امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا جھٹکا، 2 کروڑ ڈالر کے تشہیری منصوبے پر فوری پابندی
امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں سرکاری خزانے سے چلائی جانے والی اشتہاری مہم فوری طور پر روکنے کا حکم دے دیا ہے،عدالت نے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو 2 کروڑ ڈالر کے اس تشہیری منصوبے کے باقی ماندہ اشتہارات منسوخ کرنے اور وائٹ ہاؤس سمیت انتظامیہ کے دیگر اداروں کو یہ مہم دوبارہ شروع کرنے سے بھی روک دیا ہے
نیویارک میں تعینات امریکی ضلعی جج جینیفر روچون نے اتوار کی شام پابندی کا حکم جاری کیا،جج روچون کو سابق صدر جو بائیڈن نے مقرر کیا تھا
عدالتی حکم کے مطابق محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو سرکاری فنڈز استعمال کرتے ہوئے متنازعہ اشتہارات تیار کرنے، نشر کرنے، شائع کرنے یا تقسیم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی،عدالت نے انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اشتہاری مہم چلانے والے ادارے ایل ایم ڈی میڈیا کو فوری طور پر فیصلے سے آگاہ کرے تاکہ باقی اشتہارات بھی روک دیے جائیں
یہ اشتہاری مہم گزشتہ 2 ہفتوں سے قومی ٹیلی ویژن پر نشر ہو رہی تھی،اس میں صدر ٹرمپ کی حمایت میں تشہیر کے لیے سرکاری رقم استعمال کی جا رہی تھی
پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے عدالتی حکم سے قبل یہ وعدہ کرکے تنازعہ ختم کرنے کی کوشش کی تھی کہ اشتہاری مہم اتوار کے بعد خود ہی ختم کردی جائے گی،تاہم جج نے اس کے باوجود فوری پابندی عائد کردی اور انتظامیہ کو مستقبل میں اسی مہم کو دوبارہ شروع کرنے سے بھی روک دیا
اس فیصلے کے نتیجے میں سرکاری وسائل سے صدر کی حمایت میں سیاسی تشہیر کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ کو عدالتی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے





