Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کرپٹو کرنسی پر اسلامی دنیا میں اختلاف، پاکستان میں نئی بحث چھڑ گئی

کرپٹو کرنسی پر اسلامی دنیا میں اختلاف، پاکستان میں نئی بحث چھڑ گئی

پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے استعمال اور شرعی حیثیت پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے جون میں معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی سمیت 6 علما نے فتویٰ جاری کرتے ہوئے اشیا کی خریداری کے لیے کرپٹو کرنسی استعمال کرنے کو ناجائز قرار دیا تھا فتویٰ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کرپٹو محض ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں درج فرضی اعداد ہیں اور شریعت کی نظر میں انہیں مال کی حیثیت حاصل نہیں
اس فتویٰ کے بعد پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن صاقب نے وضاحت کی ضرورت پر زور دیا ان کا کہنا تھا کہ کرپٹو کرنسی صرف ایک ہی قسم کے ڈیجیٹل اثاثے کا نام نہیں بلکہ اس میں مختلف اقسام شامل ہیں، جن میں خالص ڈیجیٹل کرنسیاں، سونے سے منسلک ٹوکن، اسٹیبل کوائنز اور پیچیدہ مالیاتی آلات شامل ہیں۔ بعض ڈیجیٹل اثاثے حقیقی دولت، قیمتی دھاتوں یا کرنسیوں پر قانونی حق بھی فراہم کرتے ہیں
ماہرین کے مطابق اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ ہر قسم کے ڈیجیٹل اثاثے کو ایک ہی شرعی حکم کے تحت دیکھا جا سکتا ہے یا مختلف اقسام کے اثاثوں کی الگ الگ حیثیت طے کرنا ضروری ہے بلاک چین ٹیکنالوجی بعض صورتوں میں صرف ریکارڈ رکھنے کے نظام کے طور پر کام کرتی ہے، جس طرح بینکوں میں لین دین کا ریکارڈ محفوظ کیا جاتا ہے
پاکستان کے لیے یہ بحث اس لیے بھی اہم ہے کہ ملک نے کئی برس تک کرپٹو سے متعلق بینکاری سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کیے رکھیں، لیکن حالیہ عرصے میں پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور حکومت نے کرپٹو شعبے کو منظم کرنے کی جانب پیش رفت شروع کی ہے
بلال بن صاقب نے سینیٹ کی ایک کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان دنیا کی تیسری بڑی کرپٹو مارکیٹ بن چکا ہے اور ملک میں تقریباً 40 ملین کرپٹو اکاؤنٹس موجود ہیں یہ تعداد ملک کے فعال ٹیکس دہندگان کی تقریباً 6 ملین تعداد سے کہیں زیادہ ہے
مسلمان دنیا میں کرپٹو کرنسی کے شرعی مقام پر ابھی اتفاق رائے موجود نہیں۔ 2014 سے 2024 تک جاری کیے گئے 32 عوامی فتاویٰ کے ایک مطالعاتی جائزے کے مطابق 17 فتاویٰ میں کرپٹو کرنسی کو مکمل طور پر ناجائز قرار دیا گیا، 10 میں مخصوص شرائط کے ساتھ اجازت دی گئی جبکہ 5 میں محتاط یا غیر جانب دار مؤقف اختیار کیا گیا
اس بحث میں بنیادی سوالات میں یہ شامل ہیں کہ کرپٹو کرنسی کو مال اور جائیداد سمجھا جائے یا زر اور تبادلے کا ذریعہ، اس کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور شفافیت کی کمی کس حد تک غرر پیدا کرتی ہے، کرپٹو میں سرمایہ کاری کس حد تک سٹے بازی یا جوئے کے قریب پہنچ جاتی ہے اور اس کے معاشرے پر ممکنہ نقصانات کیا ہیں
مصر کے دارالافتاء نے 2017 میں بٹ کوائن کو حرام قرار دیا تھا جبکہ بھارت کے دارالعلوم دیوبند نے 2018 میں اسی نوعیت کا مؤقف اختیار کیا سعودی عرب اور پاکستان نے بھی طویل عرصے تک کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت دینے سے گریز کیا
تاہم وقت کے ساتھ ساتھ بعض اسلامی اداروں کے مؤقف میں تبدیلی بھی دیکھی گئی ہے انڈونیشیا کی مجلس علما انڈونیشیا اور ملائیشیا کی شریعہ ایڈوائزری کونسل نے 2023 تک مختلف شرائط کے تحت بعض ڈیجیٹل اثاثوں کی اجازت کی طرف پیش رفت کی۔ انڈونیشیا کی نہضۃ العلما نے بٹ کوائن کو مال اور تبادلے کے ذریعے کے طور پر تسلیم کرنے کی جانب بھی قدم بڑھایا
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں اور غیر مرکزی کرپٹو کرنسیوں کے درمیان فرق کو سمجھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ ہر ڈیجیٹل اثاثہ ایک جیسی نوعیت نہیں رکھتا کسی اثاثے کی شرعی حیثیت اس کے ڈھانچے، استعمال، پشت پناہی اور اس سے وابستہ حقوق و ذمہ داریوں کی بنیاد پر مختلف ہو سکتی ہے
مضمون کے مصنفین کے مطابق کرپٹو کرنسی کا معاملہ صرف ٹیکنالوجی یا سرمایہ کاری تک محدود نہیں بلکہ یہ اس بنیادی سوال کو بھی سامنے لاتا ہے کہ جدید دنیا میں پیسے کی حقیقت کیا ہے اور مالیاتی نظام کس طرح کام کرتا ہے ان کے مطابق اسلامی مالیات میں حکومتی قرضوں، مالیاتی معاہدوں، حصص کی دوبارہ خریداری اور موجودہ کرنسیوں کی نوعیت پر بھی وسیع علمی بحث کی ضرورت ہے
مصنفین نے زور دیا کہ علما، ماہرین معیشت اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے درمیان براہ راست مکالمہ ضروری ہے تاکہ کرپٹو کرنسی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھ کر شرعی اصولوں کی روشنی میں بہتر فیصلے کیے جا سکیں
پاکستان میں کرپٹو مارکیٹ کے تیزی سے پھیلنے اور حکومت کی جانب سے اس شعبے کو منظم کرنے کی کوششوں کے باعث یہ بحث مزید اہم ہوگئی ہے کرپٹو کرنسی کی شرعی حیثیت پر حتمی اور جامع اتفاق رائے ابھی سامنے نہیں آیا اور مختلف اسلامی اداروں کی آرا مستقبل میں بھی ٹیکنالوجی، ضابطہ کاری اور مالیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ بدل سکتی ہیں

قومی خبریں سے مزید