Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ انتظامیہ میں محکمہ انصاف کے سول رائٹس ڈویژن میں متنازعہ بھرتیاں، 300 سے زائد تجربہ کار افسر رخصت

ٹرمپ انتظامیہ میں محکمہ انصاف کے سول رائٹس ڈویژن میں متنازعہ بھرتیاں، 300 سے زائد تجربہ کار افسر رخصت

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت محکمہ انصاف کے سول رائٹس ڈویژن میں بڑے پیمانے پر افرادی تبدیلی کے دوران ایسے وکلا کی بھرتیاں کی گئی ہیں جن کے ماضی کے کام، تجربے اور بعض معاملات میں عوامی بیانات ماضی کے بھرتی معیار پر سوالات اٹھا سکتے تھے،نیویارک ٹائمز کی 6 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق حالیہ عرصے میں تقریباً 130 وکلا ڈویژن میں شامل ہوئے ہیں، جبکہ 2025 کے آغاز سے 300 سے زائد غیر سیاسی مستقل ملازمین محکمہ چھوڑ چکے ہیں
رپورٹ کے مطابق نئے آنے والوں میں ایک سابق پراسیکیوٹر بھی شامل ہے جسے ایک اہم قتل کے مقدمے سے دفاعی ٹیم کی حکمت عملی سے متعلق دستاویزات دیکھنے کے بعد الگ کر دیا گیا تھا،ایک اور نئے وکیل کا تعلق جوئے کے کاروبار سے رہا ہے اور اس نے 2017 کے لاس ویگاس قتل عام کے بارے میں سازشی نظریات کو فروغ دیا تھا، جبکہ فلوریڈا کے ایک کارکن کو مقامی انتخابی نظام ہیک کرنے کے جرم میں 20 دن قید کی سزا بھی بھگتنا پڑی تھی،نیویارک ٹائمز نے تقریباً ایک درجن حالیہ بھرتیوں کے عدالتی ریکارڈ، سوشل میڈیا سرگرمی اور انٹرویوز کی بنیاد پر ان کے ماضی کا جائزہ لیا ہے
محکمہ انصاف کے سول رائٹس ڈویژن کی سربراہ ہارمیت ڈھلن نے سابقہ عملے کے برعکس نئی بھرتیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے ڈویژن کو تبدیل کر رہی ہیں جس میں ان کے مطابق طویل عرصے تک لبرل سوچ غالب رہی،محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ نئی ٹیم تمام امریکی شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے
رپورٹ کے مطابق ڈھلن کی سربراہی میں ڈویژن کی ترجیحات بھی تبدیل ہوئی ہیں،سابقہ طور پر سول رائٹس ڈویژن نسلی امتیاز، ووٹنگ رائٹس، پولیس کے اختیارات کے غلط استعمال اور دیگر امتیازی سلوک کے خلاف وفاقی کارروائی کا اہم مرکز تھا، جبکہ موجودہ انتظامیہ کے تحت بندوق رکھنے کے حقوق، غیر قانونی امیگریشن، مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور بعض قدامت پسند پالیسی ترجیحات سے متعلق معاملات زیادہ نمایاں ہو گئے ہیں
بلومبرگ لا کے مطابق گزشتہ 19 ماہ کے دوران ڈویژن کے 400 سے زائد وکلا میں سے 300 سے زیادہ تجربہ کار وکلا رخصت ہو چکے ہیں،محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ وہ نئی بھرتیوں کے ذریعے خالی آسامیوں کو پُر کر رہا ہے اور مزید وکلا کی بھرتی جاری ہے
ہیومن رائٹس واچ کی اگست 2026 کی ایک الگ رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں وفاقی سول رائٹس کے نفاذ کے نظام میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، متعدد تجربہ کار وکلا اور تفتیش کار محکمہ چھوڑ گئے اور بعض سابقہ سول رائٹس مقدمات میں محکمہ انصاف نے اپنی پوزیشن تبدیل کی
ہارمیت ڈھلن نے اپریل 2025 میں محکمہ انصاف کے سول رائٹس ڈویژن کی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا تھا،محکمہ انصاف کے مطابق صدر ٹرمپ نے انہیں دسمبر 2024 میں نامزد کیا تھا اور سینیٹ نے 3 اپریل 2025 کو ان کی منظوری دی تھی،انڈین نژاد اٹھاون سالہ ہارمیت ڈھلن چندی گڑھ انڈیا میں پیدا ہوئیں پلی بڑھی برانکس نیویارک میں ہیں ، جسٹس ڈیپارٹمنٹ میں بطور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل آئیں پھر انہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جسٹس ڈیپارٹمنٹ میں سول رائٹس کے سربراہ کی حیثیت سے نامزد کیا تھا

قومی خبریں سے مزید