Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہیموفیلیا کے علاج میں بڑی طبی پیش رفت، نئی ادویات سے خون بہنے کے خطرناک واقعات میں نمایاں کمی

ہیموفیلیا کے علاج میں بڑی طبی پیش رفت، نئی ادویات سے خون بہنے کے خطرناک واقعات میں نمایاں کمی

ہیموفیلیا کے مریضوں کے لیے نئی ادویات اور جین تھراپی نے علاج کے امکانات کو نمایاں طور پر بدلنا شروع کر دیا ہے،امریکی جریدے نیشنل جیوگرافک کی رپورٹ کے مطابق، جدید ادویات خون بہنے کے خطرناک واقعات کو بڑی حد تک روک سکتی ہیں، جبکہ بعض مریضوں کے لیے علاج کے انجیکشن بھی پہلے کے مقابلے میں کم ضروری رہ گئے ہیں،سائنس دان ایک ہی بار دی جانے والی جین تھراپی کے ذریعے طویل مدتی تحفظ حاصل کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں
ہیموفیلیا ایک موروثی بیماری ہے جس میں خون جمانے والے ضروری پروٹینز کی کمی کے باعث خون بہنے کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے،اس بیماری کی دو بڑی اقسام ہیں،ہیموفیلیا اے میں خون جمانے والے فیکٹر 8 جبکہ ہیموفیلیا بی میں فیکٹر 9 کی کمی ہوتی ہے،شدید بیماری میں معمولی چوٹ بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور جوڑوں کے اندر بار بار خون بہنے سے مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے
کئی دہائیوں تک اس بیماری کا بنیادی علاج خون جمانے والے غائب پروٹین کی فراہمی تھا،تاہم اس طریقے میں دوا کا اثر وقت کے ساتھ کم ہوتا جاتا ہے اور مریضوں کو بار بار انجیکشن یا نس کے ذریعے دوا لینا پڑتی ہے،بعض مریضوں میں جسم کا مدافعتی نظام علاج کے خلاف ایسی اینٹی باڈیز بھی بنا لیتا ہے جو دوا کی تاثیر کو کم یا ختم کر دیتی ہیں
نئی نسل کی ادویات، جنہیں نان فیکٹر تھراپیز کہا جاتا ہے، اس مسئلے سے مختلف انداز میں نمٹتی ہیں،یہ خون جمانے کے عمل میں شامل دوسرے پروٹینز کے درمیان توازن بہتر بناتی ہیں، جس سے خون بہنے کے واقعات کم ہو سکتے ہیں،رپورٹ کے مطابق، بعض علاج خون بہنے کے واقعات میں، احتیاطی علاج نہ لینے والے مریضوں کے مقابلے میں، 96 فیصد تک کمی سے وابستہ رہے ہیں،بعض ادویات چند ہفتوں کے وقفے سے دی جا سکتی ہیں اور مخصوص علاج شیر خوار بچوں کے لیے بھی دستیاب ہیں،تاہم، ان ادویات سے خون بہنے کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا
اس شعبے میں ایک اور اہم پیش رفت جین تھراپی ہے،امریکا میں ہیموفیلیا بی کے بعض بالغ مریضوں کے لیے ہیمجینکس نامی علاج منظور شدہ ہے،اس طریقے میں جگر کے خلیوں تک خون جمانے والے فیکٹر 9 کی فعال جین پہنچائی جاتی ہے تاکہ جسم خود یہ پروٹین بنانا شروع کر سکے اور بار بار علاج کی ضرورت کم ہو جائے
رپورٹ میں بیان کردہ ایک طبی مطالعے میں ہیمجینکس لینے والے مریضوں کے خون میں فیکٹر 9 کی مقدار علاج کے 5 سال بعد اوسطاً معمول کی سطح کے تقریباً 36 فیصد تک رہی،یہ اوسط تمام مریضوں کے نتائج کی یکساں عکاسی نہیں کرتی، کیونکہ ہر شخص میں علاج کا اثر مختلف ہو سکتا ہے،مطالعے میں شامل 54 مردوں میں علاج کے بعد 5 سال کے دوران خون بہنے کی شرح روایتی احتیاطی علاج کے عرصے کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی کم رہی، جبکہ تقریباً تمام مریض باقاعدہ فیکٹر 9 انفیوژن بند کرنے کے قابل ہوئے
اس پیش رفت کے باوجود ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جین تھراپی ہر مریض کے لیے موزوں نہیں اور اس کے اثرات کی مدت بھی یقینی نہیں،اس علاج سے جگر میں سوزش پیدا ہو سکتی ہے اور خون جمانے والے پروٹین کی پیداوار کم ہو سکتی ہے،اسی طرح بعض جدید ادویات خون جمنے کے نظام کو ضرورت سے زیادہ فعال کر کے خطرناک لوتھڑے بننے کا باعث بھی بن سکتی ہیں
نیشنل جیوگرافک کی رپورٹ کے مطابق، نئی ادویات نے ہیموفیلیا کے شکار بچوں اور بالغوں کے لیے روزمرہ زندگی، کھیل کود اور سفر کے امکانات بہتر کیے ہیں،تاہم، فی الحال ان علاجوں کو مکمل اور مستقل شفا قرار نہیں دیا جا سکتا،سائنس دان اب ایسی جین تھراپی اور جین ایڈیٹنگ تکنیکوں پر کام کر رہے ہیں جو مستقبل میں بیماری کی بنیادی جینیاتی وجہ کو درست کرنے اور مریضوں کو طویل عرصے تک علاج کی ضرورت سے آزاد کرنے میں مدد دے سکتی ہیں

قومی خبریں سے مزید