Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی: دہشت گردی کا حل یا وفاق اور صوبے کے درمیان نئی آئینی جنگ کا آغاز، صوبے کے عوام نے تعاون نہ کیا تو کیا ہوگا ؟

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی: دہشت گردی کا حل یا وفاق اور صوبے کے درمیان نئی آئینی جنگ کا آغاز، صوبے کے عوام نے تعاون نہ کیا تو کیا ہوگا ؟

رپورٹ؛ آفاق فاروقی
وفاقی کابینہ کی ممکنہ منظوری، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث اور صوبائی حکومت کے اختیارات محدود ہونے کا خدشہ، کیا ایمرجنسی سے امن قائم ہوگا یا سیاسی تصادم مزید شدت اختیار کرے گا؟
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور نے پاکستان کی سیاست میں ایک نئے اور حساس بحران کے امکانات پیدا کر دیے ہیں،صوبے میں امن و امان کی خراب صورت حال، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خدشات اور وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات کے پس منظر میں یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ کیا ایمرجنسی واقعی سکیورٹی کا مسئلہ حل کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے یا اس کے نتیجے میں ایک منتخب صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان محاذ آرائی مزید گہری ہو جائے گی؟
دستیاب رپورٹ کے مطابق، صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں خیبر پختونخوا کی صورت حال اور ایمرجنسی کے مختلف آئینی امکانات پر غور کیا گیا،اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اہم حکومتی رہنما شریک ہوئے،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے صوبے میں امن و امان اور سکیورٹی کی صورت حال پر بھیجی گئی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا
ذرائع کے مطابق، ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز زیر غور آئی،وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس معاملے کی منظوری لیے جانے اور 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق کی اطلاعات ہیں،
اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اسلام آباد کی جانب مارچ کی قیادت کر چکے ہیں،دوسری طرف وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات ضروری ہیں،ایسے حالات میں سکیورٹی کی ضرورت، سیاسی مفادات اور آئینی حدود کے درمیان توازن قائم کرنا حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا
اس بحث کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ فرق واضح کرنا ضروری ہے کہ آئین کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ اور کسی صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی بنیاد پر اختیارات سنبھالنا ایک ہی چیز نہیں ہیں
آئین پاکستان کا آرٹیکل 232 جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی سنگین اندرونی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہے جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہو،اندرونی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی آئینی شرط بھی موجود ہے،اس آرٹیکل کے تحت وفاق کو صوبے کے معاملات میں وسیع اختیارات مل سکتے ہیں، لیکن ان کا استعمال آئین کی مقرر کردہ حدود کے اندر ہی ہونا چاہیے
دوسری جانب، آرٹیکل 234 اس صورت حال سے متعلق ہے جب کسی صوبے میں حکومت آئین کے مطابق نہ چلائی جا سکتی ہو،اس صورت میں صدر صوبائی گورنر کی رپورٹ کی بنیاد پر مخصوص حکومتی اختیارات اپنے پاس لے سکتے ہیں یا گورنر کو ان کے استعمال کی ہدایت دے سکتے ہیں،اس آرٹیکل کے تحت صوبائی اسمبلی کے اختیارات بھی پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کیے جانے کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے پارلیمانی منظوری اور مدت سے متعلق آئینی شرائط لاگو ہوتی ہیں
اس لیے محض یہ اعلان کہ صوبے میں ایمرجنسی لگائی جا رہی ہے، خودبخود یہ معنی نہیں رکھتا کہ وزیراعلیٰ برطرف ہو گئے، کابینہ تحلیل ہو گئی یا صوبائی اسمبلی ختم ہو گئی،اصل صورت حال اس بات پر منحصر ہوگی کہ کس آئینی آرٹیکل کے تحت اقدام کیا جاتا ہے، حکم نامے میں کیا اختیارات درج ہوتے ہیں اور متعلقہ آئینی شرائط کس حد تک پوری کی جاتی ہیں
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کے سیاسی اور انتظامی نتائج کا تعین کرے گا،اگر وفاق صرف سکیورٹی کے مخصوص معاملات میں آئینی اختیارات استعمال کرتا ہے تو وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ لازماً اپنے عہدوں سے محروم نہیں ہوں گے،لیکن اگر آرٹیکل 234 کے تحت صوبائی حکومت کے بعض یا تمام انتظامی اختیارات گورنر یا صدر کے اختیار میں دے دیے جاتے ہیں تو وزیراعلیٰ اور کابینہ کی عملی حیثیت نمایاں طور پر محدود ہو سکتی ہے
آرٹیکل 234 کے تحت صوبائی اسمبلی کے اختیارات بھی پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کیے جا سکتے ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسمبلی خودبخود ختم ہو جاتی ہے،آئین میں ہائی کورٹ کے اختیارات کے تحفظ کی شرط بھی موجود ہے
اس کے برعکس، آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ بذات خود صوبائی اسمبلی کی تحلیل یا وزیراعلیٰ کی برطرفی کا حکم نہیں ہے،وفاق صوبائی انتظامیہ کو ہدایات دے سکتا ہے اور مخصوص حالات میں حکومتی اختیارات اپنے پاس لینے کا انتظام کر سکتا ہے،لیکن یہ سب متعلقہ آئینی شرائط اور حکم نامے کے دائرہ کار کے مطابق ہی ہوسکے گا
اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ایمرجنسی لگتے ہی وزیراعلیٰ وفاق کے ماتحت ایک ایسے عہدیدار بن جائیں گے جنہیں ہر فیصلے پر عمل کرنا لازمی ہوگا،اصل قانونی صورت حال کا تعین نافذ کیے جانے والے آئینی طریقۂ کار سے ہوگا
سیاسیات اور سماجی علوم میں ریاستی اختیار کے ایسے استعمال کا جائزہ لیتے ہوئے عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ غیر معمولی اختیارات کسی مسئلے کے حل میں کتنی مدد دیتے ہیں اور ان کے معاشرتی و سیاسی اخراجات کیا ہوتے ہیں،خیبر پختونخوا کے معاملے میں ایمرجنسی کے حق میں چند ممکنہ دلائل سامنے آ سکتے ہیں
اول، وفاق اور صوبے کے درمیان سکیورٹی پالیسی پر اختلاف کم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے،اگر دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اداروں کے باہمی تعاون میں واقعی انتظامی رکاوٹیں ہیں تو واضح اختیارات اور مشترکہ حکمت عملی سے کچھ رکاوٹیں دور ہو سکتی ہیں
دوم، وفاقی حکومت کا مؤقف یہ ہو سکتا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے میں کسی صوبائی حکومت کی سیاسی ترجیحات مؤثر کارروائی کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہییں،غیر معمولی حالات میں فیصلہ سازی کو تیز کرنا اور مختلف اداروں کے درمیان ذمہ داریوں کو واضح کرنا انتظامی فوائد پیدا کر سکتا ہے
سوم، اگر اقدامات قانونی، محدود اور مخصوص مقاصد کے لیے ہوں تو ان کے ذریعے بعض علاقوں میں سکیورٹی انتظامات بہتر بنانے، خطرات کے خلاف وسائل مجتمع کرنے اور انتظامی نگرانی بڑھانے کی کوشش کی جا سکتی ہے
تاہم یہ تمام ممکنہ فوائد ہیں، ثابت شدہ نتائج نہیں،ایمرجنسی کا اعلان بذات خود دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے تحفظ یا ریاستی اداروں کی بہتر کارکردگی کی ضمانت نہیں دیتا،اس کے لیے مقامی آبادی کا تعاون، قابل اعتماد معلومات، مؤثر پولیسنگ اور دہشت گردی کے اسباب سے نمٹنے کی پالیسی بھی ضروری ہے
سب سے بڑا خطرہ: دہشت گردی کے خلاف کارروائی سیاسی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے
اس اقدام کا دوسرا رخ زیادہ پیچیدہ ہے،اگر صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ ایک ایسے وقت میں ہوتا ہے جب وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی تصادم پہلے ہی شدید ہے تو مخالف جماعت اسے سکیورٹی کی ضرورت کے بجائے منتخب حکومت کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش قرار دے سکتی ہے
رائٹرز نے 5 اکتوبر کی رپورٹ میں بتایا تھا کہ عمران خان کے حامیوں کا اسلام آباد کی جانب مارچ شروع ہو چکا تھا، مذاکرات ناکام ہو گئے تھے اور وفاقی حکومت نے کہا تھا کہ مارچ کو دارالحکومت میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا،اسی رپورٹ کے مطابق، وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر تعاون نہ ہونے کو مذاکرات کی ناکامی کی وجہ قرار دیا، جبکہ پی ٹی آئی نے حکومتی مؤقف سے اختلاف کیا
اس پس منظر میں ایمرجنسی کے نفاذ سے تین بڑے سیاسی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں
پہلا خطرہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی اپنی سیاسی مہم کو صوبائی خودمختاری اور منتخب حکومت کے تحفظ کی تحریک میں تبدیل کر دے،اس صورت میں احتجاج کا دائرہ صرف عمران خان کی رہائی یا اسلام آباد مارچ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وفاقی اختیارات کے استعمال پر بھی مرکوز ہو سکتا ہے
دوسرا خطرہ یہ ہے کہ وفاق اور صوبے کے درمیان ادارہ جاتی تعاون مزید کمزور ہو جائے،اگر وزیراعلیٰ، صوبائی کابینہ، پولیس اور وفاقی اداروں کے درمیان اعتماد ختم ہوتا ہے تو سکیورٹی کے لیے درکار معلومات، وسائل اور انتظامی رابطے بھی متاثر ہو سکتے ہیں
