Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود ایران تیل کی تجارت کے لیے پاکستان، روس اور چین کے راستے استعمال کرنے لگا

امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود ایران تیل کی تجارت کے لیے پاکستان، روس اور چین کے راستے استعمال کرنے لگا

امریکہ کی جانب سے ایران کی تیل کی برآمدات روکنے کے لیے بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کے باوجود تہران متبادل زمینی اور بحری راستوں کے ذریعے تجارت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے ایران کے لیے پاکستان، روس، چین اور وسطی ایشیا کے راستے اہم ہوتے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے وہ امریکی پابندیوں کے معاشی اثرات کم کرنے اور تیل و دیگر اشیا کی تجارت جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی، اگرچہ انہوں نے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر نئے فوجی حملے نہ کرنے کی بات بھی کی ہے واشنگٹن کا مقصد ایران کی تیل کی آمدنی محدود کرنا ہے، کیونکہ تیل کی برآمدات ایرانی حکومت کے لیے زرمبادلہ اور سرکاری اخراجات پورے کرنے کا اہم ذریعہ ہیں
تاہم ایران کی تجارت مکمل طور پر بند نہیں ہوئی ایران نے ایسے متبادل راستوں پر توجہ بڑھا دی ہے جو امریکی اثر و رسوخ والے تجارتی نظام اور روایتی بحری راستوں پر انحصار کم کرتے ہیں ان میں پاکستان کے ذریعے زمینی تجارت، بحیرہ کیسپین کے راستے روس سے روابط اور چین کے ساتھ ریل رابطے شامل ہیں
پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے دونوں ملکوں کی باہمی تجارت مارچ 2025 میں 3.13 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی اگرچہ یہ تجارت ایران کی مجموعی ضروریات کے مقابلے میں محدود ہے، لیکن پابندیوں کے ماحول میں نقد ادائیگیوں اور اشیا کے تبادلے کے ذریعے تجارت جاری رکھنے کی گنجائش ایران کے لیے اہم ہے
پاکستان نے ایران کے ساتھ زمینی تجارت کو آسان بنانے کے لیے کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کی بندرگاہوں کو بلوچستان کے سرحدی راستوں سے ملانے والی 6 تجارتی راہداریاں مقرر کی ہیں ان راستوں کے ذریعے خوراک، روزمرہ استعمال کی اشیا، ایندھن، بجلی اور گیس کی تجارت کی جا سکتی ہے پاکستان نے ایران جانے والی بعض ضروری اشیا اور وسطی ایشیائی ممالک تک سامان پہنچانے کے لیے بھی تجارتی سہولتیں فراہم کی ہیں
دونوں ملک اشیا کے تبادلے کے ایسے طریقوں پر بھی کام کر رہے ہیں جن میں ہر لین دین کے لیے روایتی بینکاری نظام پر مکمل انحصار ضروری نہیں ہوتا اس سے تجارت میں مدد مل سکتی ہے، تاہم امریکی پابندیوں کے تحت کسی مخصوص لین دین کی قانونی حیثیت اس کے فریقین، اشیا اور متعلقہ قواعد پر منحصر رہتی ہے
ایران کے لیے روس بھی ایک اہم شراکت دار بن چکا ہے دونوں ممالک نے اپنی باہمی تجارت میں ایرانی ریال اور روسی روبل کے استعمال کو بڑھایا ہے تاکہ مغربی مالیاتی نظام اور امریکی ڈالر پر انحصار کم کیا جا سکے دونوں ملکوں کی تجارت کا حجم تقریباً 5 ارب ڈالر بتایا گیا ہے
روس، ایران اور بھارت نے 2000 میں بین الاقوامی شمال جنوب راہداری قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا یہ منصوبہ بحری، ریل اور سڑک کے راستوں کو ملا کر سامان کی نقل و حمل کے لیے نہر سوئز کے متبادل کے طور پر تیار کیا گیا۔ اس راہداری کی مجموعی لمبائی تقریباً 7,200 کلومیٹر ہے
منصوبے کے تحت روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ سے بحیرہ کیسپین اور ایران کے راستے خلیج فارس تک سامان پہنچایا جا سکتا ہے قازقستان اور ترکمانستان کے ذریعے ریل رابطے بھی اس نظام کا حصہ ہیں ایران میں رشت سے آستارا تک ریلوے رابطے کی تکمیل اس منصوبے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے اندازوں کے مطابق 2030 تک اس راہداری کے ذریعے سالانہ 3 کروڑ ٹن سامان منتقل کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے، جس سے ایران کو تقریباً 1.5 ارب ڈالر سالانہ ٹرانزٹ آمدنی حاصل ہونے کا امکان ہے
چین بھی ایران کے لیے ایک اہم متبادل تجارتی راستہ فراہم کرتا ہے وسطی ایشیا کے ذریعے چین سے ایران تک ریل رابطوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے ییوو اور شی آن سے قازقستان اور ترکمانستان کے راستے ایران تک سامان پہنچایا جا سکتا ہے ان زمینی راستوں سے ایران کو خلیج فارس کے روایتی بحری راستوں پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے
اس کے باوجود ایران کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے اس کے تیل کی برآمدات پر پابندیوں اور بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں نے سرکاری آمدنی پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ 8 اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، اگر ایران کے تیل کے ذخائر اور برآمدی راستوں کی مشکلات برقرار رہیں تو اس کی متوقع سالانہ بجٹ آمدنی میں تقریباً 40 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے
ایران کے لیے بحیرہ کیسپین کا راستہ بھی مکمل حل نہیں ہے وہاں چلنے والے بحری جہاز نسبتاً کم مقدار میں سامان لے جا سکتے ہیں، جبکہ تیل کی پائپ لائنوں کے استعمال کے لیے پڑوسی ممالک کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے آذربائیجان اور قازقستان کے ساتھ ایران کے تعلقات بھی ان راستوں کو وسعت دینے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں
امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کی حکمت عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ جغرافیائی محل وقوع، زمینی سرحدیں، علاقائی شراکت دار اور متبادل نقل و حمل کے راستے کسی ملک کی تجارت کو مکمل طور پر روکنا مشکل بنا سکتے ہیں تاہم ان راستوں سے تجارت جاری رکھنے کے اخراجات زیادہ ہو سکتے ہیں اور یہ ایران کی تیل کی آمدنی کو پہلے کی سطح پر واپس لانے کے لیے کافی نہیں ہوں گے
پاکستان کے لیے بھی یہ صورت حال اہم ہے ایران اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی راہداریوں کی ترقی سے پاکستانی بندرگاہوں، ٹرانسپورٹ اور برآمدات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے دوسری طرف اسلام آباد کو امریکی پابندیوں، علاقائی سلامتی اور اپنے معاشی مفادات کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔ ایران کے لیے متبادل راستے کتنے مؤثر ثابت ہوتے ہیں، اس کا انحصار نہ صرف ان کی تکمیل بلکہ علاقائی ممالک کے تعاون، پابندیوں کے نفاذ اور عالمی تیل کی منڈی کی صورت حال پر بھی ہوگا

قومی خبریں سے مزید