مستقل مالی معاونت کا نظام قائم کیا جائے ان کے مطابق صرف خیراتی عطیات پر انحصار کرکے مریضوں کا علاج مسلسل جاری رکھنا ممکن نہیں، کیونکہ ہر مریض کو ضرورت کے وقت مالی مدد دستیاب نہیں ہوتی
ڈاکٹر غلام حیدر نے بتایا کہ بعض مریض اپنے وسائل ختم ہونے کے بعد گھر واپس چلے جاتے ہیں اور کئی ماہ بعد اس وقت اسپتال آتے ہیں جب ان کے جسم میں رسولیاں پہلے سے بڑی ہو چکی ہوتی ہیں علاج میں اس طرح کا تعطل بیماری کو قابو میں رکھنے کی کوششوں کو مشکل بنا سکتا ہے
ماہرین نے خاص طور پر جدید امیونوتھراپی اور ہدفی علاج کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی نشاندہی کی امیونوتھراپی میں مریض کے مدافعتی نظام کو سرطان کے خلاف کام کرنے میں مدد دی جاتی ہے، جبکہ ہدفی علاج میں ایسی ادویات استعمال ہوتی ہیں جو سرطان کے خلیوں کی مخصوص خصوصیات کو نشانہ بناتی ہیں بعض مریضوں کے لیے یہ طریقے مؤثر علاج کا اہم حصہ ہوتے ہیں، لیکن ان کی قیمت زیادہ ہونے کے باعث غریب خاندانوں کے لیے انہیں مسلسل حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے
کانفرنس کی شریک منتظم اور جناح اسپتال کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ ظہور نے بتایا کہ چھاتی کے سرطان میں مبتلا 60 فیصد سے زیادہ مریضوں کو تشخیص یا علاج شروع کرانے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کے مطابق سماجی دباؤ، خوف، غلط فہمیاں اور علاج کے اخراجات اس تاخیر کی اہم وجوہات ہیں
انہوں نے کہا کہ بعض خواتین چھاتی میں غیر معمولی تبدیلی یا گلٹی محسوس ہونے کے باوجود ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتیں کچھ خواتین کو بایوپسی کے بارے میں یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ اس سے سرطان پھیل سکتا ہے، جبکہ بعض مریض مستند طبی علاج کے بجائے متبادل طریقے اختیار کر لیتے ہیں اس دوران کئی ماہ ضائع ہو سکتے ہیں اور بیماری آگے بڑھ سکتی ہے
ڈاکٹر صائمہ ظہور نے چھاتی کے سرطان کی ایک قسم ایچ ای آر ٹو مثبت سرطان کا بھی ذکر کیا، جس میں خلیوں کے اندر ایک مخصوص پروٹین کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث رسولی تیزی سے بڑھ سکتی ہے اس قسم کے سرطان میں بعض مریضوں کو مہنگی ہدفی ادویات کی ضرورت ہوتی ہے زکوٰۃ یا بیت المال سے مالی امداد حاصل کرنے کے لیے درخواستوں اور کارروائیوں میں تاخیر بھی علاج شروع ہونے میں رکاوٹ بن سکتی ہے
ماہرین نے خواتین پر زور دیا کہ چھاتی میں کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کو نظر انداز نہ کریں اور مستند ڈاکٹر سے معائنہ کرائیں ان کے مطابق بیماری کی جلد تشخیص اور بروقت علاج سے صحت یابی کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں
جناح اسپتال کی جنرل سرجن ڈاکٹر سیدہ زریں رضا نے کہا کہ چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہر خاتون کے لیے پوری چھاتی نکالنا ضروری نہیں ہوتا بعض مریضوں میں چھاتی کو محفوظ رکھتے ہوئے آپریشن کیا جا سکتا ہے، جبکہ مخصوص صورتوں میں آنکو پلاسٹک سرجری کے ذریعے علاج کے ساتھ جسمانی ساخت کو بھی بہتر طور پر برقرار رکھا جا سکتا ہے
انہوں نے وضاحت کی کہ ظاہری شکل میں تبدیلی، بال جھڑنے اور معاشرتی رویوں کے خوف سے بھی بعض خواتین علاج سے گریز کرتی ہیں ان خدشات کو دور کرنے اور مریضوں کو علاج کے دستیاب طریقوں کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے
آغا خان یونیورسٹی اسپتال کی ڈاکٹر ثنا ذیشان نے ملک میں چھاتی کے سرطان کا ایک قومی اندراجی نظام قائم کرنے کی تجویز دی اس نظام میں سرکاری، نجی اور خیراتی اسپتالوں کے مریضوں کا ریکارڈ جمع کیا جا سکے گا بیماری کی تشخیص کے مرحلے، علاج، دوبارہ سرطان ہونے اور مریضوں کی بقا سے متعلق معلومات کی مدد سے یہ معلوم کرنا آسان ہوگا کہ علاج کے نظام میں کہاں خامیاں موجود ہیں اور کن شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے
شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹر نجیب نعمت اللہ نے منظم اسکریننگ، معیاری مقامی اور عام دستیاب متبادل ادویات کی فراہمی اور مریضوں کی مالی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج کی منصوبہ بندی پر زور دیا ماہرین کے مطابق اگر مناسب معیار کی ادویات مقامی سطح پر کم قیمت میں دستیاب ہوں تو مریضوں کے مالی بوجھ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے
کانفرنس کے مہمان خصوصی اور سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق رفیع نے سرطان کی جلد تشخیص، طبی اداروں کے درمیان تعاون اور تحقیق کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے دستیاب وسائل کے تحت محققین کی معاونت کی پیشکش بھی کی
پاکستان میں چھاتی کا سرطان خواتین میں سرطان کی عام اقسام میں شامل ہے اس بیماری سے نمٹنے کے لیے صرف اسپتالوں میں آپریشن اور علاج کی سہولتیں فراہم کرنا کافی نہیں، بلکہ مریضوں کو مہنگی ادویات، ضروری ٹیسٹ اور علاج کے تمام مراحل تک مسلسل رسائی دینا بھی ضروری ہے اگر مریض مالی وسائل ختم ہونے کے باعث علاج چھوڑ دیں تو پہلے سے کیے گئے علاج کے فوائد بھی متاثر ہو سکتے ہیں
جناح اسپتال کے ماہرین کی جانب سے سامنے آنے والے اعداد و شمار نے واضح کیا ہے کہ مفت سرکاری علاج کی موجودگی کے باوجود مہنگی جدید ادویات بہت سے مریضوں کے لیے بڑی رکاوٹ ہیں ماہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت مستقل مالی معاونت فراہم کرے، ادویات کی دستیابی بہتر بنائے، جلد تشخیص کے پروگراموں کو وسعت دے اور سرطان کے مریضوں کا قومی سطح پر ریکارڈ مرتب کرے تاکہ کسی مریض کو صرف مالی مجبوری کے باعث اپنا علاج ادھورا نہ چھوڑنا پڑے

قومی خبریں سے مزید