تیسرا خطرہ یہ ہے کہ سیاسی کشیدگی سڑکوں پر تصادم، گرفتاریوں، کاروباری سرگرمیوں میں خلل اور عوامی بے چینی میں اضافے کا باعث بنے، اگر حالات خراب ہوئے تو عام شہریوں، تاجروں، طلبہ اور روزگار کے لیے سفر کرنے والوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے
کیا ایمرجنسی سے سیاسی لڑائی کم ہو سکتی ہے؟
اس سوال کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ ایمرجنسی کس مقصد کے لیے اور کس انداز میں نافذ کی جاتی ہے
اگر وفاق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو بہتر بنانے کے لیے واضح اہداف مقرر کرے، صوبائی حکومت کو فیصلوں میں شریک رکھے، مقامی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرے اور غیر معمولی اختیارات کو محدود مدت اور واضح نگرانی کے تابع رکھے تو کشیدگی کم کرنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے
اس کے برعکس، اگر ایمرجنسی کو صوبائی حکومت کو سیاسی طور پر کمزور کرنے یا احتجاجی تحریک کو روکنے کے بنیادی آلے کے طور پر دیکھا گیا تو پی ٹی آئی کے ردعمل میں شدت آ سکتی ہے،اس صورت میں حکومت کو وقتی طور پر انتظامی اختیار تو حاصل ہو سکتا ہے، لیکن سیاسی اختلاف ختم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوجائے گا
سیاسیات کے نقطۂ نظر سے ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ انتظامی کنٹرول حاصل کرنا اور عوامی اعتماد حاصل کرنا دو الگ چیزیں ہیں،وفاق قانونی طور پر بعض اختیارات اپنے پاس لے بھی لے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صوبے کے عوام اس فیصلے کو قبول کر لیں گے
کیا 12 اضلاع میں ایمرجنسی پورے صوبے پر اثر انداز ہوگی؟
یہ سوال بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے،رپورٹ میں ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی کی تجویز کا ذکر ہے،لیکن صرف ان اضلاع کے نام سامنے آنے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ باقی صوبے میں انتظامی اور آئینی صورت حال بالکل معمول کے مطابق رہے گی یا پورے صوبے کے اختیارات وفاق کے پاس چلے جائیں گے
اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حتمی اعلان میں جغرافیائی حدود کیا مقرر کی جاتی ہیں، کون سے اختیارات منتقل کیے جاتے ہیں اور کس آئینی آرٹیکل کو بنیاد بنایا جاتا ہے،آرٹیکل 232 کے تحت صوبے یا اس کے کسی حصے کے لیے مخصوص اقدامات کی گنجائش موجود ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبائی آئینی نظام کے چلنے میں ناکامی کی صورت میں مختلف اختیارات فراہم کرتا ہے
اگر اقدام صرف مخصوص اضلاع اور سکیورٹی معاملات تک محدود ہو تو اس کے اثرات نسبتاً محدود رکھے جا سکتے ہیں،لیکن اگر اس کے ذریعے صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات وسیع پیمانے پر تبدیل کیے گئے تو اس کے سیاسی اثرات پورے خیبر پختونخوا تک پھیل سکتے ہیں
اصل امتحان: امن، آئین اور سیاسی اعتماد
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورت حال کو محض سیاسی بحث سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،اسی طرح، سکیورٹی کی ضرورت کو بنیاد بنا کر آئینی تقاضوں اور منتخب حکومت کے اختیارات سے متعلق سوالات کو بھی غیر اہم قرار نہیں دیا جا سکتا
وفاقی حکومت کے سامنے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ثابت کرے کہ اس کا مقصد عوام کا تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی ہے، نہ کہ سیاسی اختلاف کو انتظامی طاقت سے دبانا،دوسری طرف صوبائی حکومت کی ذمہ داری بھی ہوگی کہ وہ سکیورٹی کے معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کے لیے قابل عمل راستہ پیش کرے
اگر دونوں فریق سیاسی اختلافات کو سکیورٹی سے الگ رکھنے میں ناکام رہے تو ایمرجنسی ایک انتظامی فیصلے سے بڑھ کر وفاق اور صوبے کے درمیان طویل آئینی تنازعہ بن سکتی ہے،اس کے برعکس، اگر واضح قانونی حدود، پارلیمانی نگرانی اور سیاسی مکالمے کو اہمیت دی جائے تو تصادم کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں
ایمرجنسی سے وفاق کو بعض حالات میں اضافی انتظامی اختیار مل سکتا ہے، لیکن اختیار میں اضافہ اور مسئلے کا حل ایک ہی چیز نہیں ہیں،خیبر پختونخوا میں اس اقدام کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ آیا دہشت گردی کم ہوتی ہے، عوام کا تحفظ بہتر ہوتا ہے اور وفاق و صوبے کے درمیان تعاون بحال ہوتا ہے یا سیاسی محاذ آرائی مزید شدید ہو جاتی ہے،اگر امن کے نام پر ایسا فیصلہ کیا جاتا ہے جو سیاسی اعتماد کو مزید نقصان پہنچائے تو اس کی انتظامی کامیابی بھی دیرپا امن میں تبدیل ہونا مشکل ہوگا

قومی خبریں سے مزید