سیاسی کشیدگی نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے لیے جگہ پیدا کر دی
خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے مسئلے نے ایک بار پھر پاکستان کی سیاسی اور سکیورٹی پالیسی کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ مذاکرات بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے اور سیاسی کشیدگی کے ساتھ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کا سوال مزید پیچیدہ ہوگیا ہے
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہی شدید سیاسی تناؤ کے ماحول میں ہوا تھا ایک طرف پی ٹی آئی اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی تھی جبکہ دوسری جانب وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر غور کر رہی تھی اسلام آباد کو کنٹینرز کے ذریعے بند کیا گیا اور کئی شاہراہوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں
مذاکرات کے دوران دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر معاہدے سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا حکومت کا مؤقف تھا کہ اپوزیشن حتمی مسودے پر اتفاق کے بعد پیچھے ہٹ گئی، جبکہ اپوزیشن نے کہا کہ اختلافات اتنے زیادہ تھے کہ کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں تھا
مذاکرات میں سب سے بڑا اختلاف سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے معاملے اور خیبر پختونخوا حکومت کی دہشت گردی کے خلاف مجوزہ فوجی کارروائی کی حمایت سے متعلق تھا۔ پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور مشاورت کا مطالبہ کر رہی تھی، جبکہ وفاقی حکومت چاہتی تھی کہ صوبائی حکومت جنوبی اضلاع میں ہونے والی کارروائی کی واضح حمایت کرے
خیبر پختونخوا حکومت کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ ماضی کی فوجی کارروائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی ہوئی تھی اور صوبے میں ان کارروائیوں کے بارے میں شدید عوامی ردعمل پایا جاتا ہے رواں سال کے آغاز میں صوبائی حکومت کی جانب سے بلائی گئی کثیر الجماعتی کانفرنس میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی مخالفت کی تھی
صوبے میں گزشتہ 5 برس کے دوران دہشت گردی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ ہزاروں شہری اور سکیورٹی اہلکار اپنی جانیں گنوا چکے ہیں گزشتہ سال خیبر پختونخوا میں 2013 کے بعد دہشت گرد حملوں کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی، حالانکہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے متعدد انٹیلی جنس کارروائیوں میں سیکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا
دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صوبائی پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے متعدد اضلاع میں پولیس پر حملے ہوئے ہیں اور کمزور انتظامی ڈھانچے کے باعث بعض علاقوں میں ریاستی عمل داری متاثر ہوئی ہے
مضمون میں اس صورتحال کو صرف سکیورٹی کا مسئلہ قرار دینے کے بجائے سیاسی عدم استحکام سے بھی جوڑا گیا ہے سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان مسلسل کشیدگی کے باعث دہشت گرد گروہوں کو اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کی گنجائش مل رہی ہے
افغانستان کے طالبان حکام کے ساتھ تعلقات بھی اس بحران کا اہم حصہ ہیں پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانے اور اسے حاصل سہولت کاری پاکستان میں ہونے والے حملوں میں کردار ادا کر رہے ہیں بڑے دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر کارروائیاں بھی کی جاتی رہی ہیں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی اور تجارتی پابندیوں نے مقامی آبادی کے مسائل اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے
اس صورتحال میں ایک جامع قومی سلامتی اور انسداد دہشت گردی پالیسی کی ضرورت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت کی شمولیت محدود رہی ہے اور زیادہ تر معاملات سکیورٹی اداروں تک محدود رہے ہیں
صرف فوجی کارروائیوں کے ذریعے مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں متاثرہ علاقوں میں معاشی اور سماجی مسائل، روزگار، تعلیم، انتظامی کمزوری اور ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کے خلا کو بھی دور کرنا ضروری ہے مقامی آبادی کی حمایت کے بغیر طویل المدت انسداد دہشت گردی پالیسی مؤثر ثابت ہونا مشکل ہے
دوسری طرف پی ٹی آئی نے مذاکرات کی ناکامی کے بعد جنوبی خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ شروع کر دیا ہے مضمون کے مطابق پارٹی نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے براہ راست اسلام آباد میں داخل ہونے کے بجائے صوبے میں کارکنوں کو متحرک رکھنے اور دارالحکومت کے قریب احتجاجی کیمپ لگانے کا منصوبہ بنایا ہے
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کو ہٹانے یا گورنر راج نافذ کرنے کی کسی بھی کوشش کو انتہائی حساس معاملہ قرار دیا جا رہا ہے صوبہ پہلے ہی دہشت گردی، سیاسی کشیدگی اور سرحدی تناؤ کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی سیاسی اور سکیورٹی بحران موجود ہیں
ایسے ماحول میں ایک منتخب صوبائی حکومت کو برطرف کرنے کا اقدام مزید سیاسی کشیدگی پیدا کر سکتا ہے خیبر پختونخوا میں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا مسئلہ پہلے ہی موجود ہے اور سیاسی محاذ آرائی میں مزید اضافہ دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے
مجموعی طور پر صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھنا اور وفاق، صوبائی حکومت، سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی اداروں کے درمیان ایک مشترکہ قومی حکمت عملی تشکیل دینا ضروری ہے ماضی کے تجربات سے سبق نہ سیکھنے اور بار بار وہی سیاسی و انتظامی غلطیاں دہرانے کا نتیجہ مزید عدم استحکام کی صورت میں نکل سکتا ہے





