بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی کامیابی نے یمن میں نئی جنگ بھڑکا دی، پاکستان اور ترکی بھی سعودی دفاع میں شامل
یمن میں ایران نواز حوثیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی فوجی پیش قدمی نے بحیرۂ احمر کے اہم بحری راستے کو ایک بار پھر عالمی کشیدگی کا مرکز بنا دیا ہے،حوثیوں نے حالیہ ہفتوں میں بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے اطراف اہم مقامات پر قبضہ مضبوط کیا، جس کے بعد سعودی عرب نے انہیں پیچھے دھکیلنے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کی تیاری شروع کر دی ہے
سعودی منصوبے کے تحت زمینی کارروائی بنیادی طور پر سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کریں گی، جبکہ سعودی فضائیہ انہیں فضائی مدد فراہم کرے گی،امریکی انٹیلی جنس بھی سعودی کارروائیوں میں معاونت کر رہی ہے
اس صورتحال میں پاکستان اور ترکی کا کردار بھی اہم ہو گیا ہے،5 اکتوبر کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے اگست میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا اور سعودی عرب میں پاکستانی اور ترک فوجی صلاحیتیں تیزی سے تعینات کرنے پر اتفاق کیا،معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق پاکستانی اور ترک افواج معاون کردار ادا کر رہی ہیں، جس میں نگرانی اور انٹیلی جنس سمیت دیگر دفاعی امور شامل ہیں، جبکہ یمن میں جاری زمینی جنگ اور علاقوں کی واپسی کی کارروائی سعودی افواج اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کر رہی ہیں،پاکستان نے اپنے فوجیوں کی تعداد یا آپریشنل تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم دفاعی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے پاکستانی فوجی زمینی کاروائیوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں
رائٹرز کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ماہ 4 مال بردار طیاروں کے ذریعے عدن میں فضائی دفاعی نظام، ہلکی توپ خانے کی صلاحیت، ڈرونز اور ڈرون شکن نظام بھیجا تھا،پاکستانی فوجی مشیر بھی سعودی اہلکاروں کے ساتھ یمنی فورسز کی معاونت کر رہے ہیں،اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب میں اپنی سرحدوں اور اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے 30,000 سے 40,000 فوجی تعینات کیے ہیں، تاہم اسلام آباد نے ابھی تک سرکاری طور پر یمن کے اندر جنگی کارروائی کے لیے فوج بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا
ترکی کا کردار اس وقت نسبتاً کم واضح ہے،سعودی عرب کے پاس پہلے سے موجود ترک ساختہ ڈرونز یمن میں استعمال کیے جا رہے ہیں، لیکن ترک حکومت نے یمن میں براہِ راست جنگی کارروائی کے لیے اپنی فوج بھیجنے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی،ترکی کے پارلیمانی قواعد بھی بیرون ملک فوجی تعیناتی کے لیے اہم رکاوٹ ہیں
یوں فی الحال آفیشلی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پاکستان اور ترکی سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن میں براہِ راست فضائی حملے کر رہے ہیں،دستیاب معلومات کے مطابق ان کا موجودہ کردار بنیادی طور پر سعودی عرب کے دفاع، انٹیلی جنس، نگرانی، فوجی سازوسامان اور دفاعی صلاحیتوں کی معاونت تک محدود ہے، جبکہ بظاہر یمن کے اندر براہِ راست کارروائی سعودی اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کر رہی ہیں
یہ پیش رفت 2015 کے بعد یمن کی جنگ میں ایک اہم موڑ بن سکتی ہے،حوثیوں کی بحیرۂ احمر میں بڑھتی ہوئی گرفت نے نہ صرف سعودی عرب کو دوبارہ بڑے فوجی آپریشن کی طرف دھکیلا ہے بلکہ پاکستان اور ترکی کو بھی ایک ایسے علاقائی دفاعی بندوبست میں داخل کر دیا ہے جس کے نتیجے میں یمن کا تنازعہ دوبارہ ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے





