Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

شاعری نے مجھے پناہ دلوائی، چلی کی فنکارہ کی برطانیہ میں جلاوطنی کی داستان

شاعری نے مجھے پناہ دلوائی، چلی کی فنکارہ کی برطانیہ میں جلاوطنی کی داستان

چلی کی معروف فنکارہ اور شاعرہ سیسیلیا ویکونیا نے انکشاف کیا ہے کہ 1973 میں جنرل آگستو پینوشے کی فوجی بغاوت کے بعد ان کی شاعری اور فن پارے ہی وہ ثبوت بنے جن کی بنیاد پر برطانوی حکام نے انہیں سیاسی پناہ دی۔

ویکونیا 24 سال کی عمر میں برٹش کونسل کی اسکالرشپ پر سینٹیاگو سے لندن پہنچی تھیں، جہاں انہیں سلیڈ اسکول آف آرٹ میں تعلیم حاصل کرنا تھی۔ ان کا قیام مختصر مدت کے لیے تھا اور انہوں نے اپنا سامان بھی مکمل طور پر نہیں کھولا تھا کہ ستمبر 1973 میں جنرل پینوشے نے جمہوری طور پر منتخب صدر سلواڈور آلینڈے کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

بغاوت کے فوراً بعد لندن میں موجود چند چلی کے طلبہ کو جامعات سے نکال دیا گیا اور انہیں برطانیہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔ ویکونیا کے وکلا نے ہوم آفس کی سماعت میں مؤقف اختیار کیا کہ اگر انہیں چلی واپس بھیجا گیا تو ان کی جان کو خطرہ ہوگا۔ وکلا نے ان کی شائع شدہ کتاب “سابورامی” بھی پیش کی، جس میں فوجی بغاوت کے بعد چلی کی صورتحال اور اس کے اثرات کو فن اور شاعری کے ذریعے بیان کیا گیا تھا۔

عدالت نے ویکونیا کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ واقعہ ان کی زندگی کی اہم ترین کہانیوں میں سے ایک ہے۔

پانچ دہائیوں بعد ویکونیا ایک سیاسی اور سماجی شعور سے بھرپور نمائش کے ساتھ دوبارہ برطانیہ پہنچی ہیں، وہ ملک جسے جلاوطنی کے برسوں میں انہوں نے اپنا گھر سمجھنا شروع کیا تھا۔ ان کی زندگی اور فن کی یہ داستان چلی کی فوجی آمریت، جلاوطنی اور فنکارانہ اظہار کے درمیان گہرے تعلق کو بھی اجاگر کرتی ہے

قومی خبریں سے مزید