پاکستان کو یمن جنگ میں براہ راست فوج بھیجنے سے گریز کرنا چاہیے
مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک کی جانب سے سعودی عرب میں فوجی دستوں کی تعیناتی کی تصدیق کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے سعودی عرب بظاہر ایران نواز حوثی تحریک انصاراللہ کے خلاف بڑے پیمانے کی جنگ کی تیاری کر رہا ہے
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے ریاض میں ملاقات کے دوران آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کی اجلاس میں تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ضرورت پڑنے پر سعودی عرب میں تیزی سے فوجی تعیناتی کی جائے گی، تاہم یہ اقدام ہر ملک کے اپنے قومی قوانین کے مطابق ہوگا مکہ دفاعی اتحاد میں اجتماعی دفاع کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اس لیے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوری فوجی تعاون کا امکان پہلے ہی موجود تھا
اتحادی ممالک نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت بھی کی، خصوصاً حجاز میں موجود مقدس شہروں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا پاکستان کے لیے سعودی عرب کے دفاع کی اہمیت غیر معمولی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے گہرے دفاعی تعلقات قائم ہیں اور ماضی میں بھی پاکستانی فوج سعودی عرب میں مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے خدمات انجام دیتی رہی ہے
تاہم سعودی عرب کے دفاع اور یمن کی اندرونی جنگ میں براہ راست فریق بننے میں واضح فرق ہے یمن میں انصاراللہ اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے درمیان طویل عرصے سے جنگ جاری ہے اس تنازع میں پاکستان کا براہ راست داخل ہونا ملک کے لیے سنگین سیاسی، سفارتی اور عسکری پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے
پاکستان کو 2015 میں بھی سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف کارروائی میں شامل ہونے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم پارلیمان نے اس وقت ملک کو یمن کی جنگ میں براہ راست شامل ہونے سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا تھا موجودہ صورتحال میں بھی اسی احتیاط اور سیاسی دانش مندی کی ضرورت ہے
سعودی عرب کے خلاف بیرونی جارحیت کی صورت میں پاکستان اپنے دیرینہ اتحادی کے دفاع کے لیے تعاون کرسکتا ہے، لیکن یمن کی سرزمین پر پاکستانی فوج بھیجنے سے گریز کرنا زیادہ دانش مندانہ پالیسی ہوگی یمن کی جنگ پہلے ہی ایک پیچیدہ علاقائی تنازع بن چکی ہے جس میں متعدد بیرونی طاقتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر شامل رہی ہیں
یمن میں لڑائی حالیہ عرصے میں مزید شدت اختیار کرچکی ہے جبکہ فوری جنگ بندی کے امکانات بھی محدود دکھائی دیتے ہیں یہ تنازع 2015 سے جاری ہے اور امریکا اور اسرائیل سمیت مختلف بیرونی طاقتوں کی کارروائیوں کے باوجود حوثیوں کو مکمل طور پر ختم یا پسپا نہیں کیا جاسکا
مسلسل جنگ کے نتیجے میں یمن میں ایک نئے انسانی بحران کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے اور تنازع کے دوسرے ممالک تک پھیلنے کا خدشہ موجود ہے اس لیے صرف فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی کوششوں کو بھی فوری طور پر فعال کرنے کی ضرورت ہے
عمان اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے کیونکہ اس کے حوثیوں اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ رابطے موجود ہیں ممکنہ جنگ بندی میں سعودی عرب پر حملوں کا خاتمہ، باب المندب سے آزادانہ آمدورفت کی ضمانت اور یمن میں بیرونی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ بنیادی نکات ہونے چاہئیں
یمن میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب سیاسی حل خود یمنی فریقوں کی قیادت میں سامنے آئے اور ملک کے مختلف دھڑوں کو قابل قبول ہو اس طرح نہ صرف یمن میں داخلی امن قائم کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے بلکہ سعودی عرب سمیت پڑوسی ممالک کی سلامتی کو بھی بہتر طور پر یقینی بنایا جاسکتا ہے





