ٹرمپ کے مقرر کردہ جج کی آئی سی ای پر سخت برہمی، غلط گرفتاریاں چھپانے کے لیے ریکارڈ میں جعل سازی کا الزام
نیویارک: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقرر کیے گئے وفاقی جج گیری آر براؤن نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ، آئی سی ای، کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ایجنسی کے اہلکاروں نے نیویارک میں دو افراد کو غلط طور پر گرفتار کرنے کے بعد اپنی کارروائی چھپانے کے لیے سرکاری ریکارڈ میں غلط معلومات درج کیں اور عدالت میں متضاد اور گمراہ کن بیانات دیے
ایسٹرن ڈسٹرکٹ آف نیویارک کے جج گیری براؤن نے 28 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ آئی سی ای اہلکاروں کی جانب سے دی گئی گواہی میں ایسی تضادات موجود تھے جن سے بظاہر جھوٹی گواہی دینے کا معاملہ بھی سامنے آتا ہے،ان کے مطابق اہلکاروں نے قانون کی مناسب تربیت اور گرفتاری کے قانونی تقاضوں کی سمجھ کے فقدان کا مظاہرہ کیا
یہ معاملہ 6 مئی کو برونکس کے علاقے نارووڈ میں آئی سی ای کی کارروائی سے متعلق ہے، جہاں اہلکار دو مطلوب افراد کو گرفتار کرنے پہنچے لیکن 26 سالہ ڈومینیکن تارک وطن اینجل جیزس المونٹے اور 19 سالہ امریکی شہری جیوری کونسیپسیون کو گرفتار کر لیا،جج کے مطابق دونوں میں مطلوب افراد سے نمایاں جسمانی فرق تھا
المونٹے کو گرفتار کرنے کے بعد آئی سی ای اہلکاروں نے بعد میں ایک انتظامی وارنٹ پیش کیا،جج براؤن کے مطابق اس وارنٹ میں یہ ظاہر کیا گیا کہ گرفتاری سے پہلے سرکاری ڈیٹا بیس میں المونٹے کے امیگریشن اسٹیٹس کی تصدیق ہوچکی تھی، جبکہ شواہد سے معلوم ہوا کہ اہلکاروں نے پہلے اسے گرفتار کیا اور اس کے بعد اس کی معلومات سسٹم میں داخل کیں،جج نے اسے کارروائی کو جائز ثابت کرنے کے لیے تیار کیا گیا ایک غلط دستاویز قرار دیا
جج نے یہ بھی کہا کہ آئی سی ای اہلکاروں کا یہ دعویٰ کہ المونٹے کو گرفتار کرنے سے پہلے انہوں نے اسے منشیات فروخت کرتے دیکھا تھا، شواہد سے ثابت نہیں ہوتا،المونٹے کے پاس نہ منشیات ملی اور نہ رقم یا منشیات سے متعلق کوئی دوسرا سامان،جج نے اہلکاروں کی اس گواہی کو منظم طور پر گھڑی گئی کہانی کے تمام آثار رکھنے والی قرار دیا
دوسری گرفتاری میں 19 سالہ امریکی شہری جیوری کونسیپسیون کو اہلکاروں نے سڑک پر پکڑ کر زمین پر گرا دیا،وہ سر کے دائیں جانب زخمی ہوا اور اسے ٹانکے لگوانے پڑے،واقعے کی ویڈیو میں ایک نقاب پوش آئی سی ای اہلکار کو بندوق ہاتھ میں لیے اس کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا گیا،کونسیپسیون کا کہنا ہے کہ وہ بال کٹوانے جا رہا تھا اور اہلکاروں نے اس سے شناختی دستاویز بھی نہیں مانگی
جج براؤن نے کونسیپسیون کی گرفتاری کو غیر قانونی اور انتہائی پُرتشدد قرار دیا،انہوں نے آئی سی ای کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ اہلکاروں نے محض شناخت میں غلطی کی تھی اور مطلوب شخص کی جگہ غلط افراد کو گرفتار کر لیا
اہم بات یہ ہے کہ گیری براؤن کو خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2019 میں وفاقی جج مقرر کیا تھا،ان کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں وفاقی ججز کی جانب سے آئی سی ای کی گرفتاریوں، وارنٹ کے طریقہ کار اور تارکین وطن کے قانونی حقوق سے متعلق متعدد مقدمات میں سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں
آئی سی ای نے فیصلے پر فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا،جج براؤن نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئی سی ای کی کارروائی میں سامنے آنے والی خامیوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات کی وضاحت کرے، جبکہ آئندہ کارروائی میں ممکنہ پابندیوں، معاملہ متعلقہ حکام کو بھیجنے یا توہین عدالت جیسے اقدامات کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے





