خیرپور کے آخری حکمران میر جارج علی مراد خان تالپور انتقال کر گئے، ایک تاریخی دور کی آخری نشانی بھی ختم ہو گئی
سابق ریاست خیرپور کے آخری حکمران میر جارج علی مراد خان تالپور دوم 5 اکتوبر کو انتقال کر گئے ان کی وفات کے ساتھ برصغیر کی سابق شاہی ریاستوں کی تاریخ سے جڑی ایک اہم شخصیت کا باب بند ہو گیا وہ صرف ایک سابق حکمران نہیں تھے بلکہ اس دور کے گواہ بھی تھے جب برطانوی اقتدار کے خاتمے کے بعد ریاستوں کو پاکستان میں شامل ہونے یا اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے مذاکرات کرنا پڑے
میر جارج علی مراد خان 29 جون 1933 کو برائٹن، برطانیہ میں پیدا ہوئے ان کے والد میر فیض خان نے برطانیہ کے بادشاہ جارج پنجم سے متاثر ہو کر ان کا نام جارج رکھا تھا وہ تالپور خاندان کے آٹھویں حکمران تھے 1944 میں ان کے والد کی طبیعت خراب ہونے کے بعد ریاست کا انتظام برطانوی نمائندے اور مقامی وزیروں کے ذریعے چلایا جانے لگا
1947 میں برطانوی ہندوستان کی تقسیم کا اعلان ہوا تو خیرپور کی حیثیت بھی ایک اہم مسئلہ بن گئی یہ ریاست 1838 سے برطانوی حکومت کے ساتھ معاہداتی تعلقات رکھتی تھی برطانوی اقتدار ختم ہونے کے بعد خیرپور کو اپنی خودمختاری دوبارہ حاصل ہونا تھی اس وقت میر جارج علی مراد خان کی عمر صرف 14 سال تھی۔ 24 جولائی 1947 کو انہیں خیرپور کا میر مقرر کیا گیا، جبکہ ان کے چچا غلام حسین تالپور نے سرپرست کی حیثیت سے ریاست کے معاملات سنبھالے
خیرپور نے 15 اگست 1947 کو اپنا یوم آزادی منایا، لیکن پنجاب اور سندھ کو ملانے والی ریلوے لائن کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اس ریاست کی پاکستان کے لیے خاص اہمیت تھی مذاکرات کے بعد 3 اکتوبر 1947 کو ریاست کی جانب سے پاکستان سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے گئے اس طرح خیرپور پاکستان میں شامل ہونے والی پہلی ایسی سابق شاہی ریاست بنی جو پاکستان کے ساتھ زمینی طور پر متصل تھی ابتدا میں ریاست نے دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے اختیارات پاکستان کے حوالے کیے، جبکہ دیگر معاملات میں اپنی خودمختاری برقرار رکھی
کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد میر جارج علی مراد خان نے ستمبر 1951 میں ریاست کے مکمل اختیارات سنبھالے اس وقت ممتاز قزلباش ریاست کے وزیر اعظم تھے۔ دونوں نے مل کر انتظامی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا خیرپور میں بالغ شہریوں کو ووٹ دینے کے حق کی بنیاد پر انتخابات ہوئے اور مئی 1950 میں منتخب ہونے والی 15 رکنی اسمبلی پاکستان کی پہلی مکمل جمہوری اسمبلی قرار پائی اس کی افتتاحی تقریب میں وزیر اعظم لیاقت علی خان نے بھی شرکت کی تھی
خیرپور کی ریاستی حکومت نے تعلیم اور معیشت کے شعبوں میں بھی اہم اقدامات کیے۔ 1953 کے قانون کے تحت ریاست کو صوبائی حیثیت دی گئی اور میر کو آئینی سربراہ کا مقام حاصل ہوا ریاست کی آمدنی 1948 میں 57 لاکھ روپے سے بڑھ کر 1955 میں 1 کروڑ 69 لاکھ روپے تک پہنچ گئی خیرپور ٹیکسٹائل مل 1951 میں قائم کی گئی، جس میں 2,000 سے زیادہ افراد کو روزگار ملا
ریاست کے بجٹ کا 22 فیصد سے زیادہ حصہ تعلیم کے لیے مختص کیا جاتا تھا میٹرک تک تعلیم مفت تھی، طلبہ کو کتابیں اور ہاسٹل کی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی تھیں، جبکہ لڑکوں کے لیے ابتدائی تعلیم لازمی قرار دی گئی تھی ان اقدامات کے نتیجے میں 10 برس کے دوران شرح خواندگی تقریباً دوگنی ہو گئی
تاہم خیرپور کی ترقی کا یہ سفر زیادہ عرصے تک جاری نہ رہ سکا پاکستان کے مغربی حصے کی تمام ریاستوں اور صوبوں کو ایک انتظامی وحدت میں ضم کرنے کے منصوبے کے خلاف خیرپور کی اسمبلی نے احتجاج کیا ارکان کا کہنا تھا کہ ریاست کئی معاملات میں پاکستان کے دوسرے صوبوں سے آگے ہے اور اس کے عوام کو ان کی مرضی کے خلاف انضمام پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے
اس کے باوجود سیاسی دباؤ کے تحت 10 نومبر 1954 کو اسمبلی نے انضمام کے حق میں فیصلہ کیا میر جارج علی مراد خان نے ریاست کی خودمختاری اور حکمرانی کے تمام اختیارات پاکستان کے حوالے کرنے کی دستاویز پر دستخط کر دیے۔ 14 اکتوبر 1955 کو ون یونٹ منصوبے کے نفاذ کے ساتھ 1783 میں قائم ہونے والی ریاست خیرپور کا باقاعدہ خاتمہ ہو گیا
ریاست کے خاتمے کے بعد میر جارج علی مراد خان نے عوامی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لی، لیکن خیرپور کی تاریخ، ثقافت اور قدرتی ماحول سے ان کا تعلق برقرار رہا انہوں نے اپنے خاندان کے سابق شکار گاہ کے علاقے مہرانو کو جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ایک نمایاں محفوظ مقام میں تبدیل کیا۔ اس علاقے کی حفاظت ان کی دیرپا خدمات میں شمار ہوتی ہے
ان کی سب سے بڑی وابستگی خیرپور کے عوام کے ساتھ تھی اپنی کتاب کے لیے لکھے گئے دیباچے میں انہوں نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ ریاست کے پاکستان میں انضمام کے 60 سال بعد بھی خیرپور کے عوام ان سہولتوں اور فوائد کے منتظر ہیں جو انہیں ریاستی دور میں حاصل تھے ان کا یہ بیان اس بحث کو دوبارہ سامنے لاتا ہے کہ ریاست کے خاتمے کے بعد مقامی آبادی کو ترقی، تعلیم اور عوامی خدمات کے شعبوں میں کس حد تک فائدہ پہنچا
میر جارج علی مراد خان کی وفات محض ایک سابق حکمران کا انتقال نہیں بلکہ برصغیر کی تقسیم، پاکستان کے ابتدائی آئینی ارتقا اور سابق شاہی ریاستوں کے انضمام کی تاریخ سے جڑی ایک زندہ یاد کے خاتمے کی علامت بھی ہے ان کی زندگی خیرپور کے اس دور کی یاد دلاتی ہے جب ایک چھوٹی ریاست نے انتخابی نمائندگی، تعلیم اور معاشی ترقی کے میدان میں اپنی الگ شناخت قائم کی تھی ان کی وفات کے بعد یہ سوال باقی ہے کہ خیرپور کی تاریخی کامیابیوں اور وہاں کے عوام کی آج کی ضروریات کو کس طرح بہتر طور پر سمجھا اور پورا کیا جا سکتا ہے





