Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اے آئی ہیکس کی نئی لہر: بینک محفوظ نہ صحت کا نظام،مصنوعی ذہانت کے ایجنٹ خود ویب سائٹس اور حکومتی نظام میں گھسنے لگے

اے آئی ہیکس کی نئی لہر: بینک محفوظ نہ صحت کا نظام،مصنوعی ذہانت کے ایجنٹ خود ویب سائٹس اور حکومتی نظام میں گھسنے لگے

مصنوعی ذہانت کے جدید ایجنٹس سے جڑے حالیہ سائبر حملوں نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی تشویش پیدا کر دی ہے،ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں اے آئی ایجنٹس نے انسانی ہدایت کے بغیر سکیورٹی رکاوٹیں عبور کیں، حساس ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی اور بعض صورتوں میں اپنی سرگرمیوں کے شواہد چھپانے کی کوشش بھی کی
حالیہ تحقیقات کے مطابق اوپن اے آئی کے بعض تجرباتی ایجنٹس نے آسٹریلیا کے سرکاری صحت کے نظام کی ویب سائٹ تک غیر مجاز رسائی حاصل کی، جہاں انہوں نے ایسے ڈیٹا تک پہنچنے کی کوشش کی جو عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں تھا،ماہرین نے اسے کسی فرنٹیئر اے آئی ماڈل کی کسی دوسرے ملک کے سرکاری نظام تک رسائی کے ابتدائی نمایاں واقعات میں شمار کیا ہے
اس سے پہلے اوپن اے آئی نے اعتراف کیا تھا کہ اس کے بعض ماڈلز نے تربیتی اور سائبر سکیورٹی تجربات کے دوران اپنے لیے مقرر کردہ حفاظتی حدود کو عبور کیا، انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور اوپن سورس اے آئی پلیٹ فارم ہگنگ فیس کے نظام میں غیر مجاز طور پر داخل ہوئے،کمپنی کے مطابق ماڈلز نے غیر مجاز ذرائع سے رابطہ قائم کرنے اور مشترکہ انفراسٹرکچر کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کی
ایک اور تحقیقات میں معلوم ہوا کہ اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس نے کم از کم 55 ویب سائٹس سے ڈیٹا حاصل کیا، جن میں امریکی سرکاری اداروں کی ویب سائٹس بھی شامل تھیں،فنانشل ٹائمز کے مطابق بعض سرگرمیوں میں ایسے طریقے استعمال ہوئے جن سے لاگز اور سرگرمیوں کے ریکارڈ کو بعد میں جانچنا مشکل ہو گیا
صرف اوپن اے آئی کے ماڈلز ہی زیر بحث نہیں، اینتھروپک نے اپنی سائبر سکیورٹی تحقیقات میں ایسے کم از کم 4 واقعات کی نشاندہی کی جن میں اس کے کلاڈ ماڈلز نے حقیقی اداروں کے نظام تک غیر مجاز رسائی حاصل کی،کمپنی نے تقریباً 48 کروڑ ٹرانسکرپٹس کا وسیع جائزہ بھی شروع کیا تاکہ ایسے مزید واقعات سامنے لائے جا سکیں
اسی دوران سائبر جرائم کی دنیا میں اے آئی ٹولز کی باقاعدہ خرید و فروخت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے،ہالسیون کی تحقیق کے مطابق زیر زمین سائبر کرائم فورمز پر اے آئی ہیکنگ ٹولز کے اشتہارات چند ماہ میں ماہانہ 50 سے بھی کم سے بڑھ کر 1,400 سے زیادہ ہو گئے،تاہم محققین کو اب تک ایسے مکمل خودکار اے آئی حملوں کے شواہد نہیں ملے جو انسانی مداخلت کے بغیر پورا سائبر حملہ خود چلا سکیں
حالیہ واقعات میں جنوبی کوریا کے بڑے بینک بھی اے آئی سے متعلق ایک حملے کا نشانہ بنے، جہاں چینی ساختہ اے آئی سائبر سکیورٹی ٹول کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم 7 مالیاتی اداروں سے تقریباً 68,000 افراد کا ذاتی ڈیٹا چوری کیا گیا
ماہرین کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب اے آئی ایجنٹس کو انٹرنیٹ، پروگرامنگ ٹولز اور مختلف کمپیوٹر نظام تک براہ راست رسائی حاصل ہو گی تو ان کی نگرانی کس طرح کی جائے گی۔ حالیہ واقعات نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ مسئلہ صرف روایتی ہیکرز کے ہاتھوں اے آئی کے غلط استعمال کا نہیں رہا، بلکہ خود اے آئی ایجنٹس کی غیر متوقع سرگرمیاں بھی سائبر سکیورٹی کے لیے ایک نیا چیلنج بن رہی ہیں

قومی خبریں سے مزید