Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

فرانس میں طلبہ کا احتجاج 40 سے زائد شہروں تک پھیل گیا، 2 لاکھ 66 ہزار افراد سڑکوں پر

فرانس میں طلبہ کا احتجاج 40 سے زائد شہروں تک پھیل گیا، 2 لاکھ 66 ہزار افراد سڑکوں پر

فرانس میں طلبہ کا احتجاج ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو گیا ہے اور 40 سے زائد شہروں تک پھیلنے کے بعد ہزاروں اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو متاثر کر رہا ہے،6 اکتوبر کو وزارت داخلہ کے مطابق تقریباً 2 لاکھ 66 ہزار افراد نے ملک بھر میں مظاہروں میں شرکت کی، جن میں پیرس میں 56 ہزار افراد شامل تھے، جبکہ طلبہ تنظیموں نے شرکا کی تعداد ساڑھے 4 لاکھ تک بتائی
احتجاج کا آغاز ستمبر میں پیرس کے مضافاتی علاقے کریتے کے ایک ہائی اسکول سے ہوا تھا، جہاں طلبہ نے اساتذہ کی کمی، خالی تدریسی اسامیوں، ناکافی سہولیات اور خستہ حال اسکولوں کے خلاف آواز اٹھائی،بعد ازاں یہ تحریک مارسی، لیون، لِل، نانت، مون پلیے، بورڈو، تولوز اور رین سمیت ملک کے بڑے شہروں تک پھیل گئی،اب یونیورسٹی طلبہ بھی تحریک میں شامل ہو چکے ہیں اور تقریباً 40 فیصد سرکاری اعلیٰ تعلیمی اداروں میں احتجاج یا رکاوٹیں رپورٹ ہوئی ہیں
طلبہ بہتر تعلیمی سہولیات، مزید اساتذہ، کم تعداد والی جماعتوں، اسکولوں کی مرمت اور یونیورسٹی داخلوں کے نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں،بعض طلبہ کا کہنا ہے کہ کئی اسکولوں میں پانی کا رساؤ، چوہوں کی موجودگی اور انتہائی خراب عمارتیں معمول بن چکی ہیں
احتجاج کے دوران پیرس، رین، اسٹراس برگ اور تولوز سمیت بعض شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں،پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کیے جبکہ 6 اکتوبر کو تقریباً 488 افراد کو گرفتار کیا گیا،وزارت داخلہ کے مطابق سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں
فرانسیسی حکومت نے طلبہ کے مطالبات پر کارروائی کا وعدہ کیا ہے،وزیراعظم سباستین لکورنو نے غیر حاضر اساتذہ کی جگہ فوری تعیناتی، اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت، تعلیمی نظام میں اصلاحات اور طلبہ کے مطالبات پر اکتوبر کے اختتام تک ابتدائی فیصلے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے،تاہم طلبہ تنظیموں نے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے

قومی خبریں سے مزید