آئی ایم ایف سے قرض لینے والے تقریباً نصف ممالک قرضوں کے بحران کے خطرے سے دوچار، سود کی ادائیگیاں 4 گنا بڑھ گئیں
دنیا بھر میں قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ کم آمدنی والے اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کے لیے سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے ایک نئی رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ سے رعایتی شرائط پر قرض حاصل کرنے کے اہل تقریباً نصف ممالک یا تو قرضوں کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں یا اس کے شدید خطرے سے دوچار ہیں ان ممالک میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 2013 کے مقابلے میں 4 گنا ہو چکی ہیں، جس کے باعث حکومتوں کے لیے صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی عوامی سہولتوں پر اخراجات برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے
انسداد بدعنوانی کے عالمی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے یہ رپورٹ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں 12 سے 18 اکتوبر تک ہونے والے عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں سے قبل جاری کی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سرکاری قرضوں کے حصول میں رازداری، بدعنوانی اور کمزور نگرانی ایسے مسائل ہیں جن کا نقصان صرف موجودہ نسل کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے
رپورٹ کے مطابق کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی حکومتیں اپنی آمدنی کا کم از کم 8 فیصد قرضوں کی ادائیگی اور ان پر سود دینے کے لیے خرچ کر رہی ہیں افریقہ میں تقریباً 57 فیصد آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جہاں حکومتیں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے صحت، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات پر ہونے والے مجموعی اخراجات سے بھی زیادہ رقم خرچ کرتی ہیں
اس صورت حال کا مطلب یہ ہے کہ حکومتوں کی آمدنی کا بڑا حصہ قرض خواہوں کو ادائیگی کرنے میں صرف ہو جاتا ہے، جبکہ عوامی ضروریات کے لیے وسائل محدود رہ جاتے ہیں اگر کسی ملک کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے زیادہ رقم مختص کرنا پڑے تو اسپتالوں، اسکولوں، سڑکوں، صاف پانی اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کے لیے دستیاب بجٹ پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اس سے غریب اور کم آمدنی والے گھرانے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ وہ بنیادی سرکاری سہولتوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ حکومتیں کتنا قرض لیتی ہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ قرض کن شرائط پر حاصل کیا جاتا ہے، معاہدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جاتی ہیں یا نہیں اور قرض کی رقم کس مقصد کے لیے استعمال ہوتی ہے اگر قرضوں کے معاہدے خفیہ رکھے جائیں اور نگرانی کا نظام کمزور ہو تو پارلیمان، شہریوں اور آزاد اداروں کے لیے یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ قرض کس نے منظور کیا، ملک پر کتنی رقم واجب الادا ہے اور حاصل شدہ رقم مقررہ مقصد پر خرچ ہوئی بھی یا نہیں
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شفافیت اور احتساب کے مؤثر انتظامات نہ ہوں تو سرکاری قرضوں کا غلط استعمال اور خرد برد ہو سکتی ہے اس صورت میں حکومتی عہدے داروں یا ان سے وابستہ بااثر افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، جبکہ قرض کی واپسی کا بوجھ عام شہریوں اور مستقبل کی نسلوں پر پڑتا ہے
ادارے نے حکومتوں اور عالمی مالیاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری قرضوں کے حصول اور استعمال سے متعلق معلومات عام کی جائیں اور بدعنوانی روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ رپورٹ میں جی 20 ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں کام کرنے والے دوطرفہ قرض دہندگان اور نجی مالیاتی اداروں کو پابند کریں کہ وہ سرکاری قرضوں کے ہر معاہدے سے متعلق مکمل مالی اور غیر مالی معلومات ظاہر کریں
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے تعاون سے قرضوں کے معاہدوں کے لیے مشترکہ اصول وضع کرنے کی تجویز بھی دی ہے ان اصولوں کا مقصد معاہدوں میں ایسی رازداری کی شقوں کو محدود کرنا ہے جن کے ذریعے حکومتیں قرضوں کی تفصیلات عوام سے چھپا سکتی ہیں رپورٹ کے مطابق قرضوں کے معاہدے متعلقہ ملک کے معلومات تک رسائی کے قوانین اور عوامی نگرانی کے تقاضوں کے مطابق ہونے چاہییں
بینکاک میں ہونے والے سالانہ اجلاسوں میں مختلف ممالک کے وزرائے خزانہ، مرکزی بینکوں کے سربراہان، عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندے، کاروباری شخصیات اور شہری تنظیمیں شرکت کریں گی۔ 15 اکتوبر کو جی 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان کی ملاقات بھی متوقع ہے، جسے قرضوں کی شفافیت اور احتساب کے حوالے سے پالیسی فیصلوں کا اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے
قرضوں کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو صرف نئے قرضوں کے حصول یا پرانے قرضوں کی ادائیگی کے انتظام تک محدود رہنے کے بجائے اپنے مالیاتی نظام کو شفاف بنانا ہوگا قرضوں کی شرائط، ادائیگیوں اور رقم کے استعمال کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھنے سے بدعنوانی کے امکانات کم کرنے اور حکومتی فیصلوں پر نگرانی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے
پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ مسئلہ اہم ہے جہاں قرضوں کی ادائیگی اور سود پر ہونے والے اخراجات حکومتی بجٹ پر دباؤ ڈالتے ہیں تاہم کسی مخصوص ملک کی صورت حال کا درست اندازہ لگانے کے لیے اس کے مجموعی قرض، سود کی ادائیگیوں، سرکاری آمدنی اور عوامی خدمات پر اخراجات کے تازہ اعداد و شمار دیکھنا ضروری ہے رپورٹ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ قرض لینا بذات خود واحد مسئلہ نہیں، بلکہ قرضوں کے حصول کا طریقہ، ان کا استعمال اور عوام کے سامنے جواب دہی بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں





